اسلام علیکم پاکستان
کیسے ہیں آپ سب لوگ آپ سب کی لازوال دعاؤں کا بے حد شکریہ
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ گزشتہ دنوں جو معاملات رہے وہ انتہائی سخت اور تکلیف دہ تھے لیکن ان سب کے لیئے ہم سب کو تیار رہنا تھا کیونکہ عمران خان نے تو مسلسل اپکو ، ہمیں آگاہ کیا تھا لیکن اس حد تک ظلم ہوگا یہ ہمیں اندازہ نہیں تھا، عمران خان نے آپ سے ہم سے اپنے تمام جلسوں میں حلف لیا وہ حلف کیوں تھا اسلیئے کہ ڈٹے رہنا ہے کچھ بھی ہو جائے آپ سب کو ابھی بھی اسی حلف کی پاسداری کرنا ہے ان شاء اللہ ہم دیکھیں گے کہ عمران خان ہمارا سچا لیڈر واپس پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرے گا مشکلات آئیں بیت تکلیف دہ وقت رہا لیکن یہ مشکلات ہمیں سیکھا گئیں کہ وفا کے راستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ ہم کھڑے تھے ہم کھڑے ہیں اور ہم کھڑے رہیں گے میں آپ سب کی بے حد مشکور ہوں جنہوں نے میرے لیئے آواز اٹھائی یا مجھے یاد رکھا سلسلہ وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے تھوڑی دیر کے لیئے منقتع ہوا تھا۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔
@PTI@ImranKhanPTI
کافی حد تک سیاسی معاملات طے ہوچکے تھے اگر وفاق کی پالیسی کامیاب ہے تو بلوچستان میں بھی اس کے نتائج نظر آنے چاہئیں وہاں تو صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، صرف کچھ کر گزرنا مقصد نہیں، نتیجہ خیز کام بھی ہونا چاہیے۔
الیکشن کمیشن جو کبھی آئینی ادارہ ہوا کرتا تھا آج اس ملک کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار ہے جس نے فارم 47 کا جادو کی چھڑی گھمائی اور ملک آج تک سیدھا نہیں چل پایا۔
سہیل آفریدی ہمارا اسٹار ہے، جو اپنی حکومت اور وزارت اعلیٰ کی پروا کیے بغیر اپنے لیڈر عمران خان کے ویژن پر ملک اور عوام کے لیے باہر نکلا ہوا ہے اگر آج گورنر راج لگاتے ہیں یہ اس کو ڈس کوالیفائی کرتے ہیں تو وہ ایک بڑے پشتون لیڈر کے طور پر سامنے آ جائے گا۔
@SohailAfridiISF
سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے لیے بے شک کے پی کے کو متحرک اور جذباتی کر دیا ہے لیکن پی ٹی آئی کے لیے اصل المیہ یہ ہے کہ پنجاب میں کوئی سہیل آفریدی نہیں۔یہاں ذیادہ تر فرمائشی حاضری سیلفی اور ٹک ٹاک پروگرام ہے۔نوے فی صد پی ٹی آئی ایم این ایز ایم پی ایز عہدیداروں اور رہنماؤں کا کام بس سوشل میڈیا کے لیے ایک دو اچھی ویڈیوز نکالنا ہے۔اور یہ سب میں پی ٹی آئی کے تین احتجاجوں میں بنفس نفیس شریک ہو کر دیکھ اور محسوس کر چکا ہوں۔پنجاب پی ٹی آئی کا مرد بیمار ہے۔اسے اٹھانا ہی پی ٹی آئی کا اصل امتحان ہے۔
مجھے تو یا مار دیں گے یا جیل میں ڈال دیں گے لیکن کسی کا باپ بھی اب خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشن نہیں کرسکتا
سہیل خان افریدی اللہ آپکی حفاظت کرے آمین اس وقت ساری قوم کی توجہ آپ پر ہے
Closed to million of protesters have taken to the streets in Kohat, Pakistan, demanding the release of former Prime Minister Imran Khan, who has been jailed since 2023.
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
اج کا دن بھی تحریک انصاف کے ورکرز کے نام رہا۔26 ستمبر کو لاہور پولیس نے ایک ایف ائی ار درج کی تھانہ ڈیفنس اے میں جس کا نمبر 1769 ہے۔ جس پر ایک پریس کانفرنس بھی کی گئی کہ اس میں کوئی کریمینل کانسپریسی کی گئی۔اور ہم نے سازش پکڑ لی۔ اج اس مقدمے کا ریمانڈ ساڑھے دس بجے کنٹیسٹ ہونا تھا۔ میں وہاں 10 بجے پہنچا۔مگر ہمیشہ کی طرح پولیس ملزمان کو دو بجے لے کر ائی۔ بہت اچھے طریقے سے ان کا ریمانڈ کنٹیسٹ ہوا۔مزید چار روز کا جج نے ریمانڈ دیا ہے مگر ڈائریکشن کے ساتھ۔کہ ایک تو اس سے اگے ریمانڈ نہیں ہوگا دوسرا متعلقہ تفتیشی کے خلاف انہوں نے اپنے آرڈر میں لکھا کہ انہوں عدالت میں 10 بجے پیش کرنے کے میرے آرڈر کو نہیں مانا ان کے خلاف انکوائری کی جائے۔اس FIR میں محترمہ فاطمہ حیدر صاحبہ نامزد ہیں لیکن گرفتار نہیں ہیں۔جو دو لوگ گرفتار ہیں اس میں سید شفقت ہے اور ایک ڈرائیور ہےآمین نام کا ہے۔دفعہ 124 اے کے حوالے سے میں نے معزز عدالت کو اسسٹ کیا اس پر معزز عدالت نے متعلقہ پولیس افسران کو اس پر لیگل اوپینین لے کر اگلی تاریخ تک عدالت میں سبمٹ کرنے کا حکم دیا۔ان شاءاللہ تعالی کوشش ہوگی کہ یہ ملزمان جلد از جلد ضمانت پر رہا ہوجائیں۔
ملک پرویز اقبال اموی
ایڈوکیٹ ہائی کورٹ لاہور
People of Pakistan, do not let your leader be humiliated at the hands of the Zionists and their agents.
We stand with Imran Khan until his release and the restoration of his honor; he deserves to be honored, while those who imprisoned him deserve imprisonment.
ہم پُرامن لوگ ہیں۔ ہم نے 126 دن کا دھرنا دیا، لیکن ایک گملہ تک نہیں توڑا۔ میں خیبر سے کراچی تک گیا، اسٹریٹ موومنٹ کی، لیکن ایک جملہ تک نہیں توڑا۔
ہم پر تشدد کیا گیا۔ جہاں ہم نے قیام کیا، وہاں بجلی کاٹی گئی، گاڑیاں توڑی گئی، لیکن اس کے باوجود ہم پُرامن رہے۔
جو 7 نکات میں نے اپنے ڈرافٹ میں دیے ہیں، وہ سب آئینی اور قانونی ہیں۔ اگر یہ ان پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتے تو یہ ان کی مرضی ہے، لیکن کوئی خود کو آئین اور قانون سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا۔
آئین اور قانون ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، اور ہم یہ حق استعمال کریں گے۔ ان شاء اللہ، جب تک ہمارے بدن میں سانس اور خون کا آخری قطرہ باقی ہے، ہم پاکستان میں حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے۔
عمران خان صاحب آپ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عمران خان صاحب کو کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سب کچھ دیا ہے۔ انہیں نہ اقتدار کی ضرورت ہے، نہ کرسی کی اور نہ کسی اور چیز کی لالچ۔ عمران خان صاحب صرف آپ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
آپ کو چاہیے کہ عمران خان صاحب کا ساتھ دیں، ان کے لیے نکلیں۔ انہیں عدالتوں سے امید نہیں، کیونکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتیں بے بس ہو چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان صاحب جھکے نہیں، وہ ڈیل نہیں کر رہے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کا نوجوان نکلے گا اور ان کا ساتھ دے گا۔
پاکستان کے نوجوانوں! یہی وقت ہے کہ خود کو اس ظالم نظام اور جابر حکمرانوں سے آزاد کرو۔ یہی وقت ہے حقیقی آزادی کی جدوجہد کا، پُرامن طریقے سے آئین اور قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بحالی کی جدوجہد کا۔
نکلو، اپنی خاطر، اپنے بچوں کی خاطر، اور پاکستان کی خاطر!
وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا خصوصی پیغام
ہم پُرامن لوگ ہیں۔ ہم نے 126 دن کا دھرنا دیا، لیکن ایک گملہ تک نہیں توڑا۔ میں خیبر سے کراچی تک گیا، اسٹریٹ موومنٹ کی، لیکن ایک جملہ تک نہیں توڑا۔
ہم پر تشدد کیا گیا۔ جہاں ہم نے قیام کیا، وہاں بجلی کاٹی گئی، گاڑیاں توڑی گئی، لیکن اس کے باوجود ہم پُرامن رہے۔ جو 7 نکات میں نے اپنے ڈرافٹ میں دیے ہیں، وہ سب آئینی اور قانونی ہیں۔ اگر یہ ان پر عمل درآمد نہیں کرنا چاہتے تو یہ ان کی مرضی ہے، لیکن کوئی خود کو آئین اور قانون سے بالاتر نہیں سمجھ سکتا۔ آئین اور قانون ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، اور ہم یہ حق استعمال کریں گے۔ ان شاء اللہ، جب تک ہمارے بدن میں سانس اور خون کا آخری قطرہ باقی ہے، ہم پاکستان میں حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ عمران خان صاحب آپ کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
عمران خان صاحب کو کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سب کچھ دیا ہے۔ انہیں نہ اقتدار کی ضرورت ہے، نہ کرسی کی اور نہ کسی اور چیز کی لالچ۔ عمران خان صاحب صرف آپ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ عمران خان صاحب کا ساتھ دیں، ان کے لیے نکلیں۔ انہیں عدالتوں سے امید نہیں، کیونکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد عدالتیں بے بس ہو چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان صاحب جھکے نہیں، وہ ڈیل نہیں کر رہے، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کا نوجوان نکلے گا اور ان کا ساتھ دے گا۔
پاکستان کے نوجوانوں یہی وقت ہے کہ خود کو اس ظالم نظام اور جابر حکمرانوں سے آزاد کرو۔ یہی وقت ہے حقیقی آزادی کی جدوجہد کا، پُرامن طریقے سے آئین اور قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بحالی کی جدوجہد کا۔ نکلو، اپنی خاطر، اپنے بچوں کی خاطر، اور پاکستان کی خاطر وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کا خصوصی پیغام
لانگ مارچ پشاور پہنچ چکا ہے، آج ضلع خیبر جا رہے ہیں، کل پشاور میں داخل ہوں گے
اس وقت لانگ مارچ پشاور پہنچ چکا ہے۔ آج ہم ضلع خیبر جا رہے ہیں، جہاں سے کل دوبارہ پشاور میں داخل ہوں گے۔
پہلے دن سے ہی میڈیا پر بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، لیکن آپ سب سوشل میڈیا پر سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔
۔شفیع جان
ایک صوبے میں ایک وزیر کو اٹھایا جا سکتا ہے، ایک دوسرے وزیر کو اٹھانے پر جب سیلف ڈیفنس میں گولی چلائی جاتی ہے تو اس پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور اس کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی۔ منتخب ایم این ایز کو گھروں اور سڑکوں سے اٹھایا جا سکتا ہے، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گھروں میں جا کر توڑ پھوڑ کی جا سکتی ہے۔
ڈی پی او کی تبدیلی صرف اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ آپ نے چیف منسٹر کو پروٹوکول کیوں دیا۔ جہاں چیف منسٹر کی مرضی کا ڈی پی او نہیں لگ سکتا، جہاں ڈپٹی کمشنر کسی کی مرضی کے تبادلے پر چارج نہیں لے سکتا، وہاں کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بھائی جان! ہمارے گھروں میں گھسنے پر ہم نہ آپ کو روک سکے اور نہ آپ نے ہم سے اجازت لی، تو باقی بھی خود کریں۔ ہماری اجازت کی کیا ضرورت ہے؟
ہمارا پلان پشاور کا تھا، مگر اب پہلے خیبر جائیں گے، اس کے بعد پشاور جائیں گے۔ ہم نے لانگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تو آپ نے دیکھا کہ پریس کانفرنسیں کہاں ہوئیں۔
جب ہم کہیں گے کہ اسلام آباد جائیں گے تو آپ کا باپ بھی ہمیں نہیں روک پائے گا۔ انہیں تکلیف 27 ستمبر سے 4 اکتوبر کی تاریخ تبدیل کرنے پر ہوئی اور اب ٹیسٹ میچ پر ہو رہی ہے۔
2018 سے 2022 تک یہاں امن تھا، عمران خان کسی کی غلامی نہیں کر رہے تھے۔ عمران خان کو باہر لانا ہے، وزیراعظم بنانا ہے، عمران خان وزیراعظم ہوں گے تو ترقی اور خوشحالی بھی آئے گی۔
ان کا دور ختم ہونے والا ہے اور ہمارا زمانہ شروع ہونے والا ہے۔
— وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی