اے میرے سارے لوگو۔۔۔ مری بستی سے پرے بھی مرے دشمن ہوں گے پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا آشنا ہاتھ ہی اکثر مری جانب لپکے میرے سینے میں سدا اپنا ہی خنجر اترا

Earth.🌏
جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کاٹتی ہو ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تھو روزِ اول سے جو غیروں کا وفادار رہا شہرِ بد بخت کے اس دوغلے کردار پہ تھو زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور عادلِ شہر! تِرے عدل کے معیار پہ تھو
7
7
27
2,920
یاد رکھنا یہ ہاتھوں سے باندی ہوئی گانٹھیں دانتوں کے ساتھ بھی نہیں کھلیں گی سنتے ائے تھے کہ چنگیز خان جب کسی ملک کو فتح کرتا تھا تو تباہ و بربادی اپنے پیچھے چھوڑ جاتا تھا مجھے یقین ہو چلا کے ان کے ڈی این اے میں چنگیز خان کی نسلوں کا خون ہے
ایم این اے نسیم علی شاہ کو اغوا کر لیا گیا منتخب نمائندوں کی اس قدر توہین کسی مارشل لاء میں بھی نہی کی گئی ہو گی جتنی اس غیر جمہوری اور قابض گورنر راج کی آڑ میں اس ان ڈکلیئر مارشل لاء میں کی جارہی ہے ۔
1
5
عمران خان اپنی سیاسی مقبولیت کے عروج پر ہے، مقبولیت ساتویں آسمان پر ہے۔ ماننے میں شرم و حیا مانع نہ ہو تو وطنی تاریخ میں پہلا پاکستانی جو بلوچستان، سندھ، فاٹا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، پہاڑوں، گھاٹیوں، صحراؤں اور کچے کی دلدلوں میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔💝
غصہ نہ کریں میری معروضات پر ہمدردانہ غور کریں۔ مقتدرہ اپنی بدنصیبی سمجھے کہ اس کے پاس پاکستان کو بچانے کے لیے عمران خان کے علاوہ کوئی اور چوائس موجود ہی نہیں ہے۔ نظام کے انہدام (collapse) کا رونا رونے والوں کو بتانا ہے کہ وطن عزیز پر تنی قیامت کی اس گھڑی میں نظام کو مارو گولی، ریاست بچانے کی فکر کرو۔ وطن کی فکر کر ناداں، مملکت کا شیرازہ بکھرنے کو ہے۔ دو رائے نہیں کہ جمہوریآئینی، پارلیمانی، عدالتی نظام یقیناً کھنڈر بن چکا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کھنڈر بنایا کس نے؟ گستاخی معاف، یہ انہدام آپ لوگوں کی محنت اور کاوشوں کا مرہونِ منت ہی تو ہے۔ قائداعظم کا پاکستان قصۂ پارینہ بننے کو ہے۔ بلوچستان مسلسل جل رہا ہے، دہائیوں سے سلگ رہا تھا، آج آسمان کو چھوتے الاؤ میں ہے۔ کشمیر میں پہلی دفعہ پاکستان کے خلاف احتجاج اور پاکستان سے چھٹکارے کے حق میں نعرے بلند ہو رہے ہیں۔ چند سال پہلے گلگت بلتستان سے بھی پاکستان کے خلاف ایک ٹریلر چل چکا ہے۔ سندھ سے کوئی قومی منصوبہ پاس کروانا اب آپ لوگوں کے لیے جوئے شیر لانا ہے، پکی ناں ہی سمجھیں۔ زرداری اور بلاول نظامِ ریاست چلانے والوں کی کمزوریوں سے آگاہ ہیں۔ ان کا فائدہ اٹھا کر نظام کے گھس بیٹھیوں کے سندھ میں گھسنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب جبکہ خیبر پختونخوا فتح کر لیا ہے، ساری زمین قبضے میں ہے، مگر ساڑھے چار کروڑ عوام، 99 فیصد، ریاست کے خلاف یکسو ہو چکی ہے۔ پنجاب کے اندر آپ جناب لوگوں کی قدرومنزلت بھی اُترائی کے آخری زینے پر ہے۔ تیرا بنے گا کیا؟ مجھے اس کی فکر ہےنہ پروا، مجھے اپنے وطن کی فکر گھائل کر رہی ہے۔ جو کوئی بھی ہے، جو نظامِ ریاست چلا رہا ہے، اُس کے گوش گزار کرنا ہے کہ پاکستان عدم استحکام کے آخری درجے کو چھو چکا ہے اور اب disintegration کی طرف سرک رہا ہے۔ نظام کھنڈر بن چکا ہے، بحال کیسے ہو گا ۔ خدا کے واسطے! پاکستان کو Unity, Faith, Discipline کی آڑ میں اپنی ذاتی ترقیاں حاصل کرنے کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ التجا ہے کہ پاکستان کو اپنی نوکری پر ترجیح دیں۔ اس ملک نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ نظام کو منہدم کرنے والے ذمہ داران سے درخواست ! پاکستان کھلونا نہیں ہے آپ کے ذاتی غصے، عناد اور ego کی تسکین کے لیے استعمال میں رہے۔ سانحہ 1971 آپ کے غصے اور عناد کی نذر چڑھا تھا۔ اگر آپ 25 کروڑ عوام الناس سے مخلص ہیں تو مملکت آپ کی ترجیح ہوتی، تو جو ملکی حالات جس نہج پر ہیں، مملکت آپنی ترجیح بنایں۔ قومی قیادت کھڈے لائن یا اپنے اپنے مفادات میں اپ لوگوں کی تابعداری میں ہے۔نواز شریف مایوس اور لاتعلق ، داتھی نوکری پیشہ اختیار کر چکے ہیں۔ بلاول کے پاس زرداری صاحب کااسکرپٹ ہے، صوبۂ سندھ کا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ سندھ میں داخلے پر پابندی کے بعداب آپ لوگوں کو خیبر پختونخوا کی دلدل میں اہتمام کے ساتھ دھکیل چکا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو آپ لوگ پچھلی تین دہائیوں سے دوسری سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں توہین کا نشانہ بنوا کر مولانا کی قومی سیاست کو کمزور کر چکے ہو۔ جماعتِ اسلامی کنفیوزڈ ہے۔ عمران خان کو آپ لوگوں کی طرح اپنی ذات سے عشق ہے،وہ اپنی ذات کے حصار میں بند کہ اس کی تربیت ہی یہی رہی ہےکہ عمران خان کی ذات، مملکت، نظریے، ہر چیز پر مقدم ہے۔ وہ اپنی ذات کے سحر سے نکلے گا، ناممکن ہے کیونکہ اب وہ مقبولیت کے جس مقام پر ہے ایسی مقبولیت فکشن اور ناولوں میں جبکہ تاریخ کی کتابوں میں صدیوں زندہ رکھتی ہے ۔ ذہنی طور پر وہ آپ لوگوں سے زیادہ مضبوط ہے، لڑ کر مر جائے گا، ذہنی طور پر نہیں ٹوٹے گا۔ آپ لوگوں کا عمران خان پر غصہ بجا، مگر آپ پاکستان کی خاطر اپنا غصہ تھوک پائیں گے، بظاہر ناممکن ہے، کیوں کہ آپ لوگ بھی اپنی ego اور عناد کے حصار میں ہیں۔ عمران خان اپنی سیاسی مقبولیت کے عروج پر ہے، مقبولیت ساتویں آسمان پر ہے۔ ماننے میں شرم و حیا مانع نہ ہو تو وطنی تاریخ میں پہلا پاکستانی جو بلوچستان، سندھ، فاٹا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، پہاڑوں، گھاٹیوں، صحراؤں اور کچے کی دلدلوں میں بدرجۂ اتم موجود ہے، غیر معمولی مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے ہوئے ہے۔ مان لیں؛ عمران خان کی مقبولیت آپ لوگوں کی محنتِ شاقہ اور کوششوں نتیجہ ہے۔ اب فرسٹریٹ ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ عمران خان کے مرجعِ خلائق ہونے اور غیر معمولی مقبولیت کے مقام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، بہتر ہے کہ پاکستان کے حق میں عمران خان مقبولیت کے استعمال کی ترکیب بنائیں ۔ مملکت بچانے کا واحد راستہ عمران خان کو آن بورڈ کرنا اورایک قومی حکومت بنانا ہے۔ اگر قومی حکومت نہ بنی تو مملکت کو بچانا مشکل، خوابِ خیالی ہی رہنی ہے۔ باقی؛ قومی مایوسی بہت جلد ہم آپ سب کے گلے دبوچنے کو ہیں، اور پھر داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ میری آسودگی اتنی پہلی دفعہ ”ہماں یاراں دوزخ“۔
2
23
RT @hafeezullah_k: غصہ نہ کریں میری معروضات پر ہمدردانہ غور کریں۔ مقتدرہ اپنی بدنصیبی سمجھے کہ اس کے پاس پاکستان کو بچانے کے لیے عمران خا…
548
اخے انڈیا بوہت ظالم ہے
راولاکوٹ نہتے شہریوں پر سیدھی فائرنگ — ویڈیو بطور ثبوت۔ سوال یہ ہے کہ نہتے شہریوں پر سیدھی گولیاں چلانے کا اختیار کس نے دیا؟ کیا عوام کے تحفظ کے نام پر تعینات اہلکاروں کو عوام ہی کے سینوں میں گولیاں اتارنے کا لائسنس حاصل ہے؟جو فورس نہتے شہریوں کی حفاظت کے بجائے اُن پر گولیاں برسائے، کیا اُسے واقعی عوام کی محافظ فورس کہا جا سکتا ہے۔۔۔؟
11
Start for ending
زمینوں پہ قبضے ، معدنیات پہ قبضے ان مقامی افراد کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہے یہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے
1
21
muhammad ijaz retweeted
زمینوں پہ قبضے ، معدنیات پہ قبضے ان مقامی افراد کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہے یہ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے
42
1,282
2,972
38,123
ایوب خان نے مینڈیٹ چرایا بنگالیوں نے پتلونیں اتروا دیں ان کی اور ملک ٹوٹ گیا...!!! ان منیرے اور اس کی لونڈی نے گورنر راج لگوایا. پختونوں نے پتلونیں اتروا کر تاریخ دہرا دی. کیا اب پھر ملک ٹوٹے گا..؟؟؟
13
105
318
18,035
muhammad ijaz retweeted
اب تک ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر چار ہزار ارب روپے کا تانبا یعنی Copper بیچ چکے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ معدنیات لے کر جانے کے وقت نہ دھشتگرد ہوتے ہیں اور نہ کوئی قسم کا خطرہ
63
2,329
4,605
50,567
muhammad ijaz retweeted
یہ جو بنا وارنٹ کے پی چادر چاردیواری کا تقدس پامال کر رہیں ہیں یہ اگر عوام نے آگے سے کچھ کردیا تو پھر کیا یہ شہید ہونگیں؟ یہ کے پی میں جو کرہیں ہیں وہ بلوچستان ہی بنے گا اگلا۔۔۔۔
63
1,329
3,033
31,085
muhammad ijaz retweeted
پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں اس لیول کے "برین ڈرین" کو "برین گین" کہ کر گوبر کو "گجریلا" اور بلغم کو "مقیت شہد" ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے -1971سے 2021 کے درمیان سالانہ ایک لاکھ لوگ ملک چھوڑ کر جاتے تھے - یہ شرح 2022 سے 2026 میں آٹھ گنا بڑھی اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے - ان میں زیادہ تر ڈاکٹرز ، انجنیرز اور آئ ٹی کے پروفیشنلز شامل ہیں کوئی میٹرک پاس لوگ نہیں - اتنے بڑے انخلا کی وجوہات تلاش کرنے اور ان کا مداوا کرنے کی بجاے اس ملک میں آرمی چیف نے سب سے پہلے اس کیلئے "برین گین " کی ٹرم اصطلاح استعمال کی - اس کے بعد چاپلوسی کے چکر میں ہر حکومتی منسٹر ہر وزیر نے اس ٹرم کا بار بار استعمال کیا کہ یہ برین گین ہے - اس کو کہتے ہیں خود ان پڑھ اور جاہل پر نام "حکمت جہاں " جی ہاں - یہ بالکل برین گین ہے پر اس امریکا ، انگلینڈ اور یورپ کیلئے جہاں یہ برین جا کر بسے ہیں اور جہاں یہ اپنی سکلز کا استعمال کر رہے ہیں جس سے وہ سوسایٹی گین کر رہی ہے - پاکستان کیلئے یہ شدید برین ڈرین ہے جہاں ان کے جانے سے اتنا بڑا انخلا پیدا ہوا ہے جس کو نالائق اور سفارشی لوگوں نے پورا کیا ہے - اگر آپ کا یہ آرگومینٹ ہے کہ یہ برین باہر جاکر گھر پیسہ بھیجتے ہیں تو یہ ہماری سب سے بڑی" برامدات اور ایکسپورٹ " ہیں تو یہ ایک انتہائی گھٹیا ارگومینٹ ہے جہاں آپ نے باہر بھیجی جانے والی کپاس ، پنک سالٹ ' سوتر دھاگے اور انسانی دماغوں اور سکلز کو ایک ہی لائن میں کھڑا کرکے انکی قیمت سیٹ کردی ہے - اصل قیمت وہ خلا ہے جس کی وجہ سے یہاں میڈیکل کی ایڈوانسمنٹ نہیں ہوئی ' جس کی وجہ سے یہاں دو لاکھ لوگوں کیلئے ایک ڈاکٹر بچا ہے - جس کی وجہ سے آئ ٹی انڈسٹری فروغ نہیں پاسکی - جس کی وجہ سے یہاں کریٹکل تھنکنگ نہیں ہوئی - یہاں کے اشرافیہ باہر جاکر انہی پاکستانی ڈاکٹروں سے اپنا علاج تو کروا لیتے ہیں لیکن ایک عام پاکستانی کی ان تک ایکسیس کا ریٹ "ریمٹینس" ہے اور یہ انتہائی سستا سودا ہے - ایکسپورٹ کا بنیادی اصول یہ ہوتا ہے کہ آپ پہلے اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں اس کے بعد سرپلس کو باہر فروخت کرتے ہیں - کیا "برین " کی ہماری اپنی ضرورت پوری ہے ؟ یہ ووہی بات ہوگئی کہ آپ اپنی کڈنی (گردہ ) بیچ کر اپنا گھر چلانے لگیں اور ساری بقیہ زندگی ڈائلسیز کرواتے رہیں - "برین ڈرین " اس ملک کا سب سے بڑا نقصان اور لیک ہے ' جس کی سب سے بڑی وجہ اس ملک میں سفارشی کلچر ' فریڈم آف ایکسپریشن کا سپریشن اور آمرانہ نظام ہے - اگر آپ کو مزید جاننا ہے کہ ایک غیر جمہوری آمرانہ نظام کا "برین ڈرین " سے کیا تعلق ہے تو اس کیلئے آپ کو اس ٹرم "برین ڈرین " اور " وال آف برلن " کا تعلق پڑھنے کی ضرورت ہے جب یہ ٹرم 1960 میں پہلی دفعہ استعمال کی گئی تھی جس پر میں تفصیل سے ماضی میں لکھ چکا ہوں اور اس کالم " برین ڈرین اور وال آف برلن" کا لنک درج ذیل ہے - جو قومیں اپنے نقصان کو "نقصان " سمجھتی ہی نہیں بلکہ اس کو "گین " سمجھ کر اس کو سیلیبریٹ کرتی ہیں ' ان کیلئے اقبال نے یہ شعر کہا تھا وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا قلم کی جسارت وقاص نواز Link: x.com/WaqasnawazMD/status/17… --------------------------------------------- @MoeedNj @siasatpk
"برین ڈرین اور برلن وال" (تاریخ کے اوراق سے ایک صفحہ جو آپ کو جانا پہچانا لگے گا ) آپ نے اکثر ایک لفظ سنا ہوگا " برین ڈرین" (Brain Drain) - کیا آپ کو اس لفظ کی ہسٹری پتا ہے کہ یہ کب پہلی دفعہ استعمال ہوا ؟ کیا آپ کو یہ پتا ہے کہ "برین ڈرین " اور "برلن وال " کا کیا تعلق ہے ؟ چلیں پھر تاریخ کے اوراق سے اس اصطلاح پر روشنی ڈالتا ہوں اور اس کو آج کے حالات پر اپلائی کرکے پھر سے ثابت کرتا ہوں کہ تاریخ میں کچھ بھی نیا نہیں (اپلائیڈ ہسٹری ) - " برین ڈرین " کی اصطلاح پہلی دفعہ جرمنی کے لوگوں کیلئے استعمال کی گئی تھی جب 1949 سے 1960 کے درمیان چالیس لاکھ کے قریب لوگ سٹالن کے مشرقی جرمنی سے نیٹو اتحاد کے مغربی جرمنی میں ہجرت کر کے چلے گیے تھے - 1945 میں دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کی شکست کے بعد جرمنی پر چار ملکوں کا تسلط قائم ہوگیا تھا - مغربی حصے میں تین ملکوں کا اتحاد یعنی امریکا ' برطانیہ اور فرانس کا تسلط تھا جنہوں نے 1949 میں " نیٹو" اتحاد کی بنیاد رکھی اور مشرقی حصے میں سویت یونین (یعنی روس ) کا تسلط تھا جس نے نیٹو کے مقابلے میں " وارسا پیکٹ " کی بنیاد رکھی - بظاہر یہ چاروں ملک دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف لڑے تھے لیکن روس اور باقی تین مغربی ملکوں کے اتحاد کے طرز حکومت میں واضح فرق تھا کیوں کہ سویت یونین ایک کومیونسٹ حکومت تھی جب کہ مغربی اتحاد کپیٹلسٹ اور جمہوری طرز حکومت کے حامی تھے - اس فرق کی وجہ سے 1949 میں جرمنی میں دو ریاستوں کی بنیاد پڑی- روس کے زیر انتظام مشرقی جرمنی کو " جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک " (GDR ) کہا گیا اور باقی مغربی ملکوں کے زیر انتظام مغربی جرمنی کو "فیڈرل ریپبلک آف جرمنی " (FRG ) کا نام دیا گیا - جرمنی کا دارالحکومت " برلن " جو چاروں طرف سے مشرقی جرمنی یعنی GDR کے اندر گھراہوا تھا اس کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا یعنی روس کے زیر انتظام مشرقی برلن اور نیٹو ملکوں کے زیر انتظام مغربی برلن- یہ دونوں ریاستیں ایک مقناطیس کے دو مختلف پول تھے - یعنی یہاں بالکل حالات مختلف تھے - مشرقی حصہ چونکہ کومیونسٹ حکومت کے زیر انتظام تھا اور وہاں سٹالن جیسے ڈکٹیٹر کی حکومت تھی سو وہاں ہر وہ طرز عمل روا رکھا گیا جو کسی بھی آمریت میں رکھا جاتا ہے - وہاں ہر ادارہ حکومت کے زیرانتظام تھا - اظہار رایے کی آزادی پر طرح طرح کی کدغن تھی - دوسری جنگ عظیم کی تباہی کا ازالہ اور تعمیر کرنے کیلئے سٹالن کی حکومت کی طرف سے کوئی ایسے اقدام نہیں کیے گیے تھے جس سے ملک کی معیشت مظبوط ہوتی- انفرا سٹرکچر بہت کمزور تھا - ملک پر کومیونسٹ تسلط کو قائم رکھنے کیلئے دانستہ طور پروہاں کوئی ایسی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی جس سے ایک عام آدمی معاشی اور فکری طور پر مظبوط اور آزاد ہوتا اور بعد میں کومیونسٹ تسلط کو چیلنج کرتا - اس کے برعکس مغربی جرمنی میں جمہوری نظام رائج تھا - وہاں کیپلسٹ اکانومی رائج تھی - آزادی راے کی آزادی تھی - لوگوں کی انفرادی معاشی ترقی حکومت کا مقصد تھی جس کی وجہ سے وہاں معشیت بہت مظبوط ہوئی' غربت کم ہوئی اور عمومی طور پر ایک خوش حالی دیکھنے کو ملی - یہی فرق مشرقی اور مغربی برلن کے حالات میں بھی تھا - 1960 تک ان دونوں ریاستوں یعنی "جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک " (مشرقی جرمنی ) اور 'فیڈرل ریپبلک آف جرمنی " (مغربی جرمنی ) میں کوئی آفیشل بارڈر نہیں تھا - اور چونکہ معاشی اور جمہوری رویوں کا فرق بہت زیادہ تھا سو 1949 میں ان دو ریاستوں کے قیام کے بعد مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی میں لوگوں نے ہجرت کرنا شروع کردی - پہلے پہلے یہ بات اتنی نوٹ نہی کی گئی لیکن پھر ہر سال تین لاکھ کے قریب جرمن مشرقی جرمنی سے مغربی جرمنی میں جانے لگے اور 1960 تک چالیس لاکھ کے قریب لوگ یہ ہجرت کر چکے تھے - تاریخ میں اس ہجرت کو "ریپبلک فلیچٹ" (Republikflucht ) کہا جاتا ہے- ان لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد پڑھےلکھے لوگوں ' ڈاکٹروں ' استادوں ' انجینیرز اور دیگر پروفیشنل لوگوں کی تھی اور یہ وہ طبقہ تھا جس کیلئے مغرب میں تاریخ میں سب سے پہلے " برین ڈرین " کی ٹرم استعمال ہوئی - کہا جاتا ہے کہ اس برین ڈرین کی وجہ سے مشرقی جرمنی کی مین پاور (قوت افرادی ) جو 1945 تک ستر فیصد تھی وہ 1960 تک کم ہو کر ساٹھ فیصد پر آگئی تھی جس میں بڑی تعداد پروفیشنلز اور سکلڈ ورکرز کی تھی جو سب مغربی جرمنی میں شفٹ ہوگیے تھے - وہاں کام کرنے کیلئے نہ مزدور ملتا تھا اور نہ علاج کرنے کیلئے اچھا ڈاکٹر - اس وقت اس ہجرت کا مشرقی جرمنی کو بہت نقصان ہوا جس کا تخمینہ 17 بلین ڈالر (17 ارب ) لگایا جاتا ہے (جو مغربی جرمنی کا فائدہ تھا ) اور اس کا اظہار ایک دفعہ مشرقی جرمنی کے ایک حکومتی عہدیدار والٹر البریشت نے ان الفاظ میں بھی کیا تھا کہ "مغربی جرمنی کو ہمیں 17 رب ڈالر جرمانہ دینا چاہیے کہ اس کی وجہ سے ہمیں مین پاور اور پروفیشنل لوگوں کے جانے سے اتنا نقصان ہوا ہے " اتنے بڑے پیمانے پراس برین ڈرین کو روکنے کیلئے مشرقی جرمنی کی سٹالن کی کومیونسٹ حکومت نے اپنے رویوں اور پالیسیوں میں تو کوئی تبدیلی نہیں کی البتہ مشرقی اور مغربی جرمنی کے درمیان سفر کیلئے ایک پرمٹ کی شرط رکھدی ' پھر پاسپورٹ کی شرط رکھی اور پھر تاریخ نے وہ دن بھی دیکھا کہ 12 اور 13 اگست 1961 کی درمیانی ہفتے کی رات کو سٹالن کی حکومت نے مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ایک خار دار فینس بچھائی اور ایک دیوار کی تعمیر شروع کردی جس کو تاریخ " برلن وال " کے نام سے یاد کرتی ہے جو 157 کلومیٹر لمبی دیوار تھا جو مغربی برلن کا احاطہ کرتی تھی - 13 اگست اتوار کی صبح جب برلن کے لوگ جاگے تو انہوں نے خود کو تقسیم پایا -اس اتوار کو جرمنی میں "باربڈ وائر سنڈے " (Barbed wired Sunday) (تاروں سے بندھا ہوا اتوار ) بھی کہا جاتا ہے -- حتی کہ کچھ گھروں کے ایک کمرے مشرقی برلن کی طرف اور دوسرے کمرے مغربی برلن کی طرف رہ گیے اور لوگوں نے کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا کر مغرب کی طرف جانے کو ترجیح دی - (یہ زیر نظر تصویر ایک جرمن باپ کی ہے جو اپنے چار سال کے بچے جس کا نام مائیکل تھا اس کو ایک جالی میں باندھ کرگھر کی چوتھی منزل سے مغرب والے برلن کی طرف گرا رہا ہے کیوں کہ اس کا گھر اس دیوار کی وجہ سے مشرق اور مغربی برلن میں تقسیم ہو گیا تھا - بعد میں اس باپ نے بھی اس منزل سے چھلانگ لگا کر مغربی برلن میں رسائی حاصل کی تھی )- بعد میں بہت سی ایسی کھڑکیوں کو بھی دیواریں چنوا کر بند کردیا گیا تھا - اس طرح "والا آف برلن " بنی جس کو سٹالن نے بہت سراہا اور اس دیوار کو "اینٹی فاشسٹ تحفظ رائمپٹ " "Anti Fascist Protective Rampart" ( فسطایت اور پروپیگنڈے سے تحفظ دینے والی دیوار ) کا نام دیا جبکہ مغربی جرمنی نے اس کی بہت مذمت کی اور اس کو "وال آف شیم " (Wall of Shame) (دیوار ندامت ) کا نام دیا - یہ دیوار اٹھائیس سال تک قائم رہی اور بالاخر نو نومبر 1989 کو کومیونسٹ لیڈر گنٹر شبوسکی کے خلاف شدید عوامی احتجاج اور میڈیا کی کیمپین کے بعد ختم ہوئی (جس کے بارے میں میں نے اپنے پچھلے کالم جس کا نام تھا " ریکارڈو آیهریمن " اس میں لکھا تھا )- یہ تھا مشرقی جرمنی کا وہ "برین ڈرین" جس کی وجہ سے یہ ٹرم " برین ڈرین " وجود میں آئی اور جو سٹالن کے آمرانہ رویوں اور کومیونسٹ طرز حکومت کی مرہون منت تھا اور جس کو روکنے کیلئے " وال آف برلن " بنا کر اگلے اٹھائیس سال تک جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا - اب میں آپ کو پاکستان کے برین ڈرین کا حال سناتا ہوں - 1971 سے لے کر 2022 تک ساٹھ لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گیے جن میں چار فیصد انتہائی اعلی تعلیم یافتہ ' آٹھ فیصد پروفیشنلز اور اعلی مہارت رکھنے والے افراد تھے - اور اب میں 2023 کے اعداد و شمار بتاؤں ؟ صرف 2023 کے پہلے سات مہینوں میں آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی ملک چھوڑ کر چلے گیے جن میں ایک لاکھ اعلی تعلیم یافتہ اور پروفیشنلز یعنی ڈاکٹر ' انجینیرز اور آئ ٹی کے ایکسپرٹس تھے - یہ اعداد و شمار خود ایک حکومتی ادارے "بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ " "Bureau of Immigration & Overseas Employment) کے جاری کردہ ہیں جن کی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ' معاشی کمزوری' بیروزگاری' عدم تحفظ کا احساس اور اظہار راے کی آزادی کا نہ ہونا بتایا جاتا ہے - یعنی 1971 سے 2022 تک پچاس سال میں ساٹھ لاکھ لوگ جو سالانہ سوا لاکھ بنتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں محض 2023 کے صرف سات ماہ میں آٹھ لاکھ لوگوں کا برین ڈرین ہوا جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں سات 16 گنا زیادہ ہے - پاکستان کا ایک سال میں ہونے والے یہ شدید برین ڈرین میں آپ کو جرمنی کی کہانی سناۓ بغیر بھی بتا سکتا تھا لیکن ان میں تعلق کیا ہے ؟ تعلق آمرانہ رویوں کا ہے ' کومیونسٹ جیسی پالیسیوں کا ہے 'اظہار راۓ کو کچلنے والی سٹالن جیسی سوچ کا ہے اور پھر اس برین ڈرین کو روکنے کیلئے اپنے رویے درست کرنے کی بجاے ہر چیز کو "پروپیگنڈا اور سازش " قرار دے کر زبردستی کے ان ہتھکنڈوں کا ہے جو فسطائییت کی" برلن وال " تعمیر کرتی ہے اور پھر سٹالن کی طرح اس کو بیرونی سازشوں سے " ملکی تحفظ کی ضامن " ("Anti Fascist Protective Rampart") قرار دیتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ اس نے لاکھوں لوگوں کو قابو کرلیا ہے اب سب ٹھیک ہوجائیگا--------- لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی برین ڈرین برلن وال بنانے سے نہیں رکا بلکہ تب رکا جب نو نومبر 1989 کو عوامی احتجاج کا احترام اور میڈیا کو آزاد کرتے ہویے یہ وال گرا دی گئی ' جب پورے جرمنی میں جمہوری پالیسیاں اپنائی گئیں اور جمہور کو چپ کروانے کی بجاے اعتراض کرنے کے مواقع فراہم کیے گیے اور پھر اس جمہوری اعتراض کی روشنی میں عوام دوست پالیسیاں بنائی گئیں ' جن سے معیشت بھی بہتر ہوئی اور برین ڈرین کا بھی خاتمہ ہوگیا - کاش آج پاکستان کے سٹالن اور گنٹر شبوسکی بھی عوام کے اعتراض کو "پروپیگنڈا اور سازش " قرار دینے کی بجاے اپنے کومیونسٹ اور آمرانہ رویوں پر غور کریں تاکہ اس ملک میں "فسطایت اور جبر " کی "برلن وال " گر جائے اور اس کے نوجوانوں کا " برین ڈرین " رک جائے کیوں کہ اس وال کو گراے بغیر نہ سیاسی استحکام آئیگا ' نہ معیشت بہتر ہوگی اور نہ ہی یہ برین ڈرین رکے گا - "قلم کی جسارت وقاص نواز " #BerlinWallCannotStopBrainDrain ---------------------------------------------------- @ImranARaja1 @MJibranNasir @HamidMirPAK @MoeedNj @MeherBanoQ @MalBokhari @noshigilani @drfaranahmad @Ijazwani @akhan4pakistan @MunizaeJahangir @gauharq
45
128
1,190
muhammad ijaz retweeted
مریم نواز صاحبہ پہلی بات وہ اس وقت فیلڈ مارشل نہیں تھے دوسری بات وہ اس وقت جوابی فضائی کاروائی کیلئے ایئر فورس کے سربراہ نہیں تھے اور میزائل حملوں کے جواب میں بری فوج ( جس کے وہ کمانڈر تھے ) نے زمین سے یا میزائل حملے نہیں کئے تھے۔ اگر آپ کو اس کاروائی پر تعریف کرنا ہی تھی تو وہ ایئر چیف کی بنتی تھی
75
302
986
11,021
خرم ذیشان بھی پچھلے 6 دن سے غائب ہے! خرم ذیشان ایک سینیٹر ہے, وہ کہاں غائب کسی کو معلومات ہے؟؟ @BarristerGohar @AliAminKhanPTI @MeenakhanAfridi @ShafiJanPTI @noshigilani @MoeedNj @SHABAZGIL @Abubakrnazir804 @mazhar_barlas @SohrabBarkatt @BariSarwra @MalikUmvi
15
لیڈر بننے کا پورا موقع دیا جائے گا 😎
منہ پر کالی بوری ڈالنا بھول گئے
1
1
3
28
کسی بھی ریاست کے قائم رہنے کے تین بنیادی اصول ہوتے ہیں 1۔شہریوں کے جان و مال عزت و ابرو کی حفاظت 2۔تمام شہریوں کو برابر انصاف کا حصول 3۔کاروبار کے یکساں مواقع پاکستان میں ان تینوں میں کوئی بھی بنیادی اصول میسر نہیں مطلب ریاست پاکستان اپنے وجود کا حق کھو چکی ہے @noshigilani
1
1
1
27
muhammad ijaz retweeted
یہ تیسری بار ہے کے میرےگھر سے میرے بھائ کو اٹھایا گیا دو بار میرے بوڑے والد کو مسجد سے اٹھایا گیا ساری رات دمکھاتے رہے اسکو چپ کروائو اور یہ بھی کہتے رہے اسے بتانا نہیں میرا آپ سب کو ایک ہی اعلان ہے اک بار چھوڑ کے ہزار بار اٹھائو نتیجہ صفر ہوگا اور ہاں اب تگڑے ہوکر آنا ایک نیو بکر سے اب ٹکر ہے تمہاری
147
1,367
3,804
198,779
It has now been six days since Pakistan’s security forces abducted the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, the former Chief Minister of Gilgit-Baltistan, and the Speaker of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly.
1
11
muhammad ijaz retweeted
جس روز پشاور میں آرمی پبلک سکول میں بچوں کو شہید کیا جارہا تھا عین اسی دن جنرل راحیل شریف سینکڑوں ایکڑ اراضی اپنے نام ٹرانسفر کروانے میں بزی تھے!اعزا سعید۔
20
525
1,975
53,294
muhammad ijaz retweeted
میرے بڑے بھائ قاری بلال فوج نے رات کو گھر سے اغوا کر لیا ہے میری بات سن لو میرے بھائ کو چھوڑ کر ساری فیملی کو بھی اٹھا لو میں چپ نہیں کرنے والا میری فیملی عمران خان کی فیملی سے افضل نہیں میرے دل میں پورے ملک کا درد ہے ماہرنگ بلوچ بیبو بلوچ گلزار زئ کشمیری رضوی برادران سب کا درد میرا درد ہے تم غلط بندے سے پنگلہ لے رہے ہو آئن تم توڑ رہے ہو میں نہیں
326
2,785
8,504
103,926