پاکستان بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ممنوعہ ملک کے طور پر لکھا ہے، میں جبکہ ایران منافق نے اسرائیل کا نام نہیں بلکہ مقبوضہ فلسطین لکھا ہے۔
گانڈ کی موری سے سوچتا ہے تو تیرا ظرف ورنہ ایران کسی اسرائیل نامی ملک کے جانتا ہی نہیں وہ صرف مقبوضہ فلسطین کو جانتا ہے جو یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ سمجھا دلے حرامی
انڈین مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کہتے ہو کیا؟
مقبوضہ کہتے ہو نا؟
اسی طرح فلسطین مقبوضہ ہے۔۔ مقبوضہ فلسطین کو اسرائیل کہنا ایسا ہی ہے، جیسے مقبوضہ کشمیر کو انڈیا کہا جائے
میرے الحمداللہ 4 بھتیجے ہیں جن میں سب بڑا ابھی 11 کا ہے مگر ہم انکو اب اس طرح گلے نہیں لگاتے unappropriate لگتا ہے
بالکل اس ہی طرح ہماری ماں بھی اپنے بیٹوں کو یوں نہیں چپکا کر پیار جتاتی ہیں۔
یہ عورت نجانے کس عمر میں سیکھے گی کہ تہزیب کیا ہوتی ہے ۔۔
عربوں کی یہ عادت اور چسکا عجیب ہے کہ قادسیہ اور نہاؤند کی جنگوں کے بعد ہمیشہ ایرانی لونڈیاں ہیں رکھتے خود بھی مزا لیتے مہمانوں کو بھی ایرانی لونڈیاں پیش کی جاتیں اب ایرانی عورتیں عربوں کو ترجیح کیوں دیتیں سوچنے کی بات بلکہ عقلمندوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں
پاکستان کے عوام کے شعور کا اندازہ لگائیں کہ لوگ اب کتنے کلیئر ہیں کہ کے پی کا ایک صحافی جسے ہم سب نے انتہائی ایماندار ، مخلص اور اپ رائٹ قرار دیا ہوا تھا، جس کے بارے میں لوگوں کی رائے شاندار تھی اور اسی لیے اس کو غیرآئینی، غیر قانونی سیٹ اپ کا حصہ بنایا گیا کہ لوگوں میں اس کی کریڈیبلٹی ہے ، یہ بیانیہ بنائے گا مگر جیسے ہی اس صحافی نے سرکاری نوکری حاصل کی، اس نظام کا نوکر بھرتی ہوا تو دو گھنٹوں میں اس کی اوقات دو ٹکے کی بھی نہ رہی، پاکستان اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کے شعور کو سلام۔۔۔۔
پچھلے چار سال میں ایک کے بعد ایک وہ کردار ننگا ہوا جو اندر سے بہت چھوٹا اور لالچی تھا مگر اوپر اوپر سے بہت اپ رائٹ بنا ہوا تھا، عمران خان نے پاکستان کے لوگوں کی آنکھوں کا آپریشن کر دیا ہے
حسن بھائی بنیادی سوال یہ ہے کہ گاڑی اس ڈھلان کی اندری طرف سے کیسے چڑھی اور چپکی رہی جبکہ بہت بہت کم فاصلے سے گاڑی شروع ہوئی ہے جبکہ ایسے موقعوں پر تیز سپیڈ درکار ہوتی ہے تاکہ گاڑی اوپر چڑھے اور سطح سے چپکی رہے؟
To climb a slope, especially one that curves inward, high speed is needed to maintain sufficient centripetal force. But how did this car manage to climb the slope despite approaching it at such a short distance?
میرا رافضیوں سے ایک سوال ہے کہ بھائی! چودہ سو سالہ تاریخ میں تمہاری کوئی ایسی سلطنت، کوئی ایسا بادشاہ یا کوئی بڑا نام آیا جس نے کفار کے ساتھ جنگ کی ہو اور فتح بھی حاصل کی ہو؟
اگر ایسا کوئی نام ہے تو بتاؤ کہ کن کن علاقوں میں انہوں نے کفار کو شکست دی، اور کون سی ایسی فتوحات ہیں جو تاریخ میں نمایاں ہیں
اگر اوائل اسلام کی جنگوں میں علی کی تلوار نہ چلتی تو آج یہ جو دعویٰ کر رہا ہے اتنے کلومیٹر فتوحات ہوئیں وہ کبھی نہ ہوتی۔ علی کی تلوار نے نبی کی مدد کی۔ اسکے بعد یہ ساری فتوحات ہوئیں اگرچہ وہ اسلام کے لئے پھر بھی نہیں تھی بس لوٹ مار کرنی تھی بنی امیہ نے۔
کسی گاوں میں زمیندار کی بھینس مر گئی، تو وہ رو رہا تھا۔وہاں سے ایک میراثی کا گزر ہوا جس کا ایک دن پہلے ککڑ مر گیا تھا ۔
میراثی نے پوچھا بھائی کیوں رو رھے ھو تو زمیندار کہنے لگا میری بھینس مر گئی ھے ۔میراثی اپنے ککڑ کو یاد کرتے ھوے بولا یہاں کلغیئوں والے نہیں مل رہے تم کالی چمڑی کو رو رھے ھو..
تو پیارے یوتھیو تم 2 دن سے سمگلر اعلیٰ سہیل آپریدی کے گم ھونے پر پریشان ہو ادھر 2 سال سے 2 ٹیپو سلطان نہیں مل رہے ہیں 😂
اللہ اکبر
یہ ہیں اسرائیل میں یہودی لڑکیاں ایک آدمی ان سے ہاتھ ملاتا ہے تو وہ انکار کر دیتی ہیں کہ ہم یروشلم (Jerusalem) میں ہیں اور ہم شادی سے پہلے کسی غیر مرد سے ہاتھ نہیں ملاتیں
یہ وہ قوم ہے جن کو ہم اپنا سب سے بڑا دشمن کہتے ہیں اور ہیں بھی ،
مگر کیا یہی احکام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نہیں ہیں؟ یا پھر بس حضرت موسی حضرت داود علیہم السلام کے ہی احکامات ہیں
ویسے یہ مذہب تو اسلام سے پرانا ہے اور آج کی یہودی لڑکی شادی سے پہلے کسی مرد سے ہاتھ نہیں ملاتی ہے ، بلکہ بال کٹوا لیتی ہے کہ کوئی غیر مرد نہ دیکھے صرف پہلی بار ان کا شوہر ہی ان کے بال دیکھے
اور ہماری لڑکیاں ؟ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے
باہر کا غیر مرد تو دور کی بات اسلام میں تو عورت کو دیوار ، جیٹھ کزنز سے بھی دوری رکھنے کا حکم ہے اور ہم کس طرف جا رہیں ہیں ؟
ایک اہم بات کیا آپ جانتے ہیں جب تک یہودیوں میں نکاح کی دعا میں قدس کی فتح اور تیسرے ٹیمپل کو بنا لینے کی دعائیں شامل نہ ہو نکاح نہیں ہوتا
کیا کبھی آپ نے کسی مسلمان کے نکاح خطبہ کے دوران قدس کی فتح غزہ کے مسلمانوں کے لیے دعائیں کیں یا ہوتی دیکھی ؟
یقینا نہیں سنی ہوں گی نہ دیکھی ہوں گی
یاد رکھیں اللہ کی پکڑ بہت درد ناک ہے
الله أكبر!
هذه فتيات يهوديات في إسرائيل؛ عندما يمد إليهن رجل يده ليصافحهن، يرفضن ذلك قائلات: "نحن في أورشليم (القدس)، ولا نصافح رجلاً أجنبياً قبل الزواج".
هذه هي الأمة التي نعدّها عدونا الأكبر وهي كذلك حقاً، ولكنْ أليست هذه الأحکام هي نفسها أحكام نبينا محمد صلى الله عليه وآله وسلم؟ أم أنها خاصة بالنبي موسى والنبي داود عليهما السلام فقط؟
مع أن هذه الديانة أقدم من الإسلام، إلا أن الفتاة اليهودية اليوم لا تصافح رجلاً أجنبياً قبل الزواج، بل إنها تقص شعرها كي لا يراه رجل أجنبي، ولا يرى شعرها سوى زوجها ليلة زفافها للمرة الأولى!
وأما فتاياتنا نحن؟ فهذا سؤال كبير يطرح علامة استفهام كبرى!
ناهيك عن الرجل الأجنبي الغريب، فالإسلام يأمر المرأة بالاحتجاب والابتعاد حتى عن أبناء العمومة وأقارب الزوج (كالحمو/أخ الزوج)، فإلى أين نحن آتون وما مصيرنا؟
وأمر مهم آخر: هل تعلمون أنه لا يتم عقد النكاح عند اليهود إلا إذا تضمن دعاء الزواج الدعاءَ بفتح القدس وبناء الهيكل الثالث؟
فهل سمعتم أو رأيتم قط خطبة نكاح لمسلم تضمنت الدعاء لفتح القدس ونصرة مسلمي غزة؟ بالتأكيد لم تسمعوا ولم تروا شيئاً من ذلك قط!
تذكّروا جيداً، إن أخذ الله وعذابه لأليم شديد.