خواجہ صاحب وائیں صاحب کے قاتل کون تھے اور کیا وہ پکڑے گئے تھے یا نہیں؟ @KhSaad_Rafique
سابق وزیر اعلٰی پنجاب اور مسلم لیگ پنجاب کے سابق جنرل سیکرٹری غلام حیدر وائیں شھید کی آج 33 ویں برسی ھے ایک درویش منش ، دنیاوی آلائشوں سے بے نیاز مرد ِ قلندر جس نے خودی کا سودا نہیں کی اور غریبی میں نام پیدا کیا ، اپنے پیچھے اپنے کردار اور خدمات کے سوا کوئ اثاثہ نہیں چھوڑا آج کے دور میں ایسے سیاستدان ناپید ھو چکے یہی وہ شخصیت ھی جنھوں نے پہلی بار مسلم لیگ کی تنظیم کی بنیادیں رکھیں ، نظریۂِ پاکستان کے فروغ اور جاگیردارانہ سیاست کی گرفت کمزور کرنے کیلئے دیوانہ وار کام کیا ، نظریۂِ پاکستان ٹرسٹ کی بنیاد رکھی ۔ پنجاب میں دیانت اور میرٹ پالیسی کا نفاذ کیا ، میاں چنوں میں اعلٰی تعلیمی ادارے قائم کیے ، غنڈوں کو نکیل ڈالی ، انتخابی مہم کے دوران پیشہ ور قاتلوں کے ایک گروہ کے حملے کے نتیجے میں منصب ِ شھادت پر فائز ھوۓ خدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طینت را
8
Riaz Hussain retweeted
Pharma Sector Margins This graphical presentation make more sense.... #GLAXO #HALEON #SEARL #AGP #HINOON #ABOT #Pharma #KSE100 #PSX
15
7
79
6,552
چار عظیم اعمال — بے روزگاری اور رزق کی تنگی سے نجات کے لیے مؤثر وظائف بے روزگاری کے غم و پریشانی میں مبتلا افراد کے لیے بہترین اعمال
5
55
172
4,484
ایک لارنس آف پاکیشا نے بھی تھا جس نے نفرتوں کے دریا بہا دے
110 سال پہلے ایک برطانوی انٹیلیجنس آفیسر کرنل لارنس نے عربیوں کو "حقیقی آزادی" کے بہانے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسایا۔ آج پاکستان میں "حقیقی آزادی" کے بہانے "دانستہ یا غیر دانستہ" طور پر اسی ایجنڈے پر کام ہورہا ہے جس پر لارنس نے مسلمانوں کو تقسیم کرکے کاری ضرب لگائی تھی۔
18
سرکاری سکولز جن کا ریزلٹ زیرو ہے صرف ہیڈ نہیں بلکہ متعلقہ ٹیچر پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر جن سرکاری سکولز کا ریزلٹ سٹاف کی کمی کی وجہ آیا اس کی ذمہ داری @RanaSikandarH پر عائد ہوتی ہے۔ جو ملوث ہوں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے
صفر صفر۔ سب فیل۔ #punjab @MaryamNSharif
18
Riaz Hussain retweeted
خواجہ سعد رفیق آج اخیر کرگئے، نئے صوبوں پر ایسی گفتگو شایدکسی نے نہ کی ہو
51
481
1,402
139,125
Riaz Hussain retweeted
Conspiracy Against Pakistan: Imran Khan Saga اپنے ہی ملک کے خلاف کی گئی سازشیں بیرونی مسلط کردہ جنگوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ فاشسٹ مزاج، خود پسند و خود غرض شخص megalomania اور messiah syndrome جیسے نفسیاتی مسائل کے شکار انسان کی پارٹی پاکستان میں اس وقت طاغوت کی نمائندہ جماعت بنی ہوئی ہے۔ عالمی استعمار، مافیاز اور اقتصادی غارت گروں کے ان Agents of Chaos کے پاس صرف ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے ابلاغی چالاکیاں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ گولڈ سمتھ اور روتھ چائلڈز کا پروجیکٹ عمران خان دراصل پروجیکٹ Undo-Pakistan ہے۔ دائیں بائیں اور سرخ و سبز والا جو بھی جاننا چاہتا ہے وہ جان لے کہ عمران خان اور اسکی تحریک انقلاب نہیں بلکہ ردِ انقلاب ہے۔ یہ شخص اور اسکا Cult کوئی سیاسی اور سماجی تبدیلی نہیں لاسکتے بلکہ Persistent Chaos کے زریعے ہی خود کو متعلق (relevant) رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم دیکھنے کے بعد سمجھنے والی یہ بات یہ ہے کہ بغیر کسی شرمندگی کے، تعداد میں کم ہونے کی فکر سے آزاد ہوکر، بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے، جو گالی ملے قبول کریں لیکن پیچھے نہ ہٹیں، اس پاگل پن اور خبطِ عظمت میں مبتلاء بیانئے کو جواب دیں۔ زبان کی تیزی، الفاظ کی ہیر پیر، اور پروپیگنڈہ و انتشار، کے علاوہ انکے پاس کچھ نہیں.۔۔۔۔۔ سمجھ آنے کے بعد یقین رکھنے والی بات یہ ہے کہ جو پاگل پن مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی تھی پاکستان اس سے نکل چکا ہے. پاکستان رہے گا لیکن ججوں اور اشرافیہ کا راسپوٹین نہیں ہوگا، ہٹلر مزاج اور مسولینی فطرت پیچھے رہ جائیں گے اور پاکستان آگے بڑھے گا انشاء اللہ، اپنے آپ کو مسیحا بتانے والا عمران خان دجل کے علاوہ کچھ نہیں ثابت ہوگا.
322
1,551
2,351
667,557
Riaz Hussain retweeted
مولانا فضل الرحمان کون ہے۔ ساتھی اس ویڈیو کو لفافہ صحافیوں تک پہنچائیں۔ #حقیقی_رہنماء_مولانا #ادارہ_یا_پروپیگنڈا_سیل #کالے_چینلز_فلاپ #پیڈ_چمچے #بیوٹی_پالر_برگیڈ
17
229
328
6,927
Riaz Hussain retweeted
🔥 Only ₹1,000 Bonus? Why So Little! 😱💰 The Amount Left Everyone Shocked! ⚡🔥
36
278
2,021
293,713
RT @Lustymom9999: Chudai......🥰🥰 @Hdmom33
Jake
60
Riaz Hussain retweeted
بڑے بڑے علماء اور اسکالرز کو چاہیے کہ وہ عاقب شہید کے والد کا انٹرویو کریں۔ جب وہ اپنے بیٹے کی میت لینے گئے تو انہیں پورے خاندان سمیت اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ وہاں ان کے کپڑے اتار کر ان پر تشدد کیا گیا اور ان کی ویڈیوز بنا کر دھرنے میں موجود لوگوں کو بھیجی گئیں۔ ​ایسے مظالم تو اسرائیل بھی فلسطین میں نہیں کر رہا جو یہاں ہو رہے ہیں۔ جس شخص کا بیٹا اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوا، اس کی میت تک خاندان کے حوالے نہیں کی گئی اور چار دن تک روکی رکھی گئی۔ جب وہ شدید زخمی تھا تو ایمبولینس کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے اس نے ایمبولینس کے اندر ہی تڑپ کر دم توڑ دیا
133
779
1,732
316,545
Riaz Hussain retweeted
فيديو عبقرى عن الأذن ..!
Made with AI
768
4,716
20,371
3,163,150
Riaz Hussain retweeted
شجرہ نصب انبیاء کرام #متاعِ_دل
17
265
700
40,432
Riaz Hussain retweeted
Hardcore
Clipsbaba 🪖
2,998
9,307
72,079
7,339,291
Do you remember when you joined X? I do! #MyXAnniversary
2
72
Riaz Hussain retweeted
آغا خان کیس 1866-- برصغیر کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ بمبئی ہائی کورٹ میں چلنے والا "آغا خان کیس 1866" (جسے باضابطہ طور پر The Advocate General ex relatione Daya Muhammad v. Muhammad Husen Huseni کہا جاتا ہے) جنوبی ایشیا کی قانونی، مذہبی اور سماجی تاریخ میں ایک غیر معمولی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تاریخی مقدمہ برطانوی ہند کے تین اہم ترین واقعات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ جن میں پہلا واقعہ 1857 کی جنگِ آزادی اور اس کے بعد کا گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ تھا جس کے تحت بنگال، مدراس اور بمبئی کی پریسیڈنسی کے قانونی نظام کو منضبط کیا گیا تھا، دوسرا واقعہ ہندوستان کی پہلی باقاعدہ مردم شماری تھا۔ جس کے بعد "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کا فارمولہ عملا نافذ ہوا تھا۔ مقدمے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے، کہ اُس وقت کے سیاسی اور انتظامی ماحول میں "نوآبادیاتی عدالتیں" ہندوستانی عوام کو مختلف مذہبی اور فرقہ وارانہ خانوں میں تقسیم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھیں۔ "جسٹس سر جوزف آرنولڈ" نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران یہ واضح کیا تھا کہ وہ اپنے فیصلے میں "اس بنیادی سوال" کا جواب دیں گے کہ خوجہ برادری کا "اصل مذہب" کیا ہے۔ یوں برطانوی عدالتوں نے افراد اور قوموں کے موروثی عقیدے، حقیقی مذہبی پیشواوں کے تعین اور مشترکہ جائیدادوں کے حقدار کے فیصلوں کو عدالتوں کے دائرہ اختیار میں شامل کر لیا تھا۔ جس نے آگے چل کر برصغیر کے سماجی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ بمبئی کی خوجہ برادری اور آغا خان اول کے درمیان ہونے والے اس تنازعے کی ابتدا ان کی ہندوستان آمد سے کئی دہائیاں پہلے ہوئی تھی۔ ہوا کچھ یوں تھا 1827 سے 1830 کے درمیان ایرانی دربار میں اثرو رسوخ حاصل کرنے کے بعد آغا خان اول نے "ظاہر امام" کی حیثیت سے تمام اسماعیلیوں سے "دسونتھ" (آمدن کا دسواں حصہ، جو ہر اسماعیلی ظاہر امام کو پیش کرتا ہے ) کی ادائیگی کا حکم جاری کیا۔ آغا خان اول کے اس فرمان کے آنے پر بمبئی کی اسماعیلی برادری کے رکن "حبیب ابراہیم" کی قیادت میں ایک مختصر گروہ نے یہ ٹیکس ادا کرنے سے انکار کر دیا اور دوسرے لوگوں کو بھی اس پر اکسایا۔ اس بغاوت پر قابو پانے کے لیے آغا خان نے اپنے نمائندے "مرزا ابو القاسم" اور اپنی والدہ "بی بی سرکار سلامت" کو بمبئی روانہ کیا۔ لیکن معملات طے نہ پاسکے، اور "باغی گروہ" نے "جماعت خانے" کو "دسونتھ" کی آدائیگی سے انکار کر دیا۔ اس پر آغا خان اور کے نمائندے نے "حبیب ابراہیم" سمیت بارہ افراد کو "اسماعیلی برادری" سے خارج کر دیا۔ جنہیں تاریخ میں "بار بھائی" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انہوں نے اسماعلیوں کے اندر ایک مستقل باغی دھڑے کی بنیاد رکھی جو آغا خان کے خلاف اندرونی طور پر متحرک رہا۔ اس قضئے میں دوسرا بڑا موڑ "آغا خان اول" کی بمبئی آمد پر آیا۔ آغا خان اول "حسن علی شاہ 1817 میں محض 13 سال کی عمر میں اسماعیلی امامت کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ انہیں ایران کے قاجار بادشاہ فتح علی شاہ نے "آغا خان" کا خطاب دیا تھا، جب انہوں نے شاہ کی صاحبزادی "سرو جہاں خانم" سے شادی کی تھی۔ شاہ کے دماد بننے کے بعد وہ قُم اور بعد میں کرمان کے گورنر بھی رہے، لیکن پھر شاھی افواج کے ساتھ مسلح تصادم کے بعد انہیں 1841 میں ایران چھوڑنا پڑا اور وہ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے بالآخر دسمبر 1845 میں بمبئی پہنچے۔ جہاں بمبئی کے "اسماعیلی باغی گروہ" نے ان کے خلاف محاذ قائم کر لیا۔ 1847 میں "سجن مہر علی کیس" کے ذریعے ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا، جس میں "چیف جسٹس بمبئی ہائیکورٹ سر ارسکین پیری" کے سامنے خوجہ برادری میں خواتین کی وراثت کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ آغا خان اول کے بھائی محمد باقر خان نے اس مقدمے میں "قرآنی قانونِ وراثت" کی حمایت کی، جبکہ "بار بھائی" دھڑے نے اسماعلیوں میں رائج "روایت" یعنی "ہندو رواج" کا دفاع کیا۔ "جسٹس پیری" نے فیصلہ "رائج روایت" کے حق میں دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد اسماعیلی برادری کے اندر خلیج مزید گہری ہو گئی اور باغی دھڑے نے خود کو "سُنی خوجہ" قرار دے کر، 1850 میں اپنے لیے ایک علیحدہ نماز گاہ اور قبرستان قائم کیا۔ نومبر 1850 میں دونوں دھڑوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا اور "چار سُنی" خوجہ مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد انیس اسماعیلیوں پر مقدمہ چلایا گیا اور ان میں سے چار مجرموں کو سرعام پھانسی دی گئی۔ اس بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے اور اپنے "وفادار متبعین" کا دائرہ متعین کرنے کے لیے آغا خان اول نے 20 اکتوبر 1861 کو ایک تحریری فرمان جاری کیا جس میں انہوں نے برادری کے ارکان سے اپنی عقیدتی وابستگی کا تحریری ثبوت مانگا، تاکہ وہ اپنے اسلاف کی شیعہ امامی اسماعیلی رسومات، بشمول نکاح، غسل، اور جنازے کے احکامات پر عمل پیرا ہو سکیں۔ بمبئی، سندھ، کاٹھیاواڑ، کَچھ اور زنگبار کے خوجوں کی اکثریت نے اس دستاویز پر دستخط کر دیے، لیکن "حبیب ابراہیم" اور ان کے حامیوں نے اس سے انکار کر دیا، جس کی پاداش میں انہیں اگست 1862 میں برادری سے مستقل طور پر خارج کر دیا گیا۔ اس اخراج کے بعد ان منحرفین نے "ریفارمرز سوسائٹی" قائم کی اور اپریل 1866 میں بمبئی ہائی کورٹ میں باقاعدہ مقدمہ دائر کر دیا، جو نوآبادیاتی بمبئی کی تاریخ کے طویل ترین مقدمات میں سے ایک بن گیا۔ اس قانونی جنگ میں مدعیان کی صف میں حبیب ابراہیم، دیا محمد، محمد سایا، پیر محمد قاسم، اور فضل غلام حسین کھڑے تھے، جن کی پیروی برطانوی حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل کر رہے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خوجہ برادری ہمیشہ سے ایک "سنی مسلم کمیونٹی" رہی ہے۔ آغا خان اول اس برادری کے رکن ہی نہیں ہیں، اس لیے انہیں برادری کے مشترکہ فنڈز، جماعت خانوں اور قبرستانوں پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہ دسونتھ وصول کرنے کے مجاز ہیں۔ دوسری طرف مدعا علیہان کی حیثیت سے حسن علی شاہ (آغا خان اول) کے ساتھ مکھی الارکھیہ سومر، کامڑیا خاکسار پدمسی، محمد پیر بھائی، نور محمد راجپال، علی بھائی جان، معراج پریم جی، دھرمسی پنجا، آسو گنگ جی، دوسا لڈھک، نانجی الو، اور قاضی محمد یوسف تھے۔ ان کا موقف تھا کہ خوجہ برادری کی بنیاد ہی شیعہ امامی اسماعیلی عقائد پر رکھی گئی تھی اور آغا خان اول ان کے 46 ویں "امام ظاہر" ہیں، اس لیے برادری کی تمام مشترکہ جائیدادیں اور مذہبی نذرانے شرعی اور قانونی طور پر انہی کی ملکیت ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران مدعیان کی دلیل تھی کہ تاریخی طور پر "خوجہ برادری کے نکاح اور جنازے کے رسمی امور اور فیصلے بمبئی کے سُنی قاضی فقہ حنفی کے تحت انجام دیتے آئے ہیں، اس لیے یہ برادری سُنی مسلک کا حصہ ہے۔ اس کے جواب میں آغا خان کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ "یہ کام دراصل "تقیہ" کے اصول کے تحت کیا جاتا تھا، جو کہ تاریخی طور پر شیعہ مسلمانوں میں اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے رائج طریقہ کار ہے۔ عدالت میں یہ حقیقت بھی پیش کی گئی کہ سندھ، کچھ اور گجرات کی خوجہ برادریوں نے آغا خان کے آباو اجداد کے نام خطوط میں ان سے اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا ہے، جو ثبوت کے کہ وہ انہیں اپنا پیشوا مانتے تھے۔ اس مقدمے میں مدعا علیہان کی جانب سے سب سے اہم اور حتمی ثبوت کے طور پر ایک قدیم مذہبی نظم "دساوتار" (دس اوتار) پیش کی گئی، جس کے مصنف چودہویں صدی کے "اسماعیلی داعی پیر صدر الدین" تھے۔ یہ تصنیف خوجہ برادری میں مقدس سمجھی جاتی تھی اور اسے روزانہ جماعت خانوں میں تلاوت کیا جاتا تھا۔ "دساوتار" کی ساخت نوآبادیاتی عدالت کے لیے انتہائی دلچسپ اور پیچیدہ تھی، کیونکہ اس میں ہندو عقائد اور اسلامی تعلیمات کا ایک انوکھا امتزاج پایا جاتا تھا۔ اس کتاب کے پہلے نو ابواب میں ہندو مذہب کے مختلف اوتاروں (بشمول وشنو اور بدھ) کی تاریخ پیش کی گئی تھی، لیکن اس کا دسویں اور آخری باب حضرت علی رضی اللہ کی شخصیت پر مرکوز تھا، جنہیں آخری نجات دہندہ یا مصلح ("نکلنک") کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ عدالت میں گواہیوں کے ذریعے یہ ثابت کیا گیا کہ جب بھی جماعت خانے میں دساوتار کا یہ دسواں باب پڑھا جاتا ہے، تو پوری مجلس انتہائی احترام کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اور حضرت علی کے نام پر جھک کر تعظیم پیش کرتی ہے۔ یہ عقیدہ صریحاً شیعہ امامی تصورِ امامت اور حضرت علی کی ولایت سے جڑا ہوا ہے، جو کہ سنی مسلم عقائد سے یکسر مختلف ہے۔ "جسٹس سر جوزف آرنولڈ" نے گواہوں کے بیانات اور تاریخی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ اور 21 نومبر 1866 کو جسٹس آرنولڈ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے قرار دیا کہ خوجہ برادری ایک ایسا گروہ ہے جس کے آباؤ اجداد اصل میں ہندو تھے، جنہیں اسماعیلی داعی پیر صدر الدین نے شیعہ امامی اسماعیلی عقیدے میں داخل کیا تھا، اور وہ ہمیشہ سے اسی مسلک پر قائم رہے ہیں اور ان کے مابین اپنے موروثی امام کے ساتھ گہرا روحانی تعلق موجود ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ خوجہ برادری کی تمام مشترکہ جائیدادیں اور مذہبی نذرانے قانونی طور پر "آغا خان اول" کی ذاتی اور مطلق ملکیت ہیں۔ "باغی گروہ" یا کسی دوسرے کو ان پر دعویٰ کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ (واضع رہے کہ بعد ازاں 1908 میں "حاجی بی بی کیس" کے فیصلے میں "جسٹس رسل" نے آغا خان کے خاندان کے دیگر ارکان کے مقابلے میں آغا خان سوم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے، خوجہ برادری کے تشخص کو اثنا عشری (Twelver) عقائد سے بھی الگ، ایک منفرد اسماعیلی شناخت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ جس کے بعد یہ شعیہ اور سُنی سے الگ ایک منفرد شناخت بن گئی) بمبئی ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے نے نوآبادیاتی ہندوستان میں مذہبی برادریوں کی سماجی اور مذہبی ساخت کو مستقل طور پر تبدیل کر دیا۔ دوسری طرف، اس فیصلے نے آغا خان اول اور ان کے جانشینوں کو اپنی برادری پر مکمل انتظامی اور مالی اختیار فراہم کر دیا۔ آغا خان اول نے مقدمے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے اپنے وفادار متبعین، جیسے اسماعیل کھیراج، شریف گنگ جی، مکھی الارکھیہ سومر اور کامڑیا خاکسار پدمسی کو "پنجے بھائی" کا لقب دیا اور انہیں برادری کا مقتدر طبقہ مقرر کیا۔ اس مالی اور سماجی استحکام نے آگے چل کر آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ) کو یہ موقع دیا کہ وہ برادری کے لیے پہلا باقاعدہ دستور (رول بک) تیار کریں اور سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کا آغاز کریں، جو آج دنیا بھر میں آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کی شکل میں موجود ہے۔ (واضع رہے کہ آج کے دور میں بھی ہر اسماعیلی اپنے خالص منافع یا مجموعی آمدنی (Net Income) کا تقریباً 12.5 فیصد بطور دسونتھ ادا کرتے ہیں۔ اس میں 10 فیصد دسونتھ اور 2.5 فیصد زکوٰۃ شامل ہوتی ہے)
5
24
69
3,604
شمشیر و سناں کے بعد طاؤس و رباب
اگر یہ وڈیو درست ہے تو یہ ن لیگ کے لیے بڑے ہی شرم کی بات ہے!!! جلسہ عام کے سٹیج پر جو ہو رہا اُسے دیکھیں اور جو پیچھے لکھا ہوا ہے اُسے پڑھیں۔ اور موقعہ ہے معرکہ حق کی کامیابی کے پہلے سال کا۔ لبرل بننے کا یہ جنون لیگیوں کو بہت مہنگا پڑے گا۔
96
RT @iamowaisnoorani: جب کیمرے چل رہے تھے تو اسے غازی کہا گیا… پھر اسے بھلا دیا گیا۔ یہ ہے تیمور خان۔ ایک پشتون نوجوان۔ پاکستان یو ایس ایل…
309
Riaz Hussain retweeted
طلاق لینے سے پہلے جمائمہ کے وکیل نے عمران نیازی کو پہلے ہی ذہنی مریض قرار دیا تھا یوتھیوں اگر اپ پڑھ لکھ لیتے تو نیازی کو لیڈر نہ مانتے
32
631
1,118
24,505
Riaz Hussain retweeted
عمران چور نے نومبر 2018 میں بھی دو گھڑیاں بیچی وہ گھڑیاں بھی کیش میں بیچی اور جس دن بیچی اسی دن حکومت کو 20 فیصد کی ادائیگی کیش میں کی یہ دو گھڑیاں بھی اسلام آباد کے اسی ڈیلر کو بیچی اور ہاتھ سے لکھی ہوئی رسید جمع کرادی حقائق حاضر ہیں شاہزیب رسیدوں کو لیکر ان کے اندر گھس گیا تھا
آج یہ بھی میرے علم میں اضافہ ہوا کہ ایکسل شیٹ پر رقم اور تاریخ لکھ دی جائے تو وہ رسید بن جاتی ہے - شکریہ عباسی صاحب 🙏
29
535
954
14,664