Resilient soul | Observer of global shifts | Unfiltered thoughts, deep emotions, and a hopeful heart.

خطبۂ فدک جب دخترِ رسولؐ نے تاریخ کے ایوان میں حق کی گواہی دی یہ فدک کی زمین کا مقدمہ ہی نہیں تھا؛ یہ قرآن، حق، اختیار اور رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کے راستے کا سوال بھی تھا۔ کچھ آوازیں وقت کے شور میں دب جاتی ہیں، مگر تاریخ کے ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کچھ خطبات اپنے عہد کے حکمرانوں سے مخاطب ہوتے ہیں، لیکن ان کے سوالات آنے والی صدیوں تک انسانیت کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ خطبۂ فدکیہ بھی ایسا ہی ایک تاریخی خطاب ہے، جس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے محض ایک جائیداد کے مسئلے پر گفتگو نہیں کی، بلکہ توحید، رسالت، قرآن، عدل، دینی ذمہ داری اور امت کے طرزِ عمل پر ایک جامع فکری مؤقف پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد پیش آنے والے حالات میں سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یہ خطاب اسلامی تاریخ کے اہم ترین خطبات میں شمار ہوتا ہے۔ شیعہ روایت میں اسے دفاعِ حق اور ولایت کے تناظر میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس کا متن قدیم اسلامی ادبی و تاریخی مصادر میں بھی نقل ہوا ہے۔ فدک کیا تھا، اور اس کا مسئلہ اتنا اہم کیوں ہوا؟ فدک مدینہ کے قریب ایک آباد علاقہ تھا، جس کے بارے میں اسلامی تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاصل کیا تھا اور اس کی آمدنی آپ کے اختیار میں تھی۔ قرآن مجید میں مالِ فَے کے احکام سورۂ حشر کی آیات 6 تا 7 میں بیان ہوئے ہیں۔ فدک کی ملکیت، اس کی حیثیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اسکے انتظام کے بارے میں اسلامی تاریخ میں اختلافی بحث موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فدک کے معاملے پر اپنا حق پیش کیا۔ یہ حق آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں عطا کیا تھا اسکے ساتھ وراثت کا مسئلہ بھی آپ کے استدلال میں نمایاں ہے۔ دوسری طرف، اہلِ سنت کی معروف روایت میں خلیفہء اول سے منقول حدیث ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے، جو کچھ چھوڑیں وہ صدقہ ہے اس فیصلے کی بنیاد بنتی ہے۔ یوں یہ معاملہ صرف زمین کے انتظام کا نہیں رہا، بلکہ اس میں قرآنی استدلال، روایت کی حجیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلِ بیت کے حقوق جیسے بنیادی سوالات شامل ہوگئے یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے اگر معاملہ صرف مالی منفعت کا ہوتا تو اس پر ایک طویل اور غیر معمولی خطاب کیوں دیا جاتا؟ خطبے کے متن کو پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی گفتگو کا آغاز فدک سے نہیں کیا۔ آپ نے پہلے اللہ کی حمد، توحید، رسالت، قرآن اور اسلامی احکام کی حکمت بیان کی۔ پھر اپنے مطالبے اور امت کی ذمہ داریوں کی طرف آئیں۔ یہی ترتیب خطبے کی فکری وسعت کو نمایاں کرتی ہے۔
حریم ولایت کی پہلی پاسدار ❓ حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا نے خطبہ فدکیہ اور خطابت کے ہتھیار سے امامت کا دفاع کس طرح فرمایا؟ ❓ آپ سلام‌اللہ‌علیہا نے کعبہ کی لازوال تشبیہ کے ذریعے امام کا کیا مقام بیان فرمایا؟ ❓ آپ سلام‌اللہ‌علیہا نے وصیت فرما کر اپنی قبرِ مطہر کو مخفی اور بے نشان رکھنے کا تاریخی فیصلہ کیوں فرمایا؟ اس بصیرت افروز تحریر کا کامل متن اور معتبر تاریخی مآخذ پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں: 🔗 ur.imamali.net/33413 #ImamAliHolyShrine #ImamAli #Najaf
1
2
11
169
The Amazon has no vote, no lobbyists, and no seat at the negotiating table. Yet its survival may matter more to humanity than the fortunes of those who seek to exploit it.
The Whole World should thank Brazilians 🇧🇷 ❤️ Most people have no idea how important these elections were. It was the difference between saving the Amazon Rainforest or its total destruction in the hands of Trump’s oligarchs. The lungs of the Earth are safe, for now 🤞
17
Don't forget the power of emerging Global South That comprise of almost whole African, Asian and South American continent لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے کوئی اپنی ہی نظر سے تو ہمیں دیکھے گا ایک قطرے کو سمندر نظر آئیں کیسے
Is anything even going right in the world anymore?🤔 Britain’s Defence Secretary warns the country to prepare for WAR within the next 1,000 days. Pentagon is planning to keep major U.S. military bases operational for at least 90 days without outside support, even if power grids and supply chains collapse.
40
The world mistook ideological conviction for sectarian emotion and underestimated the strategic power of a people shaped by centuries of resistance. Karbala is not merely history, it is a political and moral consciousness. That is why resistance cannot be measured by military power alone.
شیعہ مسلمانوں میں شہادت کا جزبہ سنی مسلمانوں سے زیادہ ہے ،وہ زیادہ متحد بھی ہیں ،ان کے خلاف کبھی نہ جاؤ نتائج بھیانک ہونگے ، عمران نے ایران جنگ سے متعلق دنیا کو پہلے خبر دار کیا تھا
1
4
166
Algorithm of Life retweeted
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِدارا علامہ محمد اقبال
3
16
101
1,719
The real distinction is not between those who possess oil and those who do not but between those who can convert their resources into strategic autonomy and those whose security depends on remaining useful to a stronger power. Oil can purchase influence, weapons and alliances; it cannot purchase an independent foreign policy. Yet, let us not romanticise resistance either self-respect is not merely defiance, but the ability to make sovereign decisions and bear their consequences. A nation’s dignity is measured not by whom it confronts but by how little it must compromise its principles to remain secure.
If your power, your control, and your very position rest solely upon oil, then you are nothing more than the fuel-destined to be consumed by the one who owns the engine. The most powerful photo depicting the people with self respect VS the people with the borrowed respect.
1
35
The real significance lies not in the symbolism of a meeting, but in whether it produces a regional order independent of external coercion. Iran, Saudi Arabia, Türkiye and Pakistan have enough strategic weight to reshape the region’s security architecture provided dialogue replaces proxy confrontation and sovereignty is respected consistently. Any credible framework must also address Palestine and Yemen including the realities that have sustained Ansarallah’s resistance. Regional security cannot be selective nor can it be built by demanding restraint from some while exempting others. The ultimate test is whether regional powers can resolve their differences without Washington or Tel Aviv dictating the terms.
Today’s historic meeting in Iran sends a CLEAR SIGNAL to the world. After decades of calling for regional security led by regional nations, Iran is moving toward a new framework alongside Saudi Arabia, Turkey, and Pakistan. The message is CLEAR: Regional peace and security must be built FROM WITHIN the region, by the nations of the region themselves. In 5,225 Years of History, Iran Is More Powerful Than EVER. Today’s meeting on the eve of Israel’s elections is a SIGNAL to Netanyahu: Your Fall is Near Bibi. Jail awaits you.
1
68
Peace doesn’t come with company
5
141
Mistakes teach best
2
62
The art of the deal has entered its most surreal phase. Perhaps the world misunderstood him all along. The poor peace-maker had to negotiate with himself in three different roles just to get the message across.
Trump is having his own negotiations
2
41
Not every craving is a physcological flaw, sometimes it’s a human need we have been taught to treat as a weakness.
“Every pain, addiction, anguish, longing, depression, anger or fear is an orphaned part of us seeking joy, some disowned shadow wanting to return to the light.” ~ Jacob Nordby
2
4
85
When Sayeda Fatima AS is mentioned, questions will inevitably arise and those questions will reach the very seat of power.
1
11
140
أَشْهَدُ أَنَّ فَاطِمَةَ الصِّدِّيقَةُ الْكُبْرَى کیا خطبۂ فدکیہ صرف شیعوں کیلئے اہم ہے؟ اس سوال کا جواب خطبے کے وسیع تاریخی اور اخلاقی مضامین میں موجود ہے۔ خطبۂ فدک شیعہ روایت میں خصوصی مقام رکھتا ہے، لیکن اسکے متن میں اللہ کی حمد، رسالت، قرآن، عدل، انسانی ذمہ داری اور دینی اصولوں پر گفتگو ایسے موضوعات ہیں جن پر تمام مسلمان غور کرسکتے ہیں۔ اس خطبے کی تاریخی اہمیت کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ہر مسئلے پر تمام مکاتبِ فکر کا اتفاق ہے۔ اتفاق اور اختلاف کو الگ رکھنا چاہیے۔ ایک مسلمان اسکے قرآنی استدلال کا مطالعہ کرسکتا ہے، دوسرا اسکے تاریخی پس منظر پر تحقیق کرسکتا ہے اور تیسرا اسکے اخلاقی پیغام سے رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔ علمی مکالمے کا مقصد اختلاف کو چھپانا نہیں، بلکہ اسے سمجھنا ہے۔ اسی لیے خطبۂ فدک کا مطالعہ کسی گروہ کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے بجائے، تاریخ کے پیچیدہ سوالات کو سمجھنے اور دلائل کو سنجیدگی سے پرکھنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ فدک کا سوال آج بھی زندہ کیوں محسوس ہوتا ہے؟ فدک کا تاریخی تنازعہ اپنے زمانے کا واقعہ ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والے اخلاقی سوالات آج بھی اہم ہیں۔ خطبۂ فدکیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق کے بارے میں گفتگو محض نعرے سے مکمل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے علم، دلیل، اخلاقی جرأت اور اپنے مؤقف کو سوالات کے سامنے رکھنے کی صلاحیت ضروری ہے اور شاید اسی لیے یہ خطبہ صدیوں بعد بھی پڑھا جاتا ہے کیونکہ اس میں صرف ایک زمین کا مطالبہ نہیں، بلکہ اصولوں کے مطابق فیصلے کرنے کا مطالبہ بھی سنائی دیتا ہے۔ اختتامیہ: ایک خطبہ، کئی سوالات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کو صرف اس دکھ میں تلاش کرنا کافی نہیں جس کا ذکر ان سے منسوب تاریخی روایات میں ملتا ہے۔ ان کی عظمت ان کے علم، ان کے کردار، ان کی عبادت، ان کے استدلال اور حق کے لیے ان کے عزم میں بھی نمایاں ہے۔ خطبۂ فدکیہ ہمیں ایک ایسی شخصیت سے متعارف کراتا ہے جو اپنے موقف کو قرآن کے سامنے رکھتی ہے، امت کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتی ہے اور تاریخ میں اپنا مؤقف ثبت کرتی ہے۔ یہ خطبہ پڑھتے ہوئے سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ فدک کس کے پاس رہا۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ کسی فیصلے کو درست قرار دینے کا معیار کیا ہے؟ قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے؟ اہلِ بیت کے مقام کو ہم کس طرح سمجھتے ہیں؟ اور اختلاف کی صورت میں ہم دلیل اور انصاف کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ تاریخ کا ایک بڑا المیہ یہ نہیں کہ حق کیلئے آواز بلند نہ ہو بلکہ یہ ہے کہ حق کی آواز بلند ہونے کے بعد بھی آنے والی نسلیں اس کے سوالات سے نظریں چرا لیں۔ خطبۂ فدک کا مطالعہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم تاریخ کو صرف اپنے پسندیدہ نتائج کی تصدیق کے لیے نہ پڑھیں، بلکہ اس کے دلائل، سوالات اور اخلاقی مطالبات کو بھی سنیں۔ کیونکہ کسی مقدس شخصیت سے محبت کا سب سے بامعنی اظہار صرف اس کا نام لینا نہیں، بلکہ اس کے علم، کردار اور حق کے لیے اس کے عزم کو سمجھنے کی کوشش کرنا بھی ہے۔ مطالعے کیلئے بنیادی مآخذ علامہ شیخ محسن علی نجفی، خطبۂ فدک، اردو ترجمہ و تشریح: آن لائن مطالعہ اور پی ڈی ایف⁠۔ جامعۃ الکوثر، رسالات — خطبہ فدک، ترجمہ و شرح: مکمل متن اور مقدمہ⁠۔ مرکز افکار اسلامی — خطبۂ فدکیہ: اردو ترجمہ۔
8
176
اعلموا أني فاطمة وأبي محمد، أقول عوداً وبدءاً، ولا أقول ما أقول غلطاً، ولا أفعل ما أفعل شططاً» ترجمہ: جان لو کہ میں فاطمہ ہوں اور میرے والد محمد ﷺ ہیں۔ میں جو بات کہتی ہوں، نہ غلط کہتی ہوں اور نہ جو کرتی ہوں، اس میں حق سے تجاوز کرتی ہوں۔ دفاعِ ولایت: اختلافِ ملکیت سے آگے کا سوال خطبۂ فدکیہ کے شیعہ فہم میں ولایت اور امامت کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس تناظر میں فدک کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کی قیادت، اہلِ بیت کے مقام اور دینی اختیار کے سوالات سے الگ نہیں دیکھا جاتا۔ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خطبے میں حضرت علی علیہ السلام کی دینی خدمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کیلئے انکی قربانیوں کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں۔ شیعہ روایت میں ان کلمات کو اس بات کی دلیل سمجھا جاتا ہے کہ امت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اہلِ بیت کی رہنمائی اور ان کے مقام کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہاں ولایت کا مفہوم صرف محبت تک محدود نہیں رہتا۔ محبت ایک قلبی تعلق ہے، مگر ولایت کے ساتھ وفاداری، رہنمائی کی پہچان اور حق کے بارے میں ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اہلِ بیت سے محبت کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ انکے علم، انکے استدلال اور انکے اخلاقی معیار کو سمجھا جائے۔ خاموشی، بیعت اور اجتماعی ذمہ داری خطبۂ فدکیہ کا ایک اہم پہلو مخاطبین کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ سیدہؑ صرف اپنے دعوے کی وضاحت نہیں کرتیں، بلکہ امت کے کردار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے اسکے تعلق پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔ یہ سوال کسی ایک زمانے تک محدود نہیں: کیا کسی معاشرے میں حق کا معیار اصول ہوتے ہیں یا طاقت؟ کیا کسی شخصیت کا مقام اس وقت بھی تسلیم کیا جاتا ہے جب اس کی بات ہمارے سیاسی یا اجتماعی مفاد سے مطابقت نہ رکھتی ہو؟ اور کیا خاموشی ہمیشہ غیر جانب داری ہوتی ہے، یا بعض مواقع پر وہ کسی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید گہرا کردیتی ہے؟ کسی معاشرے کی آزمائش صرف یہ نہیں ہوتی کہ اس میں حق کی آواز بلند ہوئی یا نہیں، آزمائش یہ بھی ہوتی ہے کہ حق کی آواز بلند ہونے پر اس نے کیا ردِعمل دیا۔ خواتین سے خطاب: تاریخ کے بعد بھی باقی رہنے والا احتجاج خطبۂ فدک سے متعلق روایات میں خواتین سے سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا ایک خطاب بھی نقل ہوا ہے۔ اس میں آپ کے دکھ، اپنے عہد کے حالات سے بیزاری اور لوگوں کے رویّوں پر شدید تنقید کا اظہار ملتا ہے۔ اسے بعض مآخذ میں خطبے کے بعد کے واقعات کے ضمن میں بیان کیا جاتا ہے۔
1
3
8
108
اشْهَدُ أَنَّ فَاطِمَةَ الصِّدِّيقَةُ الْكُبْرَى خطبے کا آغاز: پہلے خدا، پھر حق خطبۂ فدکیہ کی ابتدا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے ہوتی ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلَىٰ مَا أَنْعَمَ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ان نعمتوں پر جو اس نے عطا فرمائیں۔ یہ آغاز محض روایتی مذہبی تمہید نہیں۔ خطبے کی پوری فکری بنیاد اسی تصور پر قائم ہے کہ اقتدار، ملکیت، اختیار اور انسانی زندگی کے تمام معاملات کا آخری معیار اللہ کی ہدایت ہے۔ کوئی سیاسی فیصلہ، کوئی سماجی روایت اور کوئی انسانی تعبیر قرآن اور عدل کے سوال سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا توحید، تخلیق اور رسالت کے مقاصد پر گفتگو کرتی ہیں۔ آپ اسلام کے احکام کو ان کی حکمت کے ساتھ بیان کرتی ہیں، یہ مضمون خطبے کے مرکزی فکری حصے کا خلاصہ ہے، لفظ بہ لفظ اقتباس نہیں۔ اس کا مطالعہ علامہ محسن علی نجفی کے اردو ترجمے میں کیا جاسکتا ہے۔ غور کیجیے کہ سیدہؑ جس ماحول میں اپنا مقدمہ پیش کر رہی ہیں، وہاں آپ گفتگو کو ذاتی شکایت تک محدود نہیں رکھتیں۔ آپ پہلے ان اصولوں کی وضاحت کرتی ہیں جن پر اسلامی معاشرے کی عمارت کھڑی ہونی چاہیے۔ گویا کسی فیصلے کو پرکھنے سے پہلے اس معیار کو سمجھنا ضروری ہے جس کے مطابق وہ فیصلہ درست یا غلط قرار پائے گا۔ یہی ایک صاحبِ علم کی گفتگو اور محض جذباتی ردِعمل میں بنیادی فرق ہے۔ قرآن: جسے پڑھنا ہی نہیں، حاکم بھی ماننا ہے خطبۂ فدکیہ میں قرآن مجید کی مرکزیت غیر معمولی ہے۔ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے استدلال میں قرآن صرف تلاوت کے لیے مقدس کتاب نہیں، بلکہ زندگی، قانون، معاشرت اور فیصلوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ فدک کے مسئلے پر آپ نے وراثت سے متعلق قرآنی آیات کی طرف توجہ دلائی۔ ان میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے حضرت داؤد علیہ السلام کے وارث ہونے کا ذکر اہم ہے: سورۂ مریم، آیت 6: حضرت زکریا علیہ السلام کی اپنے وارث کی دعا۔ سورۂ نمل، آیت 16: حضرت سلیمان علیہ السلام کا حضرت داؤد علیہ السلام کا وارث ہونا۔ سیدہؑ کے استدلال کا بنیادی سوال یہ تھا کہ جب قرآن میں انبیاء کے وراثت پانے کا ذکر موجود ہے تو وراثت کے عمومی تصور کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت ان آیات کو کس طرح سمجھا جائے؟ اہلِ سنت کی معروف تعبیر میں مذکورہ حدیثِ نبوی کی بنیاد پر انبیاء کی چھوڑی ہوئی املاک کو عام وراثت سے مختلف سمجھا جاتا ہے، جبکہ شیعہ علماء اس حدیث کی سند، مفہوم اور قرآنی آیات کے ساتھ اس کی تطبیق پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس اختلاف کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ دونوں مؤقف کو ان کے اپنے دلائل کے ساتھ پڑھا جائے۔ لیکن اس بحث کا ایک وسیع تر پہلو بھی ہے، جب ایک فریق اپنے موقف کے لیے قرآن سے استدلال کرتا ہے تو اس استدلال کا جواب بھی دلیل سے دیا جانا چاہیے۔ مذہبی عقیدت اپنی جگہ، لیکن علمی اختلاف میں سوال، دلیل اور جواب کی اہمیت ختم نہیں ہوجاتی۔ قرآن کو فیصلہ کن معیار ماننے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے پسندیدہ موقف کو قرآن کے سامنے پیش کیا جائے، نہ کہ قرآن کو پہلے سے طے شدہ موقف کے تابع کردیا جائے۔ دخترِ رسولؐ کا مقام: رشتہ بھی، علم بھی، حجت بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کو صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبوب بیٹی ہونے کے حوالے سے بیان کرنا آپ کے علمی اور فکری مقام کو مکمل طور پر سامنے نہیں لاتا۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی تھیں، حضرت علی علیہ السلام کی شریکِ حیات، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کی والدہ اور اہلِ بیت علیہم السلام کی مرکزی شخصیت تھیں۔ لیکن خطبۂ فدکیہ میں آپ کی اپنی آواز، آپ کا استدلال اور آپ کی فکری قوت بھی نمایاں ہے۔ آپ کا خطاب اس تصور کو رد کرتا ہے کہ عورت کی دینی یا علمی حیثیت صرف اس کے خاندانی تعلق سے متعین ہوتی ہے۔ سیدہؑ اپنے موقف کی وضاحت کرتی ہیں، قرآنی دلائل پیش کرتی ہیں، مخاطبین سے سوال کرتی ہیں اور ان کی اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ آپ کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے کسی دوسرے کی طرف سے بولنے کا انتظار نہیں تھا۔ آپ خود اٹھیں، خود دلیل پیش کی اور خود تاریخ کے سامنے اپنا مؤقف رکھا۔ یہاں سیدہؑ کی عظمت کو جدید اصطلاحات میں محدود کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اسلامی تاریخ میں آپ کا مقام اپنی جگہ مسلم ہے؛ خطبہ ہمیں اس مقام کے ایک اہم پہلو سے متعارف کراتا ہے، علم کے ساتھ جرأت اور جرأت کے ساتھ دلیل۔
1
1
12
224
Algorithm of Life retweeted
Lady Fatimah: The Guardian of Ghadir | Ghadir ... 70 days before | The Film of Lady Fatimah Zahra (p) سیدہ فاطمہ زہرا (س) کی فلم — قسط اوّل: غدیر… ستر دن پہلے فيلم السيدة فاطمة الزهراء (ع) — الحلقة الأولى: الغدير… قبل سبعين يوماً ▶️ Next episode: The Martyrdom of the Prophet (s) 📚 Sources: Bayt al-Ahzan, Kitab Sulaym ibn Qays, Bihar al-Anwar (vol. 37).
32
146
1,391
89,768
بنتِ رسولؐ کو اپنے حق کے لیے دربار میں کیوں آنا پڑا؟ ایک سوال فدک کا نہیں، تاریخ کے ضمیر کا۔ تصور کیجیے۔ مدینہ وہی ہے۔ مسجد وہی ہے۔ منبر وہی ہے جس سے کچھ ہی عرصہ پہلے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز بلند ہوتی تھی۔ لوگ بھی وہی ہیں جنہوں نے اسی نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن سنا، توحید سیکھی، عدل کے احکام سنے اور اہلِ بیتؑ کی محبت کی تعلیم پائی۔ مگر اب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اور اُن کی بیٹی، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، اپنے والد کی رحلت کے بعد اپنے حق کے مطالبے کے لیے لوگوں کے سامنے کھڑی ہیں۔ یہ منظر صرف شیعہ تاریخ کا ایک باب نہیں، یہ ہر اُس شخص کے لیے ایک سوال ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت، قرآن سے وفاداری اور عدل پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے۔ آخر بنتِ رسولؐ کو اپنے حق کے لیے لوگوں کے سامنے آنا کیوں پڑا؟ یہاں ایک تاریخی وضاحت ضروری ہے، خطبۂ فدک کی روایت کے مطابق سیدہ فاطمہؑ نے فدک کے معاملے پر خلیفہ ابوبکر کے سامنے اپنا موقف پیش کیا۔ شیعہ اور اہلِ سنت اس واقعے کی بعض تفصیلات اور اس کے قانونی و تاریخی مفہوم کو مختلف انداز سے سمجھتے ہیں۔ لیکن خطبے کے منقول الفاظ ہمیں سیدہؑ کے استدلال اور ان کے موقف کی سنجیدگی سے ضرور روشناس کراتے ہیں۔ وہ الفاظ جو آج بھی سوال کرتے ہیں شیخ طبرسی کی کتاب الاحتجاج میں خطبۂ فدک کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: اعلموا أني فاطمة وأبي محمد، أقول عوداً وبدءاً، ولا أقول ما أقول غلطاً، ولا أفعل ما أفعل شططاً ترجمہ: جان لو کہ میں فاطمہ ہوں اور میرے والد محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ میں جو بات کہتی ہوں، نہ غلط کہتی ہوں اور نہ جو کرتی ہوں، اس میں حق سے تجاوز کرتی ہوں۔ ذرا ان الفاظ پر غور کیجیے۔ وہ اپنا نام بتاتی ہیں۔ اپنے والد کا نام بتاتی ہیں۔ پھر واضح کرتی ہیں کہ ان کا بیان غلطی پر مبنی نہیں اور ان کا عمل حق سے تجاوز نہیں کرتا۔ یہ الفاظ کسی غیر مصدقہ سوشل میڈیا اقتباس کے محتاج نہیں۔ ان کی اپنی تاریخی اہمیت ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ پڑھنے والا ذہن ٹھہر کر سوال کرتا ہے ایک ایسے معاملے میں، جس میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اپنا حق طلب کر رہی ہوں، دلائل کی نوعیت کیا تھی؟ قرآن کی آیات کو کس طرح سمجھا گیا؟ اور فیصلہ کرنے والوں کے سامنے عدل کا کون سا معیار تھا؟ ان سوالات کو پوچھنے کیلئے کسی دوسرے مسلمان کی توہین ضروری نہیں۔ تاریخ کے ایک اختلاف کو سمجھنے کیلئے دوسرے فریق کے ایمان پر فیصلہ صادر کرنا بھی ضروری نہیں۔ ضروری صرف یہ ہے کہ سوال کو اسکی پوری سنجیدگی کے ساتھ پڑھا جائے۔ وہ صرف فدک کا مطالبہ نہیں کر رہی تھیں خطبۂ فدک کو محض زمین یا مالی ملکیت کے تنازعے تک محدود کر دینا بھی اسکے پورے متن کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ اس خطبے میں توحید، رسالت، قرآن، عبادت، معاشرت اور دینی ذمہ داریوں پر بھی گفتگو ملتی ہے۔ سیدہ فاطمہؑ نے اپنے موقف کو قرآنی استدلال کے ساتھ پیش کیا۔ شیعہ نقطۂ نظر سے اس واقعے کی معنویت فدک سے کہیں آگے جاتی ہے۔ سیدہؑ کی آواز اہلِ بیتؑ کے حق، ان کے مقام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کی سمت سے متعلق ایک بڑے سوال سے جڑ جاتی ہے۔ یہیں سے ولایت کے دفاع کا مفہوم بھی سامنے آتا ہے۔ مدافعِ ولایت ہونا صرف ایک عقیدے کا نام لینا نہیں، اس کے اصول، اس کی دلیل اور اس کے اخلاقی تقاضوں کو سمجھنا بھی ہے۔ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا یہ احتجاج اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ خاموشی کو لازمی تقویٰ نہیں سمجھتیں جب حق کا معاملہ سامنے آتا ہے تو اپنا موقف دلیل کے ساتھ بیان کرتی ہیں اور اس پہلو کو سمجھنے کیلئے کسی اہلِ سنت مسلمان کو اپنا مسلک چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اسے صرف اتنا کرنا ہے کہ وہ بنتِ رسولؐ کے الفاظ کو توجہ سے پڑھے، ان کے تاریخی سیاق کو سمجھے اور پھر خود سے سوال کرے کہ اختلاف کے وقت عدل کا تقاضا کیا ہوتا ہے۔ ولایت کا دفاع اور تاریخ کا امتحان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آنے والے واقعات اسلامی تاریخ کے حساس ترین مباحث میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں مختلف مکاتبِ فکر کے اپنے استدلال، روایات اور نتائج ہیں۔ لیکن ایک اصول ایسا ہے جس پر گفتگو کی جا سکتی ہے کسی شخصیت سے محبت کا دعویٰ ہمیں اس کے تاریخی موقف کو سمجھے بغیر فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا۔ اسی طرح اختلاف رکھنے والے کی نیت پر حکم لگانا بھی تحقیق کا متبادل نہیں۔ اگر سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے حق کیلئے کھڑی ہوئیں، تو اس عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر وہ قرآن سے استدلال کرتی ہیں، تو اس استدلال کو پڑھنا ضروری ہے۔ اور اگر ان کے موقف پر اختلاف ہے، تو اس اختلاف کو دلیل کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ 🧵1/2
کیا آپ جانتے ہیں کہ شہادت بی بی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے بعد اہل مدینہ ایک دوسرے کو کیوں ملامت کر رہے تھے؟ غصبِ خلافت کو خاموشی سے قبول کر کے انہوں نے یادگارِ پیامبر صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر ظلم ہونے دیا، اور بعد میں یوں حسرت و افسوس کا اظہار کرنے لگے: "فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا رخصت ہو گئیں اور نہ ہم ان کے پیکرِ مطہر پر نماز پڑھ سکے اور نہ ہی ان کی قبرِ مطہر کے مقام سے واقف ہیں!" بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج43، ص170 #ImamAliHolyShrine #ImamAli #Najaf
1
1
5
140
ولایت کا دفاع صرف نعروں سے نہیں ہوتا، کبھی یہ اس جرأت میں ظاہر ہوتا ہے کہ انسان حق کے سوال کو مشکل ہونے کے باوجود زندہ رکھے۔ اور آخر میں، ایک سوال جس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو عدل سکھایا، جس قرآن نے حق دار کو اس کا حق دینے کا حکم دیا، اور جس دین نے گواہی میں انصاف کی تعلیم دی اُسی دین کی تاریخ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی اپنے حق کے لیے دلیل پیش کرتی ہیں، تو کیا ہمارا کام صرف یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اپنے مسلکی مؤقف دہرا کر آگے بڑھ جائیں؟ یا ہمیں رک کر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے الفاظ ہمیں عدل، حق اور دینی ذمہ داری کے بارے میں کیا سکھاتے ہیں؟ یہ سوال کسی کی توہین کے لیے نہیں۔ یہ سوال تاریخ کو سنجیدگی سے پڑھنے کے لیے ہے۔ اور شاید اسی لیے خطبۂ فدک کا یہ جملہ صدیوں بعد بھی توجہ مانگتا ہے: ولا أقول ما أقول غلطاً، ولا أفعل ما أفعل شططاً میں جو کہتی ہوں، غلط نہیں کہتی، اور جو کرتی ہوں، حق سے تجاوز نہیں کرتی۔ سلامٌ علیکِ، یا فاطمة الزهراء سلام اللہ علیہا۔ مراجع برائے مطالعہ شیخ احمد بن علی الطبرسی، الاحتجاج، جلد 1، خطبۂ فدک۔ [عربی متن اور حوالہ](ablibrary.net/book_content/b…) شرح الأخبار، قاضی نعمان مغربی، صفحہ 34، خطبۂ زہرا کے منقول الفاظ۔ [عربی متن](ablibrary.net/book_content/b…) Tahir R. Jaffer, The Sermon of Fadak خطبے کا متن، تاریخی پس منظر اور اس کے ماخذ۔ [مکمل مطالعہ](al-islam.org/sermon-fadak-ta…) 🧵2/2
20
میری معصوم سیدہ بی بی نے انوکھا مقام پایا ہے جھک گئی دوجہان کی عظمت، جب بھی زہرا کا نام آیا ہے تیرے در کی توقیر اتنی بے شاہِ مرسل بھی آکے جھک جائیں تیری دہلیز ہے دوعالم میں سر فرشتوں کے جس پہ جھک جائیں تیرا بابا خدا کی جانب سے کرنے تجھ کو سلام آیا ہے بابا سردار سارے نبیوں کا، والی مختار سارے ولیوں کا تیرے بچوں کی شان کیا کہنا جنکا درزی رضوان جنت کا فاتحِ شام تیری زینب ہے جس نے اسلام کو بچایا ہے اور ہوتی رسول کی بیٹی کیوں مباہلے کے روز رہ جاتی کربلا میں جو آئی زینب تھی ساتھ زینب کے ہی چلی آتی دینِ اسلام کے بچانے میں شیرِ زہرا ہی کام آیا ہے
حضرت زہرا سلام اللہ علیھا سے توسل کیسے کیا جائے! مولانا محمد تقی مہدوی
1
1
8
116
افسوس ہم اقبال کے مخاطب تو بن گئے، ان کے وارث آج بھی نہیں بن سکے۔
2
1
8
109