ان کو بھی پتہ ہے لوٹوں اس ملک کو وہ جیسے تیسے ہو ۔۔
اس حکومت کے پاس یہ جواز بھی نہیں کہ سڑکیں اپوزیشن نے بند کیں اور عوام کی زندگی اجیرن بنا دی، کیونکہ حکومت نے احتجاج سے پہلے ہی خوف کے باعث سڑکیں بند کرنے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کا اقدام خود اٹھایا۔
عوام کے ٹیکس کا پیسہ جس طرح سڑکیں کھودنے، کنٹینرز منگوانے اور مختلف رکاوٹیں کھڑی کرنے پر خرچ کیا گیا، اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ لاکھوں بلکہ اس سے بھی زیادہ روپے کے مبینہ ٹھیکوں اور اخراجات کے بعد آج چند نوجوان ان رکاوٹوں کو اٹھا کر دریائے سندھ میں پھینک دیا تو پھر یہ سارا خرچ کس مقصد کے لیے تھا؟
اگر عوام کے ٹیکس کا پیسہ صرف اس لیے خرچ کیا جائے کہ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے احتجاج کو روکا جا سکے، اور چند لوگ آ کر وہ تمام رکاوٹیں ہٹا دیں، تو یہ عوامی وسائل کا ضیاع ہی ہے۔
حکومت کو صرف رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے کوئی مثبت حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے، سیاسی معاملات کا سیاسی حل نکالنا چاہیے اور ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کے نتیجے میں عوام کو ریلیف ملے، نہ کہ ان کا پیسہ سڑکیں کھودنے اور کنٹینر لگانے پر خرچ ہو۔