خیبر پختون خواہ میں ہر شعبے میں لوٹ مار کا بازار گرم رہا اور لوگ عام تھڑوں سے اٹھ کر ارب پتی بن گئے۔ لیکن “اچھی” خبر یہ ہے کہ کسی کے خلاف کوئ ایکشن نہیں ہو گا، ہو گا بھی تو براۓ نام ہو گا اور پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے پر تو بالکل شفاف سلیٹ بھی دی جا سکتی ہے
البتہ بری خبر یہ ہے کہ خیبر پختون خواہ کے سادہ لوح عوام پھر بھی لاہور کے ایک پنجابی خان کے سحر سے نہیں نکل پائیں گے جس کے نام پر انہیں افلاس کے علاوہ کچھ نہیں ملا
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دور اقتدار میں معدنیات کے شعبے میں تاریخ کی بدترین کرپشن اور لوٹ مار بے نقاب ہو گئی۔ سرکاری آڈٹ رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ منظم کرپشن ہےخیبرپختونخوا کے خزانہ کو صرف ایک سال میں 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی نگرانی میں صرف سال 2022 اور 2023 کے دوران غیر قانونی کان کنی کے ذریعے 8 ارب روپے سے زائد کی لوٹ مار کی گئی
نادہندہ ٹھیکہ داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات جان بوجھ کر وصول نہیں کیے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی چیک پوسٹوں، انسپکٹرز اور محکمہ معدنیات کی موجودگی کے باوجود غیر قانونی مائننگ پورے صوبے میں جاری رہی، جس سے مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے صوبائی خزانے سے نکال لئے گئے۔ شاہراہوں اور سمال ڈیمز کی تعمیر کے نام پر بجری اور ریت کے غیر قانونی طور پر نکالے جانے سے 3 ارب 7 کروڑ روپے ہڑپ کرلئے گئے۔ معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول ہی نہیں کیے گئے، جبکہ کوئلہ، باکسائیٹ، لائم اسٹون اور سوپ اسٹون کی کانوں سے 81 کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات بھی معاف کر دیئے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پشاور میں محکمہ معدنیات کی زمین 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے بجائے صرف 200 روپے فی ایکڑ پر دیکر 14 کروڑ روپے عوام کی جیب سے نکال لئے گئےکوہاٹ، نوشہرہ، صوابی، ہری پور اور دیگر اضلاع میں سمال ڈیمز کے واجبات کی عدم وصولی سے 53 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ مردان میں رائلٹی کی مد میں 6 کروڑ 36 لاکھ روپے بھی دبا لئے گئے۔