دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل ٹرائل اور متعلقہ عدالتی احکامات اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیے جا چکے ہیں، لہٰذا ہائی کورٹ کے فیصلے تک کارروائی مؤخر کی جائے۔
عدالت نے پانچ سرکاری وکلا کو اسٹیٹ کونسل مقرر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کل دفاعی وکلا نے جرح نہ کی تو 1/2