نظربندی کے دوران خواجہ فاروق کی طبعیت ناساز، طبی معائنہ :
مظفرآباد، سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد کی 3-MPO کے تحت 15 دن کی نظر بندی
27 ستمبر کی کال کے تناظر میں خواجہ فاروق احمد سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں اورکارکنان کی گرفتاریوں کے بعد قانونی ٹیم نے عدالت سے رجوع کیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کی جانب سے گرفتار افراد کو پیش کرنے کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر مظفرآباد نے خواجہ فاروق احمد کو 3-MPO کے تحت 15 روز کے لیے نظر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کے بعد انہیں دیگر کارکنان کے ہمراہ راڑہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
گزشتہ رات طبیعت ناساز ہونے پر پولیس خواجہ فاروق احمد کو طبی معائنے، ٹیسٹ اور ECG کے لیے کارڈیک اسپتال لے گئی، جہاں ان کا معائنہ کیا گیا۔
آزادکشمیر کے سابق وزیراعظم و سابق لیڈر آف دی اپوزیشن اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنم خواجہ فاروق کو کل مظفرآباد سے گرفتار کیا گیا ۔ ن لیگ کی ریاست میں حکومت کے قیام کے بعد یہ پہلی سیاسی گرفتاری ہے ۔ نوجوان وزیراعظم افتخار گیلانی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے ہی شہر کے بڑے اور قد آوور لیڈر کی گرفتاری روکتے ۔ پاکستان میں ایسی منفی روایات پہلے سے موجود ہیں مگر آزادکشمیر میں بھی ایسی منفی روایات قائم کی جارہی ہیں ان کے دور رس اثرات بہت بھیانک ہیں ۔ نجانے فیصلہ ساز کس ڈگر پر چل پڑے ہیں ؟