قرآن و حدیث میں جگہ جگہ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک پہ زور دیا ہے ۔۔
کہ انہیں جھڑکو مت ۔۔ انکے مال نا کھاؤ ۔۔ انکی پرورش کرو کفالت کرو ۔۔ لیکن ہمارے معاشرے میں سب سے بدتر سلوک یتیموں کے ساتھ ہوتا ہے ۔ اللہ کا خوف ختم ہوگیا ہے
نبی کریم ﷺ یتیم تھے حدیث پاک ہے کہ آپ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے کسی یتیم کی پرورش کی وہ اور میں جنت میں دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہوں گے
أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا»
اور آپ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر اشارہ فرمایا (بعض روایات میں تھوڑا فاصلہ بھی رکھا)۔
صحیح بخاری: ۶۰۰۵