یہ کہنا کہ سندھی صرف کوٹے یا سفارش کے ذریعے آگے آ رہے ہیں، دراصل ایک پرانے تعصبانہ پروپیگنڈے کو نئے الفاظ میں دہرانا ہے۔ قابلیت، محنت اور کامیابی کو کسی قوم کی شناخت سے جوڑ کر مشکوک بنانا ناانصافی ہے۔ سندھی نوجوانوں کی پیش رفت کسی کا حق نہیں چھینتی، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مواقع ملیں تو وہ بھی ہر میدان میں اپنی صلاحیت منوا سکتے ہیں۔
دہائیوں تک ایک من گھڑت پروپیگنڈا پھیلایا جاتا رہا کہ سندھی نوکریاں نہیں کرتے، انہیں نااہل، اَن پڑھ اور گنوار قرار دے کر ایک پوری قوم کے بارے میں منفی تاثر قائم کیا گیا یہ بیانیہ برسوں تک چلتا رہا، اب جب سندھی اپنے جائز حقوق اور نظام میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر رہے ہیں تو اسی پرانے پروپیگنڈے کو نئے انداز میں زندہ کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ وہ کوٹے اور سفارش کے ذریعے آگے آ رہے ہیں!