Its all about Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan.

Pakistan
JUI Answers Back retweeted
جمعیت ایک نظریہ کا نام ہیں اور ان شاءاللہ اسی نظریے کے تحت ہم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی مملکت بنائیں گے #اسی_فیصدبجٹ_کہاں #رہزن_چوکیدار #پالشی_حکومتی_ٹولہ #بوٹ_کو_عزت_دو #رہبرامت_مولانا
6
4
56
JUI Answers Back retweeted
پاکستان کی کابینہ کا وہ کون سا وزیر ھے جو باتیں اتنی بڑی بڑی کرتا ھے لیکن جیسے اس کا چہرہ تصّور میں آتا ھے تو اردو کی ایک ضرب المثل ذہن میں آتی ھے اور لگتا ھے کہ یہ بنی ھی اسی کے لیے ھے “یہ منہ اور مسور کی دال”؟؟ 🤔🤔 😊😊 #اسی_فیصدبجٹ_کہاں #رہزن_چوکیدار #پالشی_حکومتی_ٹولہ #بوٹ_کو_عزت_دو #رہبرامت_مولانا
49
314
434
4,571
JUI Answers Back retweeted
سیاست کو کنٹرول کرنا چھوڑ دیں آپ ہمارے بھائی ہیں پھر #اسی_فیصدبجٹ_کہاں #رہزن_چوکیدار #پالشی_حکومتی_ٹولہ #بوٹ_کو_عزت_دو #رہبرامت_مولانا
1
17
19
298
JUI Answers Back retweeted
جہاں بھی پاکستان بیرونی سطح پر کوئی کارنامہ سر انجام دیتا ہے تو سب سے پہلے حمایت جمعیت علماء اسلام نے کی ہے #رہبرامت_مولانا #اسی_فیصدبجٹ_کہاں #رہزن_چوکیدار #پالشی_حکومتی_ٹولہ #بوٹ_کو_عزت_دو
1
28
22
110
JUI Answers Back retweeted
Replying to @ArbabKasho
مولانا کو نظرانداز کرکے ملک چلانے کے دعوے بہت ہوگئے؛ اب عوام کو نتائج دکھاؤ یا تسلیم کرو کہ سیاسی مکالمہ ضروری ہے! #اسی_فیصدبجٹ_کہاں #رہزن_چوکیدار #پالشی_حکومتی_ٹولہ #بوٹ_کو_عزت_دو #رہبرامت_مولانا
5
3
29
JUI Answers Back retweeted
عوام کے ووٹ سے اقتدار لینے والوں کو عوام ہی کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ پاکستان میں شخصی مرضی نہیں، آئین کی حکمرانی اور پارلیمان کی بالادستی چلے گی #رہبرامت_مولانا #اسی_فیصدبجٹ_کہاں #رہزن_چوکیدار #پالشی_حکومتی_ٹولہ #بوٹ_کو_عزت_دو
2
56
46
326
افتخار صاحب! اے آر وائی نیوز پر پروگرام کی مبارک باد قبول کریں۔صحافتی اصولوں اور غیر جانب دارانہ صحافت کا تقاضا ہے کہ اگر آپ اپنے پروگرام میں کسی مہمان کو کسی سیاسی رہنما پر تنقید کے لیے مدعو کرتے ہیں تو اسی پروگرام میں متعلقہ رہنما یا ان کی جماعت کے کسی ذمہ دار نمائندے کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیں۔ یک طرفہ گفتگو کو صحافت نہیں کہا جا سکتا؛ صحافت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ تنقید کے ساتھ جواب اور الزام کے ساتھ مؤقف بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔ یہی پیشہ ورانہ صحافت، انصاف اور غیر جانب داری کا بنیادی اصول ہے۔ @IftikharFirdous
1
15
40
1,801
JUI Answers Back retweeted
تنخواہ بریگیڈ کی نیندیں پھر حرام، کروڑوں خرچ کرنے کے باوجود بیانیہ بنانے میں ناکام ۔۔۔ ایک بار پھر مفت کے رضاکاروں کے ذریعے چھترول جاری ۔۔۔ یہ دیکھ لیں ۔۔۔ کہا تھا کہ مولوی اگر ایک بار بپھر گیا تو سرخی پاؤڈر بریگیڈ کا ٹھہرنا محال ہو جائے گا ۔۔۔ لیں پھر مزہ لیں ۔۔۔۔ نجانے سامنے والے اپنی ساکھ اور وسائل کیوں داؤ پر لگانے کے لیے بضد ہیں #ہم_مولانا_کے_سنگ #حکومت_یا_ربڑسٹمپ #وسائل_چور_مافیا #ضمیر_فروش_چوکیدار #معدنی_راج_نامنظور @juipakofficial
38
50
518
سیاسی محاذ پر، عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیت علماء اسلام پاکستان علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر عوام میں واضح کیا ہے؟ ہم اس مسلسل موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء سے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانیاں دے چکے ہیں۔قائد جمعیت
جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ بطور ادارہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، قربانیاں دے رہی ہے، تو مجھے بتایا جائے کہ سیاسی محاذ پر، عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیت علماء اسلام پاکستان علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر عوام میں واضح کیا ہے؟ ہم اس مسلسل موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء سے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ یہ ملک کے لیے دی ہیں، ملک کے امن کے لیے دی ہیں۔ اگر ہمارے امن کو کوئی بھی خراب کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ ہم نے بندوق کی سیاست کی نفی کی ہے۔ مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں جب یہاں کے مذہبی نوجوان کو اشتعال دلایا گیا اور اسے مجبور ہونا پڑا کہ وہ بندوق اٹھائے اور افغانستان میں جائے اور امریکہ کے خلاف جنگ میں شریک ہو، یہاں پاکستان میں دینی مدارس کا ماحول، تمام مکاتبِ فکر کا مذہبی ماحول، جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ اثر تمام علاقے، ان میں ہم نے پاکستان کی پارلیمنٹ، پاکستان کے آئین اور پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ہم اس پر قائم ہیں۔ لیکن پالیسیاں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ پالیسیاں جن قوتوں کے ہاتھ میں ہیں، وہ ہمیں ذرا اپنے نتائج سے تو آگاہ کریں کہ آج تک ان کی پالیسیوں کے نتائج میں پاکستان نے کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو، قومی تعمیرِ نو کے نام سے ایک ادارہ بنایا، نیا بلدیاتی نظام دیا، ناکام ہوا کہ نہیں؟ نیا انتظامی ڈھانچہ دیا، ناکام ہوا یا نہیں؟ مجسٹریسی نظام کا خاتمہ کیا، آج آنے والی حکومتوں کے لیے اس میں مشکلات ہیں یا نہیں؟ اور مجسٹریسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں یا نہیں؟ پولیس کو انتظامیہ سے لاتعلق کیا، جس کے نقصانات چاروں صوبوں میں ظاہر ہوئے، پھر ان کو اب واپس لینے کی باتیں ہوئیں یا نہیں؟ آج پھر پچیس سال کے بعد اسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ 2017ء میں فاٹا کا انضمام کیا گیا، اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں آئین میں ترمیم ہوئی، صرف آئین کی دو دفعات کو تبدیل کیا گیا اور پورے آئین کو بغیر ڈیبیٹ کے فاٹا کے علاقے پر تھوپ دیا گیا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ وہ شاید فیصلہ غلط تھا اور ایمرجنسی انہی علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ فاٹا کا وہ علاقہ، جو وفاق کے کنٹرول میں ہوتا تھا، آج ایمرجنسی کے نام پر وفاق کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ میری معلومات یہ ہیں کہ قبائلی عمائدین کو بلایا بھی گیا ہے اور ان سے مشاورت بھی لی گئی ہے کہ فاٹا کے نظام کا انضمام، جو تھا، وہ کامیاب ہے یا ناکام۔ اتفاق اس پر ہوا ہے کہ وہ ناکام ہو چکا ہے، پرانی حیثیت کو بحال کر دیا جائے۔ اس قسم کی چیزیں پسِ دیوار ہو رہی ہیں، ہماری معلومات میں ہیں اور یہ سب کچھ جو ایمرجنسی ہے، یہ اس طرف جانے کا عمل ہے۔ اب آپ فیصلے کرتے ہیں، ہم اس وقت بھی آپ پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ وقت اور حالات بتائیں کہ ہمارے موقف کی تائید کر رہے ہیں یا آپ کے فیصلوں کی تائید کر رہے ہیں؟ تو پھر کیوں ہمیں ملامت کیا جاتا ہے؟ ہر بات پر کیوں اتنی باتیں اڑائی جاتی ہیں؟ کیوں کردارکشی کی جاتی ہے؟ کیوں الزام تراشیاں کی جاتی ہیں؟ یہ چیزیں، میرے خیال میں، پاکستان کے لیے صحت مند عمل نہیں ہیں۔ ہم سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ ہم اپنے مخالفین کا احترام کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف میرے لیے پہلے بھی قابلِ احترام تھے، آج بھی قابلِ احترام ہیں۔ میاں شہباز شریف صاحب کل بھی ہمارے لیے قابلِ احترام تھے، آج بھی ہیں۔ آصف علی زرداری کے ساتھ ذاتی تعلق بھی ہے، احترام بھی ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کمزور لفظ استعمال ہی نہیں کیا ہے۔ پورے احترام کے ساتھ ہم ان سے اختلافِ رائے کر رہے ہیں۔ ان فیصلوں کو ملک کے خلاف سمجھتے ہیں، ملک کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان فیصلوں کے بارے میں ہمیں تشویش ہے کہ بیرونی مداخلت اس میں ہے۔ اور اس زمانے میں جب کولن پاول امریکی وزیرِ خارجہ تھا تو اس نے بھی وضاحت کے ساتھ کہا تھا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز ہماری تھی۔ آج معدنی ذخائر کے حوالے سے پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور باقاعدہ ایک پوڈ کاسٹ میں کہہ رہی ہیں، معدنی ذخائر کے حوالے سے اپنے منصوبے اور اپنی سرمایہ کاری کی بات کر رہی ہیں۔ میں صاف صاف کہہ دوں کہ ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں۔ یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟...........جاری
7
9
159
JUI Answers Back retweeted
جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ وہ بطور ادارہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، قربانیاں دے رہی ہے، تو مجھے بتایا جائے کہ سیاسی محاذ پر، عوام میں اور مذہبی طبقے میں جمعیت علماء اسلام پاکستان علاوہ کون ہے جس نے باقاعدہ ایک تسلسل کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر عوام میں واضح کیا ہے؟ ہم اس مسلسل موقف کے پاداش میں اپنے ڈھائی سو اکابر علماء سے لے کر عام کارکنوں تک کی قربانیاں دے چکے ہیں۔ یہ ملک کے لیے دی ہیں، ملک کے امن کے لیے دی ہیں۔ اگر ہمارے امن کو کوئی بھی خراب کرتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہم اس کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ ہم نے بندوق کی سیاست کی نفی کی ہے۔ مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں جب یہاں کے مذہبی نوجوان کو اشتعال دلایا گیا اور اسے مجبور ہونا پڑا کہ وہ بندوق اٹھائے اور افغانستان میں جائے اور امریکہ کے خلاف جنگ میں شریک ہو، یہاں پاکستان میں دینی مدارس کا ماحول، تمام مکاتبِ فکر کا مذہبی ماحول، جمعیت علمائے اسلام کے زیرِ اثر تمام علاقے، ان میں ہم نے پاکستان کی پارلیمنٹ، پاکستان کے آئین اور پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا اور آج بھی ہم اس پر قائم ہیں۔ لیکن پالیسیاں ہمارے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ پالیسیاں جن قوتوں کے ہاتھ میں ہیں، وہ ہمیں ذرا اپنے نتائج سے تو آگاہ کریں کہ آج تک ان کی پالیسیوں کے نتائج میں پاکستان نے کیا کامیابی حاصل کی ہے؟ جنرل پرویز مشرف نے 2002ء میں نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو، قومی تعمیرِ نو کے نام سے ایک ادارہ بنایا، نیا بلدیاتی نظام دیا، ناکام ہوا کہ نہیں؟ نیا انتظامی ڈھانچہ دیا، ناکام ہوا یا نہیں؟ مجسٹریسی نظام کا خاتمہ کیا، آج آنے والی حکومتوں کے لیے اس میں مشکلات ہیں یا نہیں؟ اور مجسٹریسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں یا نہیں؟ پولیس کو انتظامیہ سے لاتعلق کیا، جس کے نقصانات چاروں صوبوں میں ظاہر ہوئے، پھر ان کو اب واپس لینے کی باتیں ہوئیں یا نہیں؟ آج پھر پچیس سال کے بعد اسی نظام کو دوبارہ بحال کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ 2017ء میں فاٹا کا انضمام کیا گیا، اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا گیا۔ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس پر مشاورت ہونی چاہیے۔ پارلیمنٹ میں آئین میں ترمیم ہوئی، صرف آئین کی دو دفعات کو تبدیل کیا گیا اور پورے آئین کو بغیر ڈیبیٹ کے فاٹا کے علاقے پر تھوپ دیا گیا۔ آج کہا جا رہا ہے کہ وہ شاید فیصلہ غلط تھا اور ایمرجنسی انہی علاقوں میں نافذ کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ فاٹا کا وہ علاقہ، جو وفاق کے کنٹرول میں ہوتا تھا، آج ایمرجنسی کے نام پر وفاق کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے۔ میری معلومات یہ ہیں کہ قبائلی عمائدین کو بلایا بھی گیا ہے اور ان سے مشاورت بھی لی گئی ہے کہ فاٹا کے نظام کا انضمام، جو تھا، وہ کامیاب ہے یا ناکام۔ اتفاق اس پر ہوا ہے کہ وہ ناکام ہو چکا ہے، پرانی حیثیت کو بحال کر دیا جائے۔ اس قسم کی چیزیں پسِ دیوار ہو رہی ہیں، ہماری معلومات میں ہیں اور یہ سب کچھ جو ایمرجنسی ہے، یہ اس طرف جانے کا عمل ہے۔ اب آپ فیصلے کرتے ہیں، ہم اس وقت بھی آپ پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں۔ وقت اور حالات بتائیں کہ ہمارے موقف کی تائید کر رہے ہیں یا آپ کے فیصلوں کی تائید کر رہے ہیں؟ تو پھر کیوں ہمیں ملامت کیا جاتا ہے؟ ہر بات پر کیوں اتنی باتیں اڑائی جاتی ہیں؟ کیوں کردارکشی کی جاتی ہے؟ کیوں الزام تراشیاں کی جاتی ہیں؟ یہ چیزیں، میرے خیال میں، پاکستان کے لیے صحت مند عمل نہیں ہیں۔ ہم سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔ ہم اپنے مخالفین کا احترام کرتے ہیں۔ میاں نواز شریف میرے لیے پہلے بھی قابلِ احترام تھے، آج بھی قابلِ احترام ہیں۔ میاں شہباز شریف صاحب کل بھی ہمارے لیے قابلِ احترام تھے، آج بھی ہیں۔ آصف علی زرداری کے ساتھ ذاتی تعلق بھی ہے، احترام بھی ہے۔ ہم نے ان کے بارے میں کوئی ایسا کمزور لفظ استعمال ہی نہیں کیا ہے۔ پورے احترام کے ساتھ ہم ان سے اختلافِ رائے کر رہے ہیں۔ ان فیصلوں کو ملک کے خلاف سمجھتے ہیں، ملک کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ان فیصلوں کے بارے میں ہمیں تشویش ہے کہ بیرونی مداخلت اس میں ہے۔ اور اس زمانے میں جب کولن پاول امریکی وزیرِ خارجہ تھا تو اس نے بھی وضاحت کے ساتھ کہا تھا کہ فاٹا میں فوج بھیجنے کی تجویز ہماری تھی۔ آج معدنی ذخائر کے حوالے سے پاکستان میں موجود امریکی سفارت خانے کی ناظم الامور باقاعدہ ایک پوڈ کاسٹ میں کہہ رہی ہیں، معدنی ذخائر کے حوالے سے اپنے منصوبے اور اپنی سرمایہ کاری کی بات کر رہی ہیں۔ میں صاف صاف کہہ دوں کہ ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں۔ یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟...........جاری
50
323
650
20,671
یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔ اگر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔ قائد جمعیت
جمعیۃ علماء اسلام کا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے،اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے،اگرچہ اسلامی تنظیم کانفرنس ایک پلیٹ فارم ہے لیکن غیر مؤثر ہے۔ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ ایک مضبوط اتحاد، جو سیاسی،معاشی اور دفاعی اعتبار سے متحد ہو جائے، یہ سلسلہ جب چلا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ہوا، بعد میں ترکیہ اس میں شامل ہوا،پاکستان میں ایک کانفرنس ہوئی، ہرچند کہ حکومت سے ہمیں اختلاف ہے، لیکن ان اقدامات سے ہمارا نظریاتی اختلاف نہیں تھا، تو ہم نے اس کو بلا جھجک سپورٹ کیا۔ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملے اسلامی دنیا کے اتحاد کی طرف پیش رفت کا راستہ روکنا ہیں، جو بظاہر اب رک بھی چکا ہے۔ ہم ایران سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرے تاکہ اسلامی اتحاد کا عمل آگے بڑھے،سعودی عرب اور ایران کے درمیان تحفظات یا بدگمانیاں دور ہونی چاہئے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آج جب دنیا بدل رہی ہے،ہرچند کہ ہمارے پاس ایک پلیٹ فارم موجود ہے، لیکن وہ غیر مؤثر ہے،ہم ایک مستقل ایشیائی فیڈریشن چاہتے ہیں جو باہمی اقتصادی تعاون کی طرف سنجیدگی سے اور مؤثر انداز کے ساتھ آگے بڑھے۔ ہم تو اپنی جمعیت کی تاریخ میں اس نظریے کے تسلسل کو پا رہے ہیں اور آج بھی اس کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔ اگر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔
11
15
205
JUI Answers Back retweeted
جمعیۃ علماء اسلام کا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے،اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے،اگرچہ اسلامی تنظیم کانفرنس ایک پلیٹ فارم ہے لیکن غیر مؤثر ہے۔ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ ایک مضبوط اتحاد، جو سیاسی،معاشی اور دفاعی اعتبار سے متحد ہو جائے، یہ سلسلہ جب چلا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ہوا، بعد میں ترکیہ اس میں شامل ہوا،پاکستان میں ایک کانفرنس ہوئی، ہرچند کہ حکومت سے ہمیں اختلاف ہے، لیکن ان اقدامات سے ہمارا نظریاتی اختلاف نہیں تھا، تو ہم نے اس کو بلا جھجک سپورٹ کیا۔ ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملے اسلامی دنیا کے اتحاد کی طرف پیش رفت کا راستہ روکنا ہیں، جو بظاہر اب رک بھی چکا ہے۔ ہم ایران سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرے تاکہ اسلامی اتحاد کا عمل آگے بڑھے،سعودی عرب اور ایران کے درمیان تحفظات یا بدگمانیاں دور ہونی چاہئے۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آج جب دنیا بدل رہی ہے،ہرچند کہ ہمارے پاس ایک پلیٹ فارم موجود ہے، لیکن وہ غیر مؤثر ہے،ہم ایک مستقل ایشیائی فیڈریشن چاہتے ہیں جو باہمی اقتصادی تعاون کی طرف سنجیدگی سے اور مؤثر انداز کے ساتھ آگے بڑھے۔ ہم تو اپنی جمعیت کی تاریخ میں اس نظریے کے تسلسل کو پا رہے ہیں اور آج بھی اس کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔ اگر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔
39
267
461
11,708
صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟ قائد جمعیت
ہم نے واضح کیا ہے کہ ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے،پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں،یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟ تو قوم کے سامنے رکھا جائے، کیونکہ دو تین چیزیں کسی بھی ملک کے اندر سرمایہ کاری کے لیے معیار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہاں کی سیکیورٹی، سرمایہ کاری کے معاہدے اور ان میں شفافیت، اور قانون کی حکمرانی،اس کے اجمال سے آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ان تین چیزوں کے کیا کیا تقاضے ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرتا ہے تو میں اس کو اچھی علامت سمجھتا ہوں، لیکن لوگ پوچھتے ہیں کہ اس میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ ہم باہر کے مفاد کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں یا اپنے ملک کے مفاد کے لیے کر رہے ہیں؟ ہمارے اپنے ملک کے مفاد کا تعین ہونا چاہیے اور وہاں جو قوم آباد ہے،غریب لوگ آباد ہیں، اس میں مقامی آبادیوں کے مفادات کو مقدم رکھا جائے،اس کا پہلے سے ہی تعین کیا جائے۔ خفیہ طریقوں سے یہ چیزیں چھپائی نہیں جا سکتیں،یہ باہر آتی رہتی ہیں،جب باہر آتی ہیں تو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں،جب ہم ان شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں، پھر ہماری کردارکشی شروع ہو جاتی ہے، پھر ہم الزام تراشیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں،یہ روش صحیح نہیں ہے۔ اس پر ہم اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں اور میں آج ان تمام لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں مرعوب نہ کیا جائے ان باتوں سے ہم کسی سے بھی اپنی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں مانگ رہے۔ محبت نہیں وطن سے مجھے، سکھا رہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے۔ میں بے شعور ہوں، کہتا نہیں ستم کو کرم، یہی خطاب ملا ان کی انجمن سے مجھے۔ تو ہمیں اس بے شعوری پر فخر ہے۔ کوئی سمجھنا نہیں ہے،بھلے کہتے رہو، لیکن ہم پاکستانی ہیں، یہ وطن ہمارا ہے اور ہم نے بارہا پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر جو حلف اٹھایا ہے، ہم آج بھی اس حلف کی پاسداری کر رہے ہیں۔ وہ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں جو حلف اٹھاتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور پوری سیاست کو وہ کنٹرول کر رہے ہیں، تو اس پر تحفظات تو آ سکتے ہیں۔ لہٰذا ملکی معاملات پر اگر مکالمہ ہوتا ہے تو مکالمے کا کوئی عیب نہیں ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے ملنا چاہیے۔ اسمبلیوں کے ممبران، بڑی تفصیل کے ساتھ جو وہاں کی اسمبلیوں کی کمیٹیوں کے اراکین ہیں اور جن کو کمیٹی کے اندر سے تمام تفصیلات معلوم ہیں وہ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ اب ان پر توجہ ہونی چاہیے ان کو سنجیدگی سے لیا جائے،بلاوجہ ہمارے ملک کی سیاست میں اشتعال کے راستے نہ کھولے جائیں۔ ہم معقول، اشتعال سے بالاتر، سنجیدہ سیاست، اختلاف اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ اسی طرف ہم آگے بڑھیں گے۔
8
415
JUI Answers Back retweeted
ہم نے واضح کیا ہے کہ ہمیں سرمایہ کاری سے اختلاف نہیں ہے،پوری دنیا میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں،یہاں صرف ایک امریکہ دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟ باقی دنیا کی دلچسپیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں بنائی جا رہی ہیں؟ تو قوم کے سامنے رکھا جائے، کیونکہ دو تین چیزیں کسی بھی ملک کے اندر سرمایہ کاری کے لیے معیار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہاں کی سیکیورٹی، سرمایہ کاری کے معاہدے اور ان میں شفافیت، اور قانون کی حکمرانی،اس کے اجمال سے آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ان تین چیزوں کے کیا کیا تقاضے ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرتا ہے تو میں اس کو اچھی علامت سمجھتا ہوں، لیکن لوگ پوچھتے ہیں کہ اس میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ ہم باہر کے مفاد کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں یا اپنے ملک کے مفاد کے لیے کر رہے ہیں؟ ہمارے اپنے ملک کے مفاد کا تعین ہونا چاہیے اور وہاں جو قوم آباد ہے،غریب لوگ آباد ہیں، اس میں مقامی آبادیوں کے مفادات کو مقدم رکھا جائے،اس کا پہلے سے ہی تعین کیا جائے۔ خفیہ طریقوں سے یہ چیزیں چھپائی نہیں جا سکتیں،یہ باہر آتی رہتی ہیں،جب باہر آتی ہیں تو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں،جب ہم ان شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں تو وہ ناراض ہوتے ہیں، پھر ہماری کردارکشی شروع ہو جاتی ہے، پھر ہم الزام تراشیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں،یہ روش صحیح نہیں ہے۔ اس پر ہم اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتے ہیں اور میں آج ان تمام لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں مرعوب نہ کیا جائے ان باتوں سے ہم کسی سے بھی اپنی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں مانگ رہے۔ محبت نہیں وطن سے مجھے، سکھا رہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے۔ میں بے شعور ہوں، کہتا نہیں ستم کو کرم، یہی خطاب ملا ان کی انجمن سے مجھے۔ تو ہمیں اس بے شعوری پر فخر ہے۔ کوئی سمجھنا نہیں ہے،بھلے کہتے رہو، لیکن ہم پاکستانی ہیں، یہ وطن ہمارا ہے اور ہم نے بارہا پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر جو حلف اٹھایا ہے، ہم آج بھی اس حلف کی پاسداری کر رہے ہیں۔ وہ لوگ اپنے گریبان میں جھانکیں جو حلف اٹھاتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور پوری سیاست کو وہ کنٹرول کر رہے ہیں، تو اس پر تحفظات تو آ سکتے ہیں۔ لہٰذا ملکی معاملات پر اگر مکالمہ ہوتا ہے تو مکالمے کا کوئی عیب نہیں ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے ملنا چاہیے۔ اسمبلیوں کے ممبران، بڑی تفصیل کے ساتھ جو وہاں کی اسمبلیوں کی کمیٹیوں کے اراکین ہیں اور جن کو کمیٹی کے اندر سے تمام تفصیلات معلوم ہیں وہ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ اب ان پر توجہ ہونی چاہیے ان کو سنجیدگی سے لیا جائے،بلاوجہ ہمارے ملک کی سیاست میں اشتعال کے راستے نہ کھولے جائیں۔ ہم معقول، اشتعال سے بالاتر، سنجیدہ سیاست، اختلاف اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ اسی طرف ہم آگے بڑھیں گے۔
103
451
1,025
18,264
ہم عوام کے نمائندے ہیں، ہم نے عوام کی ترجمانی کرنی ہوتی ہے، ہم نے پاکستان کے مفاد کا تعین کرنا ہوتا ہے،کوئی ایک طاقت صرف پاکستان کے مفاد کا فیصلہ نہیں کر سکتی،یہ قوم کا اجتماعی معاملہ ہے۔قائد جمعیت
جمعیۃ علماء اسلام کی سیاست یہ ہے کہ اس میں ہم اپنے جماعتی منشور اور نظریے کو دیکھ کر اسی تناظر میں حکومت میں ہوتے ہوئے اختلاف بھی کرتے ہیں اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہم اتفاق بھی کرتے ہیں،اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے،چاہے آپریشنز کا مسئلہ ہو یا فاٹا کے انضمام کا مسئلہ ہو ہم نے آزادانہ طور پر ہمیشہ اپنی رائے پیش کی ہے۔ اس سے قوم اور سیاسی ماحول کی تربیت ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی رائے کو کن دلائل کے ساتھ قوم کے سامنے رکھنا ہے۔ ہم عوام کے نمائندے ہیں، ہم نے عوام کی ترجمانی کرنی ہوتی ہے، ہم نے پاکستان کے مفاد کا تعین کرنا ہوتا ہے،کوئی ایک طاقت صرف پاکستان کے مفاد کا فیصلہ نہیں کر سکتی،یہ قوم کا اجتماعی معاملہ ہے۔ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ عالمی سطح پر تغیرات طلوع ہورہے ہیں اور یہ بات آج ہم نہیں کہہ رہے بلکہ سوویت یونین کے خاتمے اور نائن الیون کے بعد جو دنیا میں تبدیلیاں آئیں اور جس طرح امریکہ یک قطبی نظام کا مالک بنا، آج وہ یک قطبی نظام ختم ہو رہا ہے۔ کسی زمانے میں روس اور اس کا نظام مدِمقابل تھا اور آج چین اس کا مدِمقابل ہے۔ اس وقت ایشیا دوبارہ ایک عالمی سطح کا معاشی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے اپنے گرد و پیش کی صورتِ حال کو دیکھ کر پالیسیاں بنانی ہیں کہ ہم نے ایک طویل المدتی مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ ہم اس حوالے سے سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری بات اصحابِ اقتدار سمجھتے ہیں تو اس پر مکالمہ ہونا چاہیے تاکہ قوم کے معاشی مستقبل کا تعین کیا جا سکے۔
6
8
93
JUI Answers Back retweeted
جمعیۃ علماء اسلام کی سیاست یہ ہے کہ اس میں ہم اپنے جماعتی منشور اور نظریے کو دیکھ کر اسی تناظر میں حکومت میں ہوتے ہوئے اختلاف بھی کرتے ہیں اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہم اتفاق بھی کرتے ہیں،اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے،چاہے آپریشنز کا مسئلہ ہو یا فاٹا کے انضمام کا مسئلہ ہو ہم نے آزادانہ طور پر ہمیشہ اپنی رائے پیش کی ہے۔ اس سے قوم اور سیاسی ماحول کی تربیت ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی رائے کو کن دلائل کے ساتھ قوم کے سامنے رکھنا ہے۔ ہم عوام کے نمائندے ہیں، ہم نے عوام کی ترجمانی کرنی ہوتی ہے، ہم نے پاکستان کے مفاد کا تعین کرنا ہوتا ہے،کوئی ایک طاقت صرف پاکستان کے مفاد کا فیصلہ نہیں کر سکتی،یہ قوم کا اجتماعی معاملہ ہے۔ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ عالمی سطح پر تغیرات طلوع ہورہے ہیں اور یہ بات آج ہم نہیں کہہ رہے بلکہ سوویت یونین کے خاتمے اور نائن الیون کے بعد جو دنیا میں تبدیلیاں آئیں اور جس طرح امریکہ یک قطبی نظام کا مالک بنا، آج وہ یک قطبی نظام ختم ہو رہا ہے۔ کسی زمانے میں روس اور اس کا نظام مدِمقابل تھا اور آج چین اس کا مدِمقابل ہے۔ اس وقت ایشیا دوبارہ ایک عالمی سطح کا معاشی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے اپنے گرد و پیش کی صورتِ حال کو دیکھ کر پالیسیاں بنانی ہیں کہ ہم نے ایک طویل المدتی مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ ہم اس حوالے سے سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری بات اصحابِ اقتدار سمجھتے ہیں تو اس پر مکالمہ ہونا چاہیے تاکہ قوم کے معاشی مستقبل کا تعین کیا جا سکے۔
42
359
719
14,788
JUI Answers Back retweeted
دنیا میں عالمی سطح پر بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، حضرت مولانا فضل الرحمن #ہم_مولانا_کے_سنگ #حکومت_یا_ربڑسٹمپ #وسائل_چور_مافیا #ضمیر_فروش_چوکیدار #معدنی_راج_نامنظور
3
21
14
209
JUI Answers Back retweeted
سوویت یونین کے خاتمے اور نائن الیون کے بعد دنیا میں تبدیلیوں کا نیا دور شروع ہوا، حضرت مولانا فضل الرحمن #ہم_مولانا_کے_سنگ #حکومت_یا_ربڑسٹمپ #وسائل_چور_مافیا #ضمیر_فروش_چوکیدار #معدنی_راج_نامنظور
14
7
159
JUI Answers Back retweeted
امریکہ جس یک قطبی عالمی نظام کا مالک بنا تھا، آج وہ نظام ختم ہو رہا ہے، حضرت مولانا فضل الرحمن #ہم_مولانا_کے_سنگ #حکومت_یا_ربڑسٹمپ #وسائل_چور_مافیا #ضمیر_فروش_چوکیدار #معدنی_راج_نامنظور
23
17
209
JUI Answers Back retweeted
ایک زمانے میں روس امریکہ کا مدمقابل تھا اور آج چین اس کے مقابل ایک بڑی عالمی قوت کے طور پر سامنے ہے، حضرت مولانا فضل الرحمن #ہم_مولانا_کے_سنگ #حکومت_یا_ربڑسٹمپ #وسائل_چور_مافیا #ضمیر_فروش_چوکیدار #معدنی_راج_نامنظور
1
32
20
238