صبح کے چار بج رہے ہیں !
ایک مکمل خاموشی ہے لیکن ٹک ٹک کی آواز آرہی ہے !
سب ساکت ہے کیونکہ گھڑی چل رہی ہے !
اگر گھڑی نہ بھی چلے تو وقت پھر بھی چلتا رہے گا !
وقت ایک بےلگام مسافر ہے اسکو کوئی انسان لگام نہیں ڈال سکتا ہے !
انسانوں نے بڑی ترقی کی لیکن انسان ایک لگام دریافت نہیں کر پائے !
وقت کو ڈالی جانے والی لگام!
یہ وہ نقطہ ہے جہاں انسان بےبس ہوجاتا ہے ، اصل میں بےبسی یہ ہی ہے کہ انسان نہ ہی وقت کو روک سکتا ہے نہ اسکو بدل سکتا ہے وہ بس وقت کے ساتھ چل سکتا ہے اگر وقت کے مقابلے رفتار ہلکی ہوئی تب بھی نقصان ہے اور رفتار تیز ہوئی تب بھی نقصان ہے !
اصل میں وقت کی بےلگامی کے ذریعے انسانوں کو لگام ڈالی گئی ہے اور لگام ڈالنے والا وہ ہے جس نے انسانوں کو اور وقت کو بنایا ہے!
اکثر خدا کی قدرت پر بڑہ حیرانگی ہوتی ہے !
اب صبح کے چار نہیں بج رہے بلکہ چار بج کر پانچ منٹ ہو رہے ہیں
اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ جب سب کا سب خدا کی مرضی سے ہونا ہے تو انسان فکر مند کیوں ہوتا ہے
وہ بڑاحسین تخلیق کار ہے اس نے وقت کے ہر پہلو کو خوبصورت بنایا ہے تاکہ لگام زیادہ محسوس نہ ہو !
وہ رحیم بھی تو ہے نا !
بڑا غضب کا رحیم ہے کہ صبح کے چار بج رہے ہوں یا پھر شام کے پانچ بج رہے ہوں وہ ہر وقت موجود ہے جب خدا موجود ہے تو انسان اکیلا کیسے ہوسکتا ہے ؟
وہ انسان جس کی رسی خدا کے ہاتھ میں ہے وہ انسان بھلا کیا تباہ ہوسکتا ہے ؟
نہیں نا؟
بس یہ سب باتیں دل کو سکون پہچانے والی ہیں
اب صبح کے چار بج کر دس منٹ ہوگئے ہیں
اور میں خدا سے دعا کر رہا ہوں کہ اے خدا میری لگام اپنے ہاتھوں میں رکھنا کہ تیرے ہاتھ بڑے محفوظ اور رحمت والے ہیں !
یہ لگام تھوڑی ہے یہ تو میری خوش قسمتی ہے یہ بےبسی بھی نہیں ہے بلکہ یہ فکر اور پریشانیوں سے آزادی ہے !
عباس