”ایک وقت تھا جب پاکستان کی فی کس آمدن چین سے زیادہ تھی اور ہماری برآمدات ویتنام سے آگے تھیں۔ آج یہ دونوں ممالک ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ یہ فرق ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتا ہے: ہم اپنی پیداواری صلاحیت کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں کیوں پیچھے رہ گئے؟
بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی محنت سے تقریباً اتنا ہی زرمبادلہ وطن بھیجتے ہیں جتنا ہماری پوری برآمدی معیشت کماتی ہے۔ اس صورتِ حال کو بدلنے کے لیے ہماری کاروباری برادری کو عالمی مسابقت کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی: مصنوعات کا معیار بہتر بنانا ہوگا، جدت اختیار کرنا ہوگی اور نئی منڈیوں تک پہنچنا ہوگا۔
پاکستان کی پائیدار ترقی کا راستہ برآمدات سے ہو کر گزرتا ہے۔“
وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال،
فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی 50 سالہ تقریبات کے موقع پر بزنس ایکسی لینس ایوارڈز سے خطاب