آبگینے...
اُس کے لفظ اُس کی کہانی نہیں سنائیں گے بلکہ اُس کی آنکھوں میں دِکھ رہے خاموش طوفان اُس کی آنکھوں میں چُھپی سچائی کی حفاظت کر رہے ہیں
وہ اکثر اوقات بہت کم بولتی ہے کیونکہ جس انداز سے وہ آپ کو دیکھتی ہے، اُس کے چہرے کے تاثرات اُس کی روح تک کا پتا دیتے ہیں، اُسی میں وہ سب کہہ دیتی ہے
وہ اندر ہی اندر شدت سے سُلگتی ہوئی ایک جنگ لڑتی رہتی ہے پر باہر سے صرف آپ کو ایک پُرسکون اور باعزم مُورت دکھائی دیتی ہے
وہ روزانہ اِسی پُرسکون عزم کے ساتھ ہر پریشانی، خوف، تحفظات اور شکوک کا سامنا کرتی ہے
اور اِس بہادری کے باوجود وہ یہ سوچتی ہے کہ کیا وہ کر پائے گی، کیا وہ اتنی اچھی ہے؟ کیا لوگ اُسے پسند کریں گے؟
وہ جانتی ہے کہ بہت سی باتوں کو اُسے خاطر میں نہیں لانا چاہیے پر وہ اپنی فطرت سے مجبور پریشانی مول لیتی ہے
ہر روز اُس کا آئینہ اُسے، اُس کے چہرے کی خامیاں دکھاتا ہے جس سے اُس کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے، پر وہ پھر بھی چلتی رہتی ہے
وہ بہت سادہ اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں جی لیتی ہے پر نا جانے کیوں آپ کو مشکل لگتی ہے
وہ بس محبت چاہتی ہے، عزت چاہتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ اُسے سراہا جائے اور وہ آپ کے لیے اہم ہو
وہ ایسی لڑائیاں لڑتی ہیں جن کے بارے میں نا آپ کبھی جان پاتے ہیں اور نا کبھی سمجھ پاتے ہیں
وہ اکثر اپنے غصے کو اپنی بھرپور مسکراہٹ اور جاندار ہنسی کے پیچھے چھپا لیتی ہے
تنہائی میں وہ رو لیتی ہے اور کسی کے آنے کی آہٹ پر تیزی سے اپنے آنسو پونچھ کر چہرے پر پھر سے وہی بھرپور مسکراہٹ سجا لیتی ہے
آپ کبھی نہیں جان پائیں گے کہ آپ کے چہرے پر ایک پل کی خوشی دیکھنے کے لیے وہ اپنے اندر کیا کُچھ توڑ لیتی ہے
وہ بہت مضبوط، نرم دل اور قابلِ فخر ہے
وہ نہیں چاہتی کہ کوئی اُس پر ترس کھائے یا اُس کے بارے میں فیصلہ کُن رائے قائم کرے
وہ ہر وقت آپ کی پیدا کردہ پریشانیوں میں گِھری رہتی ہے، اور آپ کو گرم ہوا بھی لگنے نہیں دیتی
وہ چاہتی ہے کہ اُسے سمجھا جائے حالانکہ وہ کبھی کبھی خود بھی خود کو سمجھ نہیں پاتی
وہ جانتی ہے کہ اُس کی خاموشی اُسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے اور وہ اُس کے لیے تباہی کا باعث بن سکتی ہے پر وہ پھر بھی مطمئن رہتی ہے
وہ قدم قدم پر اپنے آپ کو یہ تسلی کرواتی رہتی ہے کہ وہ بہت مضبوط ہے، بہت خوبصورت ہے، اور یہ کہ سب اچھا ہے، اور جو نہیں اچھا وہ بھی ایک دن ٹھیک ہو جائے گا
کیا کبھی آپ نے اُس کی جانب غور سے دیکھا ہے اور سوچا ہے کہ یہ کون ہے؟ اُس کی مسکراہٹ کے پیچھے کیا سمجھوتے دفن ہیں، اِن نم آنکھوں میں کون سی قربانیاں پنہاں ہیں؟
یہ کیا سوچتی ہے؟ اِس کی بھی کوئی پسند ہے؟ اِس کی بھی کوئی رائے ہے؟ اِس کی بھی کوئی مرضی ہے؟
اگر نہیں تو سوچنے اور سمجھنے کی شروعات کریں اُن باتوں سے جو وہ کہتی نہیں کیونکہ جب وہ کچھ نہیں کہتی تبھی اصل میں وہ سب کہہ رہی ہوتی ہے...
آپ جانتے ہیں وہ کون ہے؟
نہیں نا!
وہ آپ کی ماں ہے...
بیوی ہے...
بہن ہے...
بیٹی ہے...
بہو ہے...
وہ عورت ہے...
” رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ”
(بخاری:6211)
"انجشہ! دھیرے چلو، ورنہ آبگینے ٹوٹ جائیں گے _”
یہ الفاظ سفر میں ساتھ چلتی خواتین کے لیے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے کہے... سبحان اللہ
اور آج آپ سب اِن آبگینوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں...؟
سوچیے گا ضرور...!
ہیر کے قلم سے...
࿐ہیر༆