روح میں بس گئ وہ نگاہ تھی یا تھی کوئی خنجر اور جھگڑا بھی اس بات پر کیوں کرتے ھو ھم سے محبت
49
کھلتے پھول گلستان میں دیکھ ان کا چہرہ ملتی مہک ان کے خوشبو سے بھرے بدن سے ندی چلتی ان دیکھ چال ہرنی والی شمع روشن ھوتئ ان کی ستارہ آنکھیں دیکھ دیکھ
3
97
وہ الگ تھا جیسے گلاب ھو پھولوں میں مہکی مہکی خوشبو سے معطر اس کی ادائیں خوبصورت کرنوں سے جگمگا رہی اس کی زلفیں وہ الگ تھا چہرہ دلکش دلفریب منظر جیسے خوبصورت وادیوں کا منظر گل گلزار گل بہار تھا وہ وہ الگ تھا سب سے زیادہ خوبصورت
4
8
193
باتیں بھی بے اثر ھو جاتی مزمل جب انسان اندر سے ٹوٹ جائے ھوتے ھوئے سامنے سبھی کے وہ تنہا خود محسوس کر لے
3
183
حاصل کرنے کی کوشش نہیں بس کچھ محبت کرنے کی اجازت چاھے چھوڑ جانا مل جائے جب مجھ سے بہتر بس خاموش ھو جانا سبھی ناطے توڑ جانا
4
151
شام کا سورج کر جاتا اداس اس قدر بجھ جاتے ھم لوگ جیسے جیسے چراغ جلاتے ایک تیرے ھونے کی قسم میرے صنم ورنہ کب کے فنا ھو جاتے
4
1
7
459
خوف زدہ وہ ماضی حال مستقبل ھے شکوے شکایت زمانے سے دھمکانے کے انداز بھی نرالہ ڈراتے بھی پر محبت سے
1
3
340
شیخ میں طائف نہیں تھی بنا دیا زمانے نے کچھ مجبوریاں زیادہ لالچ بھوک پیٹ کی تھی میں بھی پاکیزہ اور مقدس پھر لگا لایا داغ لاج کو ھم نے
1
4
313
کچھ کہیں شدت دل پریشاں ھے ھمارا کوئی گلہ کوئی شکایت ھی کر دے کچھ تو اطمینان قلب ھو میسر تھے کچھ مراسم چلو کچھ دن کے ھی تھے میرے لیے زندگی کی بہاریں سبھی تھی یکساں
1
293
کیوں کہتے محبت کی جاتی یہ تو خوبصورت سایہ سے بھی ھو جاتی ان کی زلف سے ان کی نگاہ سے قابل ذکر ان کی ادا سے جانے کیوں اٹک جاتی میری زبان سامنے ان کے ھم تو بس بول نہ سکے وہ کنارہ کر گئے آتے تھے جن کی بدولت محفل میں مزمل آج بن دیکھے ان کو ھم رو دئیے
233
Good morning
160
کیوں ھو جاتے ھم خاص وھم تھا پل بھر کا بھرم ٹوٹ گیا جب وہ چھوڑ گیا مزمل شاید لگی نظر کسی کی جو بھجا دیا چراغ وفا ابھی جلا کہاں تھا درد بڑا دیا
1
3
179
وہ خوبصورت گلاب چہرہ وہ شوخ نگاہ ترس گئے ھم وہ ہٹا دے زرا پردہ
2
143
ھوتی ہر صبح تیرے خیال سے کرتا کیوں نہیں یقین میرے پیار پر
1
132
دیا داغ دل کو میرے اب کے بار کرچی کرچی ھو جائے گا تیرا خاموش ھو جانا جان سے مزمل جائے گا دیکھی تھی محبت تیری نگاہ میں کیا معلوم کہ تو بھی بدل جائے گا میرے پاس نہ تھا کچھ اب مزمل دنیا سے ساتھ تیری یادیں کے جائے گا فقط میرے دل کو ٹوٹ جانا تھا مگر ھاتھ تیرا ھو گا
1
1
1
267
چھپا رکھا گھنی زلفوں کی چھاؤں میں چہرہ خوبصورت چاند جیسا تھا غضب اور زر تن تھا لباس کالا
1
5
219
کیوں کرتے اب سرگوشیاں کانوں میں آ کر میرے کیا کم تھا جو مل جاتے تھے خوابوں میں آ کر دیکھ بھی نہیں پاتے تھے آپ کو کیا جو ھوتا تھا حجاب آپ نے
168
ایک تو یقین ملنا تو نہیں آپ نے پر میری محبت میں کمی نہ ھو گئ پھر سے کھلا دیا بہار عشق کے آپ نے پھر سے ایک امید پیدا ھوئ نئی بہاروں کی
1
3
177
جب نظر میں رکھا آپ جناب نے سہانے خواب دیکھ رھا کبھی آپ کو کسی روپ میں کبھی کسی روپ میں کبھی لگتی ھو لیلی کبھی ہیر مجھے ایک داستان پھر دیکھے گئ دنیا تیرے میرے انداز میں
1
1
7
147
ھم بھی ٹوٹ کر گرے پتے عشق کے شجر سے تو زمین پر پڑے تھے آپ بھی پہلو میں
1
2
102