Our home was lit up with a glow of warmth last evening, with friends from both sides of the ‘border’ that in 1947, divided us; the people with same roots, similar culture, into two different nations.
Thank you
@Razarumi for giving us the opportunity to listen to you speak very eloquently about all that matters, all that needs to be remembered, respected, revered, & all that we can try to mend. Each one of us will be eagerly waiting for you to come to St Louis again❤️😊
May we see peace prevail! 🇮🇳 🇵🇰
May all the thorns be taken out, and the bitterness can be overcome.
For now🥂
گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں
اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں
فقط تمہیں کو نہیں رنج چاک دامانی
کہ سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی ہیں
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے جاری
ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے عادی ہیں
تمہیں بھی زعم مہا بھارتا لڑی تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے عادی ہیں
ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سے
ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے
الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہار
عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے
تو اب یہ حال ہوا اس درندگی کے سبب
تمہارے پاؤں سلامت رہے نہ ہاتھ مرے
نہ جیت جیت تمہاری نہ ہار ہار مری
نہ کوئی ساتھ تمہارے نہ کوئی ساتھ مرے
ہمارے شہروں کی مجبور و بے نوا مخلوق
دبی ہوئی ہے دکھوں کے ہزار ڈھیروں میں
اب ان کی تیرہ نصیبی چراغ چاہتی ہے
جو لوگ نصف صدی تک رہے اندھیروں میں
چراغ جن سے محبت کی روشنی پھیلے
چراغ جن سے دلوں کے دیار روشن ہوں
چراغ جن سے ضیا امن و آشتی کی ملے
چراغ جن سے دیئے بے شمار روشن ہوں
احمد فراز