شاید آپ نے میرا پروگرام نہیں دیکھا اس میں جو متاثرین نے کہا وہ نہیں سنا پہلے آپ مہربانی فرما کر متاثرین کی عرض سن لیں جن کا میں سعودی،شکر گڑھ ،سرگودھا سے انٹرویو کر چکا ہوں اور وہ متاثرین میں خلا سے نہیں لایا پنجاب کے ہی باسی ہے پاکستانی ہے ! آپکی باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں
پرواز کارڈ سے متعلق حقائق کے برعکس تاثر دینا اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے اقدامات کو متنازع بنانا کسی طور مناسب نہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا، ان کی مالی مشکلات کم کرنا اور انہیں بین الاقوامی روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے حقائق خود اس کی وضاحت کرتے ہیں۔
اپریل میں Americana کے کنٹری ہیڈ محمد رابی کے دورے کے بعد سعودی عرب میں ملازمتوں کے لیے 3 ہفتوں کی اشتہاری مہم چلائی گئی۔ لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں 3 روزہ انٹرویو سیشن منعقد ہوا، جس میں پنجاب بھر سے تقریباً 1,100 امیدواروں نے شرکت کی۔ ان میں سے 218 امیدوار منتخب ہوئے، جبکہ 135 امیدوار سعودی عرب میں ملازمت کے لیے روانہ کیے گئے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب جانے والے تمام 135 امیدوار اپنی ملازمتوں سے خوش ہیں، اور ان میں سے بعض کی پروموشنز بھی ہو چکی ہیں۔ یہ اس بات کی حوصلہ افزا مثال ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں روزگار کے مواقع ملیں تو وہ محنت اور قابلیت سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انتخاب کے بعد امیدواروں کو PSDF کے دفتر میں گروپس کی صورت میں ویزا، میڈیکل، Takamol، Skill Verification Program (SVP)، پولیس کلیئرنس، بائیومیٹرک، ای ویزا اور پرواز کارڈ کے طریقۂ کار پر تفصیلی رہنمائی دی گئی۔ WhatsApp گروپس کے ذریعے بھی ضروری دستاویزات اور ہر مرحلے کی معلومات فراہم کی گئیں۔
ہر امیدوار کو انتخاب سے پہلے ملازمت کی نوعیت اور سعودی عرب میں جاب ڈیسٹینیشن کے بارے میں آگاہ کیا گیا تھا۔ انٹرویو کے دوران اور آفر لیٹر پر دستخط سے پہلے بھی کام کی ذمہ داریاں اور ملازمت کی تفصیلات واضح کی گئیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق، صرف 3 امیدواروں کی ملازمت سے متعلق صورتِ حال سعودی عرب پہنچنے کے بعد تبدیل ہوئی، اور انہیں بھی اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔ چند انفرادی معاملات کو بنیاد بنا کر پورے پروگرام پر سوال اٹھانے کے بجائے حقائق اور شواہد کو سامنے رکھنا چاہیے۔
امیدواروں کو Americana گروپ کے تحت KFC، Hardee’s، Domino’s، Pizza Hut، Krispy Kreme اور Baskin-Robbins جیسے معروف ریسٹورنٹس میں ٹیم ممبر کی ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ ان ذمہ داریوں میں کھانے کی تیاری، آرڈرز، فرائنگ، صفائی اور دیگر روزمرہ امور شامل تھے، جن کے بارے میں امیدواروں کو پہلے سے بتایا گیا تھا۔
مالی معاونت کے تحت تعبیر پروگرام کے ذریعے میڈیکل، SVP اور پولیس کلیئرنس جیسے اخراجات کے لیے تقریباً 70,000 سے 75,000 روپے فی امیدوار کی معاونت فراہم کی گئی۔ پرواز کارڈ کے طریقۂ کار کے مطابق، مطلوبہ مراحل اور دستاویزات کی تکمیل کے بعد پہلے 20% اور ویزا جاری ہونے پر باقی 80% مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
نجی ذرائع سے اسی نوعیت کی ملازمت حاصل کرنے کے اخراجات بعض صورتوں میں 10 سے 12 لاکھ روپے تک ہو سکتے ہیں، جبکہ Americana، Thinkwise اور SDED کی شراکت داری کے تحت پرواز کارڈ کے بغیر بھی ہوائی ٹکٹ سمیت مجموعی اخراجات تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار سے 2 لاکھ 50 ہزار روپے بتائے گئے ہیں۔ اس موازنے کے مطابق ممکنہ بچت 7 لاکھ 50 ہزار سے 9 لاکھ 75 ہزار روپے تک ہو سکتی ہے، جس کا انحصار حقیقی اخراجات پر ہے۔
سعودی عرب روانہ ہونے والے 135 امیدواروں کی وزیراعلیٰ پنجاب کی تقریب میں شرکت اور ان سے براہِ راست گفتگو بھی اس عمل کا حصہ رہی۔ یہ اقدام نوجوانوں کو روزگار، رہنمائی اور مالی معاونت فراہم کرنے کی عملی کوشش ہے۔
سوال ضرور اٹھائیں، مگر مکمل حقائق کے ساتھ۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنے والے اقدامات کو غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر متنازع بنانے کے بجائے ان کی کامیابیوں، زمینی حقائق اور مستفید ہونے والے نوجوانوں کے تجربات کو بھی سامنے لائیں۔