لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاں ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

Karachi
سارے کام چھوڑ دیں اور میری بات سنیں: آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ برسوں سے بالعموم اور گزشتہ برس بالخصوص ایسی شکایات سامنے آئیں کہ کراچی کے طلبہ کے انٹر رزلٹس میں بےضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔ آپ کو سیاسی جماعتوں کا یہ بیان بھی یاد ہوگا کہ "پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت کراچی کے طلبہ کو جان بوجھ کر فیل کر رہی ہے" سندھ اسمبلی نے اس سلسلے میں ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔ اسی تحقیقاتی کمیٹی کی چشم کشا رپورٹ نے وہ پردہ چاک کر دیا ہے، جس کے پیچھے کراچی کے تعلیمی نظام کا سیاہ چہرہ چھپا ہوا ہے۔ افسوس کہ ڈان اخبار کے سوا کسی قابل زکر ادارے نے اس رپورٹ کو کوور نہیں کیا ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق: تمام جوابی کاپیاں ممتحنوں نے "گھروں" میں بیٹھ کر چیک کیں! کوئی نگرانی نہیں، کوئی احتساب نہیں! مارکس کا حساب غلط، جوابات بغیر پڑھے چھوڑ دیے گئے، اور اگر پڑھے بھی گئے تو نمبروں کی غیر منصفانہ کٹوتی کی گئی۔ کیا یہ کراچی کے طلبہ کے ساتھ مذاق نہیں؟ جس شہر کے طلبہ کو ان کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، وہاں مستقبل کیسے سنورے گا؟ کمیٹی نے واضح کر دیا کہ بورڈ کے پاس نہ کوئی معیاری طریقہ کار ہے، نہ شفافیت، نہ ہی طلبہ کی کارکردگی جانچنے کا کوئی نظام۔ سب کچھ اندھیر نگری، چوپٹ راج کے مترادف ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ یہ صرف بدانتظامی نہیں، یہ نسل کشی ہے۔ علمی و تعلیمی نسل کشی! اگر ایک طالبعلم کو اس کے جائز نمبر نہیں ملتے، تو کل وہ یونیورسٹی میں داخلے سے محروم ہوگا، نتیجتاً وہ نوکری کے موقع سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ سرکاری نوکریاں پہلے ہی تعصب کی نظر ہیں، پرائیویٹ نوکری کے دروازے بھی بند ہوں گے۔ ایسے میں بچہ صرف فوڈ ڈیلوری رائیڈر ہی بن پائے گا۔ کراچی کا بچہ دن رات محنت کرے، مہنگی کوچنگ لے، کتب خریدے، اور سازش کا شکار ہو۔ دوسری طرف اندرونِ سندھ کے طلبہ ہیں جہاں نہ اسکول مکمل، نہ اساتذہ، نہ سہولیات لیکن نمبر ان کے شاندار۔ کیسا ظلم ہے۔ ایسا نہیں کہ کراچی کا بچہ کمزور ہے، ان بچوں نے دہشت گردی دیکھی، پانی کی قلت جھیلی، ٹوٹی سڑکوں پر سفر کیا، بدامنی میں تعلیم حاصل کی، ٹیکس کے بوجھ سے باپ کی کمر کو جھکتے دیکھا ہے، مگر آج بھی مقابلہ کرنے کے لیے سب سے آگے ہے۔ اس کے باوجود، مارکنگ کے نام پر کراچی کے طلبہ کا استحصال غلطی نہیں جرم ہے۔ یہ کھیل صرف بے ضابطگی کا نہیں، یہ بدنیتی کا مظہر ہے! تحقیقی رپورٹ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ "گھروں" کو "چیکنگ مراکز" بنا دیا گیا جو کہ بورڈ کی پالیسیز کی واضح خلاف ورزی ہے، کہیں مارکس بڑھا دیے گئے، کہیں کاپیاں بغیر پڑھے چھوڑ دی گئیں، کہیں ٹوٹل غلط کیا گیا۔ یہ ستم بھی ہوا فائنل رزلٹ شیت کے نمبر امتحانی کاپی میں دیے گئے نمبرز سے مختلف تھے۔ اور مزے کی بات یہ کہ ان "چیکنگ گھروں" میں کون سی کاپیاں نرمی سے چیک ہوئیں؟ زیادہ تر اندرونِ سندھ کی! کیا یہ اتفاق ہے؟ یا سازش؟ کیونکہ اگر اسکول بھی بہتر نہیں، اساتذہ بھی غیر حاضر، اور امتحانات کی تیاری کا کوئی ماحول بھی نہیں، تو یہ مارکس کہاں سے آ رہے ہیں؟ کہاں برس رہے ہیں، کیسے نازل ہو رہے ہیں؟ پولیٹیکل انجینئرنگ کی طرح یہ سراسر "ریزلٹ انجنئرنگ" ہے؟ یہ تعلیمی دہشت گردی ہے !!! میرا شہر جل رہا ہے، طلبہ کا مستقبل برباد ہو رہا ہے اور ہمارے "نمائندے" بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں! ایم کیو ایم ہو یا پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی ہو یا پی ٹی آئی — سب نے کراچی کی سیاست کی، ووٹ لیے، نعرے لگائے، لیکن جب کراچی کے طلبہ کے مارکس کا خون ہوا، جب مستقبل پر ظلم ہوا… تو سب "بے زبان" ہو گئے؟ کہاں ہیں وہ رہنما جو کہتے تھے کہ ہم کراچی کے محافظ ہیں؟ ایم کیو ایم نے دہائیوں تک "کراچی کراچی" کا نعرہ لگایا۔ لیکن آج جب سندھ کے تعلیمی بورڈز کراچی کے بچوں کو پیچھے دھکیل رہے ہیں، تب کوئی احتجاج، کوئی اسمبلی واک آؤٹ، کوئی پریس کانفرنس کیوں نہیں؟ یہ خاموشی ثابت کرتی ہے کہ کراچی کا ووٹ تو سب کو چاہیے، لیکن کراچی کے بچوں کے مستقبل کی کسی کو پروا نہیں۔ عوام کو اب جاگنا ہوگا اور سوال کرنا ہوگا! ایم کیو ایم سے پوچھیے، کہاں ہیں آپ کے تعلیمی ایجنڈے؟ پیپلز پارٹی سے پوچھیے، آپ نے سندھ کے تعلیمی بورڈز کو انصاف کا قلعہ بنایا یا سیاسی مافیا کا اڈہ؟ آپ ایک پوری قوم کو تعصب کی بھینٹ چڑھانے کے۔ بجائے ایک ہی بار ہم پر ایٹم بم کیوں نہیں گرا دیتے؟ دیگر جماعتوں کو بھی بتانا ہوگا کہ آپ صرف جلسے کرنے آئے تھے، یا کراچی کے بچوں کی لڑائی لڑنے بھی؟ یہ وقت ہے احتساب کا، صرف حکام کا نہیں، نمائندوں کا بھی! اگر آپ ہمارے بچوں کے مارکس کی جنگ نہیں لڑ سکتے، تو پھر آپ کے بینر ہمارے محلوں میں کیوں؟آپ کے نعرے لوگوں کی زبان پر کیوں؟ یقین کیجیے ملک کا بیرونی دشمن سے حالت جنگ میں ہونا اتنا خطرناک نہیں جتنا خطرناک یہ متعصب تعلیمی نظام ہے۔ #احمد_اشفاق
26
106
155
13,255
Ahmed Ashfaq retweeted
Vaibhav Sooryavanshi’s bat swing has been outstanding. What’s even more remarkable is how beautifully he clears his front foot to create room for balls aimed at his legs. This freedom allows him to play the way he does. That innings was nothing short of spectacular!
1,346
13,297
145,930
3,551,956
نیا ناظم آباد میں رہائش پذیر ہماری ماؤں بہنوں کو بہادر آباد پر وہی تحفہ بھیجنا چاہیے جو ڈونگری کی عورتوں نے داؤد ابراہیم کو بھیجا تھا چوڑیاں !!!!!
5
31
88
4,434
Ahmed Ashfaq retweeted
Well done, Arjun. ❤️ Proud of the way you’ve carried yourself through this season, always believing in your ability, staying patient, working hard quietly, and remaining positive despite having to wait for your opportunity till the very last match. Cricket tests patience as much as skill, and you handled both beautifully today. Keep your feet on the ground, and continue being in love with the game like you always have. Love you always.👏
3,284
13,752
206,208
4,438,197
کتںی آسانی سے مشہور کیا ہے خود کو میں نے اپنے سے بڑے شخص کو گالی دے کر
“Where are your Shahrah-e-Altaf Hussain and Altaf Hussain Hospital? You remained in power for a long time but could not deliver a single project,” said Bilawal Bhutto Zardari during the inauguration of Shahrah-e-Bhutto. #TOKReports #BilwalBhuttoZardari #ShahrahEBhutto
4
17
57
1,652
میں کئی برسوں سے لکھتا/کہتا آرہا ہوں کہ آپ کی ایسی قربانی باطل ہے جس کی وجہ سے دوسروں کو اپنی سہولت کی قربانی دینا پڑے۔ شامیانے لگا کر گلیاں بند کر دینا، اینٹیں لگا کر جانور کو ایسے پارکنگ سپیس فراہم کرنا کہ آدمی گذر ہی نہ سکے، بیچ گلی میں پلنگ ڈال لینا اور گاڑیاں کھڑی کر کے راستہ بند کر دینا ظلم ہے۔ دوہرا ستم یہ کہ اگر کوئی راہ گیر ایسے بند راستے پر آ نکلے تو آپ اسے راستہ دینے سے پہلے ایسے گھورتے ہیں کہ گویا اس نے آپ کی گلی میں آکر بہت بڑا گناہ کر دیا ہو۔ صاحبو ! اللہ کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو راستے پر بیٹھنے تک سے منع فرمایا ہے، راستہ بند کرنا تو بہت ہی سخت بات ہے۔ آپ انسانوں کو ذلیل کر کے قربانی کے جانور کی کون سی خدمت کر رہے ہیں؟ خدا جانے یہ کیسی قربانی ہے اور خدا ہی جانے کہ ایسی قربانی کا ثواب زیادہ ہے یا لوگوں کو اذیت دینے کا گناہ بڑا ہے ! #احمد_اشفاق
14
43
88
3,797
کراچی سول سوسائٹی اور چند گذارشات دیکھیے قبلہ، آپ بار بار یہ بتا چکے ہیں کہ آپ سب کے ساتھ ادب سے پیش آتے ہیں، اور یقیناً ایسا ہی ہے۔ آپ کا بے حد احترام بھی ہے، لیکن ادب کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنی بات اس انداز میں پیش نہ کی جائے کہ دوسروں کو یہ گمان ہو کہ صرف آپ ہی کی بات درست ہے۔ مکالمہ ضروری ہے، اور اب آپ مکالمہ کرتے نظر نہیں آتے۔ عذر یہ دیتے ہیں کہ دوسرے بدتمیز ہیں۔ تو ذرا دیکھیے کہ آپ کے اردگرد کتنے بدتمیز لوگ بھرے بیٹھے ہیں، آپ ان کو برداشت کر کے اسی بدتمیز فضا میں تو سانس لے رہے ہیں۔ اگر ہر اختلاف رکھنے والے کو محض لہجے یا وابستگی کی بنیاد پر رد کر دیا جائے تو پھر مکالمہ کبھی جنم ہی نہیں لے سکتا۔ معاشرے برداشت، سننے کے حوصلے اور اختلاف کو جگہ دینے سے آگے بڑھتے ہیں، یک طرفہ بیانیوں سے نہیں۔ سول سوسائٹی کا hidden agenda ہو سکتا ہے، آپ اُن کے اخلاص پر بھی شک کر سکتے ہیں، لیکن یہ حق آپ کو تب پہنچتا ہے جب آپ کے اپنے بارے میں سب کی رائے یکساں ہو۔ آپ پر بھی ایک سیاسی لیبل ہے، لوگ آپ کو بھی کسی نسبت سے جوڑتے ہیں۔ تو کیا آپ کے ہر اچھے اقدام کی حوصلہ شکنی یہ کہہ کر کی جائے کہ آپ کسی کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں یا یہ کسی اور کا ایجنڈا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس معاشرے میں شاید ہی کوئی شخص یا طبقہ ایسا ہو جس پر کسی نہ کسی قسم کا الزام یا لیبل نہ لگایا جاتا ہو۔ اگر ہم صرف نیتوں کے تعین میں ہی لگے رہیں گے تو عمل کا میدان خالی ہو جائے گا۔ نیتوں کا فیصلہ وقت کرتا ہے، جبکہ کام کا فائدہ فوری طور پر معاشرے تک پہنچتا ہے۔ اس معاملے کو بھی وقت دیجیے۔ ویسے بھی سول سوسائٹی کا بنیادی کام ہی ناانصافی، جبر اور شہری مسائل کے خلاف آواز اٹھانا ہوتا ہے، سو اگر کراچی کی سول سوسائٹی کراچی کے مسائل پر بول رہی ہے تو یہ کوئی حیرت یا سازش نہیں بلکہ اُن کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر اعتراض یہ ہے کہ یہ صرف پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہیں، تو یہ اعتراض بھی کمزور ہے، کیونکہ یہ کراچی کی سول سوسائٹی ہے، اور کراچی گزشتہ کئی برسوں سے جن مسائل، بدانتظامی اور محرومیوں کا شکار ہے اُس کی ذمہ داری سے پیپلز پارٹی کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جو طبقہ براہِ راست متاثر ہو گا، وہی سب سے پہلے آواز بھی اٹھائے گا۔ جس کی وجہ سے متاثر ہوگا اس کے خلاف آواز اٹھائے گا آپ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کیوں نہیں بولتے، یا اُن قوتوں پر تنقید کیوں نہیں کرتے جنہوں نے یہ سیاسی بندوبست تشکیل دیا، تو یہ اعتراض بھی حقیقت پسندانہ نہیں۔ ہر خطے، ہر طبقے اور ہر گروہ کی اپنی مجبوری، اپنی گنجائش اور اپنا دائرۂ عمل ہوتا ہے۔ اگر کراچی کے لوگ اپنے مقامی مسائل پر آواز اٹھا رہے ہیں تو اُن سے یہ تقاضا کرنا کہ وہ ہر محاذ پر ایک ہی شدت سے لڑیں، دراصل اُنہیں مزید مشکلات میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔ آپ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بعض اوقات لوگ اپنے حالات، ماحول اور خطرات کو سامنے رکھ کر ہی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔ اور اگر باہر بیٹھے سول سوسائٹی کے صلے مقتدرہ کو اس طرح للکاریں جیسے آپ چاہتے ہیں، تو اس کی قیمت بھی ہم ادا کریں گے اور آپ کو باہر والوں کو دینے کے لیے ایک اور الزام مل جائے گا۔ لوگوں کو کام کرنے دیں۔ مشترکہ دشمن کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہی مسائل کا حل دیتی ہے، یگانگت کو فروغ دیتی ہے، مکالمے کی راہ بناتی ہے، اور نئی نسل کو امید دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وہ شخص جو ظلم، ناانصافی، جبر یا نفرت کے خلاف کھڑا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کے مکمل نظریات سے متفق بھی ہو۔ لیکن بڑے مقاصد کے لیے اختلافات کے باوجود ساتھ چلنا ہی بالغ معاشروں کی نشانی ہے۔ آج کی نسل پہلے ہی مایوسی، تقسیم اور بداعتمادی کا شکار ہے۔ اگر ہر آواز کو شک، طنز اور تحقیر سے دبایا جائے گا تو پھر امید کہاں سے پیدا ہوگی؟ ہمیں لوگوں کے ارادوں کے بجائے ان کے کاموں کو دیکھنا چاہیے، اور جہاں خیر کا پہلو موجود ہو وہاں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ ہر کوشش کو سازش قرار دے کر ختم کر دینا چاہیے۔ اختلاف رکھیے، تنقید بھی کیجیے، مگر دروازے بند مت کیجیے۔ کیونکہ بند دروازے صرف فاصلے بڑھاتے ہیں، جبکہ مکالمہ اور ایک دوسرے کو قبول کرنا ہی وہ راستہ ہے جو معاشروں کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ #احمد_اشفاق
17
29
51
6,058
آج فاروق قیصر کی پانچویں برسی ہے مگر انکل سرگم آج بھی زندہ ہیں۔ فنکار کو موت آتی ہے، فن نہیں مرتا۔ خدا درجات بلند کرے ! #قومی_زبان
5
20
457
Money isn't everything
1
2
3
137
Ahmed Ashfaq retweeted
یہ تصویر نہیں بلکہ ہمارے بچپن کا ایک مکمل "ایڈونچر" ہے! وہ بھی کیا سنہرا دور تھا جب خوشیاں اتنی ہی سادہ تھیں جتنی شیشے کی ٹھنڈی بوتل اور اس کا یہ دھاتی ڈھکن۔ گرمیوں کی تپتی دوپہر میں جب برف کے بلاکوں میں دبی ٹھنڈی بوتل ہاتھ میں آتی، تو دل کی دھڑکنیں ڈھکن کھولنے کے انتظار میں تیز ہو جاتیں۔ بوتل منہ سے لگانے سے پہلے پہلا کام ڈھکن کے اندر چھپی اس چھوٹی سی دنیا کو دیکھنا ہوتا تھا۔ اگر ڈھکن کے اندر 'مفت بوتل' لکھا نظر آ جاتا تو وہ جیت کسی اولمپک میڈل سے کم نہیں ہوتی تھی! دکاندار کو وہ ڈھکن دکھا کر دوسری مفت بوتل لینا ایک ایسی کامیابی تھی جس کا چرچا پورے محلے کے دوستوں میں ہوتا۔ کبھی 'دوبارہ کوشش کریں' لکھا آتا تو دل تھوڑا سا بیٹھ جاتا، مگر اگلے دن دوبارہ قسمت آزمائی کا عزم اور بڑھ جاتا۔ وہ ڈھکن صرف کچرا نہیں تھے، بلکہ ہمارے بچپن کے قیمتی سکے تھے جنہیں ہم جیبوں میں سنبھال کر رکھتے تھے۔ دوستوں کے درمیان باقاعدہ مقابلہ ہوتا کہ کس کے پاس کتنے 'مفت' والے ڈھکن جمع ہوئے ہیں۔ وہ شیشے کی بوتلیں، ان کی کڑک گیس کا ناک میں چڑھنا اور وہ کھردرے ڈھکن... سب ایک خوبصورت یاد بن چکے ہیں۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں وہ تجسس اور وہ سادگی کہیں کھو گئی ہے۔ اب تو بڑے بڑے انعامات کے پیغامات موبائل پر آتے ہیں، مگر وہ ایک 'مفت بوتل' والی حقیقی خوشی نہیں دے پاتے۔ وہ دکاندار کا شک بھری نظروں سے ڈھکن کو پرکھنا اور پھر بادلِ ناخواستہ دوسری بوتل تھما دینا... ایک الگ ہی مزہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم انعام کے نہیں، اس تجسس اور امید کے دیوانے تھے جو اس ننھے سے ڈھکن کے پیچھے چھپی ہوتی تھی۔ وہ دور کتنا معصوم تھا جب ہماری پوری کائنات صرف ایک دھاتی ڈھکن کے گرد گھومتی تھی۔ آج بھی ان ڈھکنوں کو دیکھ کر اس دور کی ٹھنڈک، مٹھاس اور وہ بے فکری کے لمحات دل کو گرما دیتے ہیں۔ پہلے نہ مہنگے موبائل تھے، نہ انٹرنیٹ، پھر بھی زندگی میں عجیب سا سکون تھا۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں دل کو خوش کر دیتی تھیں۔ آج سب کچھ ہے، مگر وہ معصوم خوشی کہیں کھو گئی ہے۔ وہ بچپن واقعی بہت قیمتی تھا… جہاں ایک معمولی سا ڈھکن بھی چہرے پر سچی مسکراہٹ لے آتا تھا۔
14
30
196
10,579
Ahmed Ashfaq retweeted
'If you look closely, almost every singer who came after Atif tried to sing like him. Even the biggest singer in our country today, Arijit Singh, if you listen to his earlier songs, he was also trying to sound like Atif. Later he developed a style of his own.' - @docpalash, Euphoria
6
10
43
4,563
آج، دس مئی، اطہر شاہ خان جیدی کی چھٹی برسی ہے۔ ایک باکمال مصنف، ادیب، ہدایتکار، شاعر، مزاح نگار اور اداکار آج ہی ہم سے رخصت ہوا تھا۔ دعا فرمائیے کہ خدا ان پر مہربان ہو #قومی_زبان
9
15
44
1,212
جب ہر کام قرضے سے ہو رہا ہے! تو کراچی کا اپنا بجٹ کہاں لگ رہا ہے؟ کراچی کا بجٹ پیپلز پارٹی کے وزرأ اور ان کے ہمدردوں کی جیب میں جا رہا ہے #PPPChorHai @munazza193 @PakPMO @OfficialDGISPR
Karachi Matters
31
48
647
تینتیس برس قبل، آج ہی کے دن، یکم مئی 1993 کو، اُس وقت کی مہاجر قومی موومنٹ اپنے چیئرمین عظیم احمد طارق سے محروم ہو گئی تھی۔ انہیں مئی کی پہلی صبح کے ابتدائی اوقات میں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ نامعلوم حملہ آور فیڈرل بی ایریا کے مکان نمبر 1165/15 (ان کی رہائش گاہ) میں داخل ہوئے اور ان پر فائرنگ کی۔ ظالموں نے ایک نہایت شریف النفس اور "امن پسند" انسان کو شہید کر دیا، جبکہ ان کے اہلِ خانہ زخمی اور عمر بھر کے لیے خوفزدہ ہو گئے۔ عظیم بھائی ایم کیو ایم کے بانی اراکین میں سے تھے اور کراچی کی سیاسی فضا میں نہایت معزز اور قابلِ احترام شخصیت تھے۔ ان کی وفات کے تینتیس سال بعد بھی ان کی قوم، جماعت اور اہلِ خانہ انصاف کے متلاشی ہیں۔ کیا انہیں کبھی انصاف مل سکے گا؟ بے شمار باتیں ایسی ہیں جو ہم نہیں جانتے، لاتعداد سوالات ایسے ہیں جن کے جواب کبھی نہیں مل سکے۔ ان کی وفات کے وقت ان کی سیاسی وابستگی بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم کے تمام دھڑے انہیں "اپنا" کہتے ہیں، ان سے نسبت جوڑتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سی باتیں ابھی تک ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔ کئی حقائق ایسے ہیں جو آج تک دنیا کے سامنے نہیں آ سکے۔ کیا یہ حقائق کبھی سامنے آئیں گے؟ اللہ تعالیٰ عظیم بھائی پر اپنی رحمت فرمائے! #احمد_اشفاق
8
20
64
3,624
بے شک خدا کسی نفس پر اس کی سکت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا لیکن یہاں بات زمینی خداؤں کی ہے۔ ایک بار پھر ہاتھ اٹھائیے، اپنے رب کو پکاریے۔ خوب گڑگڑائیے اور دعا کیجیے کہ خدا حیدرآباد والوں پر رحم فرمائے۔ ہم سب کو بالعموم اور اہلیان حیدر آباد کو بالخصوص ہر آفت، ہر ناگہانی، ہر آزمائش سے محفوظ رکھے۔ اللہ رحم کرے احمد
3
13
34
700
"یہ شہر جتنا ہمیں دیتا ہے، بدلے میں کہیں زیادہ ہم سے لے لیتا ہے۔" عرفان خان، لائف ان اے میٹرو۔ اگر آپ نان کمرشل فلمز نہیں دیکھتے تو شاید عرفان خان کے ویسے مداح نہ ہوں جیسے اور لوگ ہیں۔ اگر آپ کمرشل فلمز دیکھتے ہیں تو شاہ رخ خان کی فلم "بلو" دیکھ لیجیے، عرفان اور شاہ رخ کا اس فلم میں آخری مکالمہ آپ کو عرفان کا گرویدہ بنا دے گا۔ میرے بچپن میں سونی ٹی وی پر چارٹ بسٹرز نامی ایک پروگرام آیا کرتا تھا جس میں آنے والی فلمز کے ٹریلرز دکھائے جاتے تھے۔ سنہ دو ہزار میں ریلیز ہونے والی فلم "گھات" کا ٹریلر دیکھ کر میں فلم کا شدت سے منتظر تھا۔ اس کی دو وجوہات تھیں، پہلی "شول" اور "ستیا" جیسی فلموں سے اپنے سحر میں جکڑنے والے منوج باجپائی کی موجودگی اور دوسری وجہ ٹریلر میں فلم کے ولن "ماموں" کے کچھ ڈائیلاگز۔ "گھات" کے "ماموں" اور "حاصل" کے "رن وجے" کے روپ میں عرفان نے کچھ کیا ہو نہ کیا ہو، اتنا ضرور کیا کہ مجھے کمرشل اور مصالحہ فلموں سے دور کر دیا۔ میں فلمیں انٹرٹینمنٹ کیلیے نہیں اچھی اداکاری اور جاندار ڈائریکشن کے سبب دیکھنے لگا۔ میں بالی وڈ کے خانز کا دیوانہ رہا ہوں، امیتابھ بچن کے عشق میں گرفتار رہا ہوں مگر میں نے ان کی ہر فلم نہیں دیکھی ہوگی۔ ہاں میں نے نصیر الدین شاہ کی ہر فلم دیکھی ہے، میں نے کریزی فور کے سوا عرفان خان کی ہر ایک فلم دیکھی ہے۔ کتنی ہی کمزور فلم ہو، عرفان نے مایوس نہیں کیا۔ مجھے آج بھی انتظار ہے کہ کوئی اداکار ایک باپ کی بے بسی، اس کا انتقام اور اولاد کا دکھ اپنی آنکھوں سے ویسے دکھا سکے جیسے "مداری" میں عرفان نے دکھایا۔ کوئی تو چمبھل کے ڈکیتوں کا لہجہ اتنی مہارت سے پکڑے جیسے "پان سنگھ تومر" میں عرفان نے پکڑا۔ کوئی تو ہو جو اتنا طاقتور ہو کہ ڈائلاگز کا محتاج نہ ہو، اپنی آنکھوں سے سب کچھ کہہ دے۔ کوئی ہو جو تھپڑ مارنے والے سے زیادہ داد تھپڑ کھا کر وصول کرے وہ بھی بغیر ایک لفظ کہے؟ "مقبول" دیکھیے، پنکج کپور کی گرفتاری کا سین دیکھیے، مرلی شرما کا عرفان کو مارا تھپڑ دیکھیے اور عرفان کی شاندار اداکاری دیکھیے۔ "لنچ باکس" دیکھیے، "پیکو" دیکھیے۔ عرفان کی ہر فلم دیکھیے اور جانیے کہ اداکاری ہوتی کیا ہے۔ عرفان چلا گیا، ایک عظیم فنکار چلا گیا لیکن وہ کام چھوڑ گیا ہے جو تب تک یاد رکھا جائے گا جب تک سنیما موجود ہے، یا شاید اس کے بعد بھی۔ عرفان خان کو بچھڑے آج چھہ برس بیت گئے ہیں لیکن وہ ہمیں یاد ہے۔ آج بھی یاد ہے، کل بھی رہے گا۔ "گرو، تم کو ہم یاد رکھیں گے۔" عرفان خان، حاصل۔ احمد اشفاق، انتیس اپریل ۲۰۲۰۔
“عرفان خان بس ایک ہے” عرفان خان آج سے ۵ سال پہلے اس دنیا سے چلے گئے ، جانا سب نے ہے مگر عرفان خان جیسے کتنے ہوتے ہیں جن کے جانے پہ ہر شخص کو لگے کہ اسکا نقصان ہوا ہے ۔ میرے لئیے جیسے وہ میرا زاتی نقصان ہے ، مجھے آج بھی ان کی فلمیں دیکھ کے محسوس ہوتا ہے کہ یار یہ کہاں اداکاری کر رہا ہے ۔بہت جلدی چلا گیا یہ آدمی۔ پان سنگھ ٹومار ہو، لا ئف ان آ میٹرو نیم سیکھ مداری حاصل ہو یا مقبول حیدر میں روح دار کا کردار ، لنچ باکس کا وہ ادھیڑ عمر آدمی کس کس کا نام لکھا جائے کس کس پہ داد دی جائے۔ میرے لئیے عرفان محض ایک اداکار نہیں تھا ، اس کے یہ کردار صرف فلموں تک محدود نہیں تھے میں نے ان کرداروں سے سیکھا ان سے محبت کی ان کے ساتھ روئی ہنسی “لائف آف پائی “ کے آخر کے ڈائیلاگ مجھے بہت کچھ سکھا گئے ، “روگ “ کی یہ لائن کے “نیند تو بس ماں کی گود میں ہی آتی ہے” جس انداز میں ادا کی عرفان کی ڈائیلاگ ڈیلوری کمال کی تھی ، ان کی آنکھیں ہر کردار میں اتر کے اس کردار کو زندہ کر کے ہمارے ساتھ کھڑا کردیتی تھیں جیسے اس شخص کو ہم جانتے ہیں ۔ عرفان خان جب گیا تو مجھے لگا تھا کہ میرا کوئی بہت اپنا چلا گیا ۔۔ شاید بہت سے اداکار آئیں اور یقینا” آئینگے مگر عرفان خان ایک ہے اور ایک ہی رہے گا ۔۔ ص ع
2
12
876
"گزشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیاء نہ ہو تو جو چاہے کرو“ حضرت محمد مصطفیٰ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ والہ وَسَلَم
5
19
366
Ahmed Ashfaq retweeted
For years, I was repeatedly fired from newsrooms and forced to live like a goddamn homeless tramp — sleeping rough, scraping by, surviving on nothing.The last time? 2018. Just weeks after @ImrankhanPTI became PM. I’ve tasted the bitterness of the sack too many times. So no — I won’t apologize for feeling upset every time a journalist, even if I deeply hate him or her, is thrown out on the street.Whatever the reason. It hits different when you've lived it.
79
83
603
62,691
Ahmed Ashfaq retweeted
پیپلز پارٹی نے سب کر کے دیکھ لیا۔ تعلیمی بجٹ میں کرپشن، تعلیمی نظام میں کرپشن، تعلیمی مراکز کو جاہل بھرتیوں سے بھی تباہ کر کے دیکھ لیا۔ BRT کے نام پر یونیورسٹی روڈ پر سب سے زیادہ پریشان طلباء کو کر کے دیکھ لیا۔ مگر کراچی والے، کراچی والے ہیں۔ وہ پھول ہیں جو پتھر پھاڑ کر کھلتے ہیں
کراچی والے ہر میدان میں کامیاب !
2
23
55
2,113