A Veteran, Security & Defence Analyst. Golf, Books, Writer, Traveler, Philanthropist. NDU Pak, NDU China, Glowmacs USA, Pak & Pak Army Runs In Blood.

Islamabad, Pakistan
UK also jumped in.
🚨 BREAKING: Hundreds of people gathered in Manchester, England, calling for a human uprising against Israel's genocide in Gaza.
9
496
میجر وجاھت ھم آپکی شھادت کی قربانی کے بوجھ تلے اس وقت تک دبے رھیں گے جب تک تمام دھشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جہنم واصل نہ کر دیں۔ آپکی قربانی وطن کے محفوظ مستقبل کہ ضامن ھے۔
15
2
17
606
Ashfaq Hassan retweeted
🚨 BREAKING: Donald Trump has lost his immunity... The US Supreme Court has ruled to strip Trump of immunity in the Epstein case. The path has been cleared for his prosecution. He can be impeached.
315
3,327
15,619
422,169
Like Arab spring, now Europe Spring. Collaps of Europe
🇮🇹 The violent riots have SPREAD to Italy, and the fashion capital of Milan is taking the full brunt of it. More "aggrieved European students" are smashing cars and kicking through store windows. The police have deployed tear gas but honestly, this already looks completely out of control. We're watching the collapse of Europe in real time. Writers: Bri, Michael x.com/RadioGenoa/status/2112…
1
3
521
Ashfaq Hassan retweeted
Macron blames Trump's Iran war and diesel prices for the riots Trump blames France's open borders Both are right
99
29
410
41,284
فرانس میں انتشار، مظاھرے اور لوٹ مار انتہا کو پہنچ گئی۔ فرانس کے صدر نے مظاھرین کو لاٹھی گولی کی سزا دینے کی بجائے ایک انتہائ مدبرانہ تقریر سے ثابت کیا کہ ایک عوامی، پڑھے لکھے اور سولائیزڈ سربراہ کا کنڈکٹ کیسا ھونا چاھئیے۔ میکرون کی تقریر عاجزی اور جمہوری پختگی کی آئینہ دار تھی۔ مظاہرین کو دھمکانے کے بجائے انہوں نے ان کی معاشی مشکلات اور طلبہ کے مستقبل سے متعلق خدشات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے جائز شکایات اور تشدد کے درمیان واضح فرق کیا اور خوف و ہراس کے بجائے مکالمے کو ترجیح دی۔ حقیقی قیادت لوگوں کو خاموش کرانے میں نہیں، بلکہ ان کے تحفظات سننے، ان کے درد کو سمجھنے اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہوئے ان کی شکایات کا ازالہ کرنے میں ہے۔
29
9
45
3,172
Abbas Araghchi to Natanyahu; Last time you wanted to finish the job, Iran emerged even stronger. Want to try your luck again? Be our guest. But be careful; we have unfinished jobs too.
10
1,353
The Stunning Story of a Nobel Peace Prize Winner, Trump Has Never Heard About
1
2
399
آرمی میں میرٹ کا بول بالا کل پی ایم اے پاسنگ آؤٹ پریڈ میں اعزازی شمشیر (سورڈ آف آنر) ایک صوبیدار میجر (بی پی ایس-16) کے بیٹے نے حاصل کی کل بہت سے آرمی افسران بشمول جنرل افسران (لیفٹیننٹ جنرلز سمیت) کے بیٹے بھی پاس آؤٹ ہوئے، لیکن اعزازی شمشیر ایک صوبیدار میجر کے بیٹے نے حاصل کی۔ اور یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ یہی میرٹ ہے۔ امید ہے سویلین ادارے خاص طور پر سیاستدان بھی اس کی تقلید کریں گے اور خاندان کی بجائے اعلی عہدوں پر میرٹ پر تقرریاں کریں گے پاک آرمی زندہ باد
2
14
79
135,849
کے پی کے میں مائنز اینڈ منرلز پر قبضے کا جھوٹا بیانیہ. حقائق کیا ہیں؟ ایک مخصوص ٹولہ یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ مائنز اینڈ منرلز پر قبضے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ سفید جھوٹ ہے اور حقائق اس کے برعکس ھیں۔ کے پی کے حکومت اب تک مائنز اینڈ منرلز کے چار ہزار سے زائد لائسنس جاری کر چکی ہے۔ جبکہ ایف ڈبلیو او کے پاس صرف ایک لائسنس ہے جو 2015 میں دیا گیا تھا۔ ذرا اس ایک منصوبے کی گراؤنڈ پر جا کر صورتحال دیکھ لیں کہ وہاں مقامی آبادی کو روزگار، سڑکوں، سکولوں اور ترقی کی صورت میں کیا فائدہ مل رہا ہے۔ اور باقی چار ہزار لائسنسوں کا حساب بھی دیکھ لیں کہ ان سے صوبائی حکومت کو کیا منافع ملا؟ ایف ڈبلیو او کے اس منصوبے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کروا لیں۔ اگر قبضے کا کوئی ایجنڈا ہوتا تو ملک کے باقی حصوں میں جہاں مائنز نکل رہے ہیں، تھر میں کوئلہ اور گیس، پنجاب میں اور بلوچستان میں معدنیات، وہاں کبھی یہ شور کیوں نہیں مچا؟ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپنی نااہلی، انتشار اور دہشتگردوں کی حمایت کے بیانیے کی وجہ سے اپنی ساری مقبولیت کھو چکی ہے۔ ان کا لانگ مارچ، احتجاج، ان کی حکومت، سب ختم ہو چکا ہے۔ عوام نے ان کے کسی کال پر باہر نکلنے سے انکار کر دیا ہے۔ان کے اپنے مضبوط قلعے کے پی سے لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور ان کی احتجاج کی کال کو مسترد کر دیا جس کو یہ سب مان بھی رھے ھیں۔ یہ شکست اور عوامی مسترد ہونے کا صدمہ برداشت نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ نیا شوشہ لایا گیا ہے۔ یہ بیانیہ دراصل دشمن ایجنسی را کا بیانیہ ہے جس کا واحد ہدف پاکستان آرمی کو ٹارگٹ کرنا، عوام اور فوج کو آمنے سامنے لانا اور پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ قوم کو چاہیے کہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کر دے۔ کے پی کے کے وسائل کے پی کے کے عوام کی امانت ہیں اور ان کا تحفظ اور بہترین استعمال ہی قومی ترقی کی ضمانت ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر جو محب وطن اور سمجھدار قیادت ہے اسے بھی اس ملک دشمن پروپیگنڈے سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہیے۔
1
3
6
994
Very loud and Clear by the Gen Syed Aamer Raza ( CNSC) To those who harbour hostile designs across our borders, our stance remains resolute and unambiguous. There is no space for conflict or war in a nuclearised environment, and any miscalculation will be met with a response far beyond the imagination or calculation of the initiator.
5
11
1,037
صبح بخیر
1
9
67
696
*پاکستانی سیاست کا حال، ناپختگی کا بحران پاکستانی سیاست آج بھی ناپختگی کے ایک نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ کی اکثریت ذاتی مفاد اور جماعتی فائدے کے تنگ دائرے سے باہر نکلنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ چاہے اقتدار میں ہوں یا حزبِ اختلاف میں، ان کی اولین ترجیح ذاتی اور جماعتی مفاد ہوتا ہے۔ قومی مفاد ان کی ترجیحات میں سب سے آخر میں آتا ہے۔ انہوں نے ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے کبھی سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش ہی نہیں کی۔ سیاسی بقائے باہمی کے بجائے وہ ایک دوسرے کے وجود سے ہی نفرت کرتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد مخالف کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ تا قیامت بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کر سکیں۔ ان کا طرزِ عمل سراسر منافقت اور دوغلے پن سے عبارت ہے۔ جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو ان کا رویہ مطلق العنان بادشاہوں جیسا ہوتا ہے۔ اور جب حزبِ اختلاف میں دھکیلے جاتے ہیں تو یہی سیاستدان فوج کو گالیاں دیتے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہتے ہیں اور انہی اداروں کے خلاف نعرے لگاتے ہیں جن کی وہ کل تک تقدیس کرتے تھے۔ اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے وہ ہر ناجائز حربہ استعمال کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ وہ ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں، مگر اقتدار کی خاطر خود ہی ووٹ کی حرمت کو پامال کر دیتے ہیں۔ وہ آئین اور قانون کی حکمرانی کا راگ الاپتے ہیں، مگر جب اقتدار کا حصول مقصود ہو تو اسی آئین اور قانون کو توڑنے اور مسمار کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایسی افسوسناک صورتِ حال میں بھلا قوم کیسے ترقی کر سکتی ہے؟ نئے انتظامی یونٹس کا قیام وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے یقیناً ایک دور اندیش قدم ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ ایک نئے سماجی معاہدے، ایک نئے سیاسی معاہدے اور طرزِ حکمرانی کے ایک نئے، مؤثر ماڈل کی اشد ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان اپنی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکتا ہے۔ اربابِ اختیار کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
1
1
9
1,043
Ashfaq Hassan retweeted
مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے اور میں ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے!
200
249
656
100,811
The State of Pakistani Politics، A Crisis of Immaturity Pakistani politics remains trapped in a perpetual cycle of immaturity. Majority of our political class, has failed to graduate beyond the narrow confines of self interest and partisan gain. Whether in power or in opposition, their priority is personal and party interest. The national interest is least on the agenda. They have never made a sincere effort to bring political stability to the country. Instead of political coexistence, they harbor visceral hatred for each other's very existence. Their sole objective seems to be the complete annihilation of the opponent, so that they may rule unchallenged for eternity. Their conduct is defined by sheer hypocrisy. When in power, their attitude is one of absolute authority. When relegated to the opposition, the same politicians hurl abuses at the Army, vilify the Establishment, and raise slogans against the very institutions they once venerated. They are willing to commit every conceivable wrong to capture power. They speak of giving respect to the vote, yet they themselves trample upon the sanctity of the vote for the sake of power. They invoke the Constitution and the rule of law, yet they do not hesitate to subvert and demolish the same Constitution and law when it serves their pursuit of power. In such a deplorable state of affairs, how can the nation possibly progress? The idea of creating new administrative units is indeed a forward looking step to ensure equitable distribution of resources. However, alongside this, there is an urgent need to forge a new Social Contract, a new Political Contract, and a new, effective Model of Governance. Only then can Pakistan move forward in accordance with its true potential. The powerfull Circles to look into it.
1
5
793
صبح بخیر
2
22
218
1,662
Ashfaq Hassan retweeted
BREAKING: Trump considering firing Defense Secretary Hegseth after the midterms in an effort to take the blame of the unpopular Iran war off of himself and onto Hegseth in order to "protect his legacy" and "reputation as an anti-war president," per multiple initial reports. Trump is also on the verge of firing several key members of his administration in an effort to "clean house" amid mounting corruption allegations and expected midterm losses, as per the reports.
974
1,530
13,040
2,220,749
تحریک انصاف کی لیڈر شپ بے غلط فیصلہ سازی اور فیصلہ سازی میں تاخیر سے پارٹی کو تباہ کر دیا اور لیڈرشپ کو پابند سلاسل۔ 1۔ جب اسٹیبلشمنٹ نے کہا اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کروا دیتے ھیں لیکن لانگ مارچ نہ کریں لیکن فیصلہ نہ کیا۔ اس کے نتائج آج تک بھگت رھے ھیں۔ نواز شریف نے بھی پارٹی کو کہ دیا تھا مستعفی ھو جائیں۔ 2۔ قومی اسمبلی سے استعفوں کا غلط فیصلہ۔ بعد میں اس کو واپس لینے کی جدوجہد کرتے رھے 3۔ صوبائ اسمبلیاں توڑنے کےغلط فیصلے 4۔ نئے الیکشن کے لئے حکومت کی آفر ٹھکرانے کا غلط فیصلہ جس سے الیکشن چھ ماہ لیٹ ھوئے۔ حالانکہ حکومت دو ھفتوں کا زیادہ وقت مانگ رھی تھی۔ 4۔ پھر نومبر 2024 میں۔ اب تو کھل کر آگیا کہ سمجھوتہ ھو گیا تھا لیکن خان صاحب نے پھر لیٹ کیا۔ 5۔ اور اب بھی سمجھوتہ ھو گیا تھا لیکن پھر فیصلہ نہ کر سکے۔ حکومت بھی گئ، آخری سٹرونگ ھولڈ بھی گیا، لانگ مارچ بھی ختم اور لیڈر شپ جیل میں۔ سیاست میں ٹائمنگ اور فیصلہ سازی بہت اھمیت رکھتی ھے۔ جہاں بہت سارے لوگ اپنے فیصلے ٹھونسیں وھاں ایسا ھی ھوتا ھے۔ پی ٹی آئ کو فیصلہ سازی پر نظر ثانی کرنی چاھئیے۔ لیڈرز راستے نکالتے ھیں راستے بند نہیں کرتے
8
1
21
6,311
What a tremedous performance of last 5 years. ری بوٹ تو بنتا ھے۔ Pakistan has by far the highest poverty rate in the region (4 times compared to Bangladesh & India) Highest unemployment rate in the region. Highest inflation in the region Highest petrol & diesel prices in the region and by far Highest electricity & gas prices in the region Most expensive wheat flour in the region Highest taxes in the region Lowest per capita income in the region Highest interest rates in the region Highest number of out of school children in the region Lowest literacy rate in the SAARC Highest number of stunted children in the region Worst ranking in human development index in the region Worst investment ratio in the region Exports are the lowest compared to India & Bangladesh
61
27
75
5,602