یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔
اگر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔ قائد جمعیت
جمعیۃ علماء اسلام کا منشور کہتا ہے کہ ایک اسلامی بلاک ہونا چاہیے،اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر ہونا چاہیے،اگرچہ اسلامی تنظیم کانفرنس ایک پلیٹ فارم ہے لیکن غیر مؤثر ہے۔ اس میں اتنی طاقت نہیں ہے۔ ایک مضبوط اتحاد، جو سیاسی،معاشی اور دفاعی اعتبار سے متحد ہو جائے، یہ سلسلہ جب چلا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ ہوا، بعد میں ترکیہ اس میں شامل ہوا،پاکستان میں ایک کانفرنس ہوئی، ہرچند کہ حکومت سے ہمیں اختلاف ہے، لیکن ان اقدامات سے ہمارا نظریاتی اختلاف نہیں تھا، تو ہم نے اس کو بلا جھجک سپورٹ کیا۔
ہم اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملے اسلامی دنیا کے اتحاد کی طرف پیش رفت کا راستہ روکنا ہیں، جو بظاہر اب رک بھی چکا ہے۔ ہم ایران سے بھی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے مؤثر کردار ادا کرے تاکہ اسلامی اتحاد کا عمل آگے بڑھے،سعودی عرب اور ایران کے درمیان تحفظات یا بدگمانیاں دور ہونی چاہئے۔
ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ آج جب دنیا بدل رہی ہے،ہرچند کہ ہمارے پاس ایک پلیٹ فارم موجود ہے، لیکن وہ غیر مؤثر ہے،ہم ایک مستقل ایشیائی فیڈریشن چاہتے ہیں جو باہمی اقتصادی تعاون کی طرف سنجیدگی سے اور مؤثر انداز کے ساتھ آگے بڑھے۔ ہم تو اپنی جمعیت کی تاریخ میں اس نظریے کے تسلسل کو پا رہے ہیں اور آج بھی اس کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔
یہاں پر ہندوستان نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی، پاکستانی فوج نے اس کا جواب دیا۔ بنیان مرصوص کے نام سے سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کا ساتھ دیا، یہ خیال کیے بغیر کہ فوج کی پالیسیاں ہوں یا حکومت کی پالیسیاں ہوں، ہم اس کے مقابلے میں حزبِ اختلاف میں بیٹھے ہیں، لیکن ملک کے لیے ہم نے ایک صفحے پر ہونے کا اعلان کیا اور کہیں سے بھی ہمارے بیان کے منافق ہونے کا کوئی بیان کسی گوشے سے نہیں آیا۔
اگر پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا تو سب سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام نے اس کو سپورٹ کیا۔ اگرچہ کچھ حضرات کے تحفظات تھے بھی لیکن ان کو بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ اس پر اپنے منفی تاثرات کو سامنے لائیں۔