اگر تم پر دہشت گردی کے خلاف بولنے پر پابندی ہے
اگر کوئی بل یا قانون روکنے کی تم میں سکت نہیں
تو اسمبلی میں بیٹھ کر تم فوجی جتھے کی سہولت کاری اور اس کے بدلے مراعات لے رہے ہو
اور سینہ چوڑا کرکے جو تم لمبی لمبی چھوڑتے ہو
یہ بھی اجازت کے بغیر ناممکن ہے
اسی لئے تم ہمارے لئے مر چکے ہو.
پی ٹی آئی سے استعفے دے کر پھر بیٹھے رہو بلکہ لیٹ بھی جاؤ ہمیں فرق نہیں پڑتا لیکن بطور پی ٹی آئی تمہیں اب اسمبلی سے استفعیٰ دینا ہوگا.
تحریک انصاف کو اسمبلیاں چھوڑ دینی چاہییں !!
سب سے پہلے تو یہ کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کسی قسم کی قانون سازی نہیں روک سکتی کسی بل کسی ترمیم کو نہیں بلاک کرسکتی۔ پھر دوسری بات یہ کہ جنید اکبر انکشاف کرچکے کہ ان اسمبلیوں میں محسن نقوی ، فارم سینتالیس اور دہشتگردی جیسے مسائل پر بولنے کی اجازت نہیں۔ یعنی یہاں آواز اٹھانا بھی ناممکن ہے۔ پھر یہ نشستیں مولانا نسیم علی شاہ اور جنید اکبر کا اغواء نہیں روک پائیں۔
پھر تحریک انصاف کی ان اسمبلیوں میں موجودگی کی وجہ سے فوج اس جعلی جمہوری سیٹ اپ کو دنیا کے سامنے حقیقی جمہوریت بنا کر پیش کررہی ہے۔پھر عمران خان کئی مرتبہ ماضی میں اسمبلیوں سے استعفے دے چکے قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کرچکے۔ یعنی یہ کوئی نئی روایت بھی نہیں۔ اب بھی جب عمران خان سے ملاقاتیں بحال ہوں گی عمران خان پہلا حکم ان اسمبلیوں سے علیحدگی کا دیں گے یہ بات تحریک انصاف کے ایک ایک رکن اسمبلی کو اچھی طرح معلوم ہے۔
تحریک انصاف اسمبلیاں چھوڑے گی تو یہ پورا نظام ننگا ہوگا اس جعلی جمہوریت کے کپڑے اتر جائیں گے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی فوج کو مجبوری ختم ہوگی یہ مکمل یئیں یئیں پارٹیاں رہ جائیں گی۔ پھر یہ آئینی ترامیم روکیں یا نہ روکیں ان کا مسئلہ۔ یہ تحریک ایک عوامی تحریک بننے کی راہ پر چل سکے گی۔ ان اسمبلیوں میں موجودگی کے باوجود اگر عمران خان گیارہ ماہ سے قید تنہائی میں ہے تو پھر یہاں بیٹھے رہنا عمران خان سے بھی غداری ہے۔
بجائے اس نظام کو ٹیک دیتے رہنے کی اسکی بیساکھیاں کھینچنی ہیں۔