مسجد کے 85 لاکھ روپے مریم سرکار نے ابھی دینے تھے، مگر رقم دینے سے پہلے مسجد ہی گرا دی
یہ مسجد 1963 یا 1953 سے ٹھوکر کے مقام پر موجود تھی اور اپنی پرانی جگہ پر ایک نجی زمین پر قائم تھی۔ جب شہباز شریف صاحب نے اورنج لائن ٹرین کے لیے وہاں اسٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تو مسجد انتظامیہ سے درخواست کی گئی کہ اس جگہ سے مسجد منتقل کر دی جائے۔ اس کے بدلے رقم دینے کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن مسجد کے مالکان نے پیسے لینے کے بجائے مطالبہ کیا کہ انہیں متبادل زمین فراہم کی جائے۔
اس مطالبے پر سرکاری زمین الاٹ کی گئی اور 2016 میں مسجد کو نئی جگہ پر منتقل کر دیا گیا۔ بعد ازاں مسجد کی بالائی تعمیر کے لیے 85 لاکھ روپے حکومت کی جانب سے واجب الادا رہے، جو ابھی تک ادا نہیں کیے گئے۔ مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں یہ رقم اب بھی بقایا ہے۔
لیکن افسوس! جس مسجد کی منتقلی کے لیے حکومت نے خود متبادل زمین فراہم کی، جس کی تعمیر کے 85 لاکھ روپے ابھی تک ادا نہیں کیے گئے، اسی مسجد کو مریم نواز حکومت نے گرا دیا۔
سوال یہ ہے کہ جب حکومت نے خود مسجد کی منتقلی کے لیے زمین فراہم کی تھی اور اس کی تعمیر کے 85 لاکھ روپے بھی واجب الادا تھے، تو پھر آخر مسجد گرانے کی نوبت کیوں آئی؟
نوٹ: مسجد کی پہلی موجودگی کا سال 1963 یا 1953 بتایا گیا ہے؛
نوٹ ۔مسجد پہلے ایک نجی زمین پر قائم تھی، جسے بعد میں اورنج لائن ٹرین کے منصوبے کے باعث متبادل سرکاری زمین پر منتقل کیا گیا۔
نام مبارک کے حصے کو احترام سے الگ کیوں نہیں کیا ؟ ویسے گرایا ہی کیوں گیا ہے ؟