Journalist since 2006 || MS Mass Communication || Anchor & Host, “Khabar Kya Hai” || 92 News HD || Formerly Express News || Investigative Journalist

Islamabad, Pakistan
اہم ترین حصہ۔۔۔ عمران خان کی مقرر کردہ یا نامزد کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر باقاعدہ مقرر کردہ عہدیدار شامل ہیں۔ عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے متعلقہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ قومی اور صوبائی سطح پر پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدہ مشاورت اور سیاسی حکمتِ عملی اور فیصلوں میں ان کی آرا کو مناسب اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی جانب سے واضح طور پر بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس، ان کے اپنے اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق، رہے گا۔ پارلیمانی پارٹیوں، سیاسی کمیٹیوں اور پارٹی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون مضبوط بنانے، پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ پارٹی فورمز پر حل کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ مشترکہ پارلیمانی پارٹی اس قرارداد کے تمام مقاصد کے حصول کے لیے بااختیار پارٹی قیادت کی مشاورت سے پارلیمانی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ اور قرارداد قرارداد پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ پاکستان تحریکِ انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد درج ذیل قرارداد منظور کی: 1۔ عمران خان سے وابستگی پارلیمانی پارٹی عمران خان، ان کی قیادت، فیصلوں اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہے۔ پارلیمانی پارٹی جمہوریت، آئین کی بالادستی، انصاف اور عوام کے حقوق کے لیے عمران خان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے پوری ثابت قدمی سے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔ 2۔ عمران خان کی رہائی اور حقوق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی، عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات اور ان کے ملاقات اور رابطے کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، جن میں عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت شامل ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں اور ان کے علاج معالجے کے طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3۔ ایمرجنسی اور گورنر راج خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی اصولوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے فوری خاتمے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور تحریکِ انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ غیر منتخب مشاورتی کونسل اور ایسے تمام انتظامات کو مسترد کرتے ہیں جن کے ذریعے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ایسے اداروں کو دیے جا رہے ہیں جنہیں آئین کے تحت کوئی الگ اختیار حاصل نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر تحریکِ انصاف کی منتخب قیادت، تنظیموں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، چھاپوں اور پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ایسے اقدامات صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھانے اور وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والی ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا باعث بن سکتے ہیں، جیسا کہ بلوچستان میں دیکھا گیا ہے۔ 4۔ سیاسی قیدی، گرفتاریاں اور چھاپے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ، کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف گرفتاریوں، اغوا، چھاپوں، ہراسانی اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات کی سخت مذمت کرتے ہیں، خصوصاً پارٹی کے لانگ مارچ سے پہلے، دوران اور بعد کی جانے والی کارروائیوں کی۔ امنِ عامہ کے قانون (ایم پی او) کے تحت گرفتار عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور تمام دیگر سیاسی قیدیوں اور گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز احمد چوہدری، محمد جمال احسن خان، میاں غوث محمد، ثناء اللہ خان مستی خیل، داور خان کنڈی، ڈاکٹر امجد علی خان، فضل محمد خان، عادل خان بازئی، مولانا سید نسیم علی شاہ، محمد زبیر خان وزیر اور جنید اکبر خان سمیت دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریوں، حراست اور بعض کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ناجائز طور پر گرفتار افراد کی فوری رہائی، لاپتہ افراد کے مقام اور خیریت کی معلومات فراہم کرنے، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات اور پارلیمانی کارروائی میں شرکت کے حق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عمر ایوب خان، شبلی فراز اور تحریکِ انصاف کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور عہدیداروں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات اور سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں۔ شفاف عدالتی کارروائی، اپیل کے مؤثر حق، تمام متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی، ناجائز نااہلیوں کے خاتمے اور پارلیمانی نشستوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاسی مخالفین، وکلا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، جن میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ بھی شامل ہیں، کے خلاف غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور قانون کے غلط استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 5۔ دہشت گردی اور امن و امان دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کے دفاع میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ان دانستہ کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جن کے ذریعے عمران خان، تحریکِ انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کی جائز جمہوری اور آئینی جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تقسیم پیدا کرنے والے سیاسی ہتھکنڈے قومی اتحاد کو کمزور کرتے ہیں، ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر کرتے ہیں اور ملک کو درپیش حقیقی سلامتی کے مسائل سے توجہ ہٹاتے ہیں۔ ملک میں امن کی بحالی کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں جو آئین، قانون کی بالادستی، صوبوں کے حقوق اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے مطابق ہوں۔ 6۔ جمہوری اور آئینی حقوق 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کی بحالی یا پورے ملک میں نئے، آزادانہ اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی واپسی، عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے، پُرامن احتجاج اور قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق کی بحالی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک میں پائیدار سیاسی استحکام اور قومی اتحاد صرف آئین کی حکمرانی، جمہوری حکومت اور تمام صوبوں کے حقوق کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ 7۔ معاشی صورتحال مہنگائی، بے روزگاری، روزگار اور کاروبار کے کم ہوتے مواقع اور عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 8۔ پارٹی قیادت، مشاورت اور نظم و ضبط عمران خان کی مقرر کردہ یا نامزد کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر باقاعدہ مقرر کردہ عہدیدار شامل ہیں۔ عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے متعلقہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ قومی اور صوبائی سطح پر پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدہ مشاورت اور سیاسی حکمتِ عملی اور فیصلوں میں ان کی آرا کو مناسب اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی جانب سے واضح طور پر بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس، ان کے اپنے اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق، رہے گا۔ پارلیمانی پارٹیوں، سیاسی کمیٹیوں اور پارٹی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون مضبوط بنانے، پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ پارٹی فورمز پر حل کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ مشترکہ پارلیمانی پارٹی اس قرارداد کے تمام مقاصد کے حصول کے لیے بااختیار پارٹی قیادت کی مشاورت سے پارلیمانی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔
3
13
119
6,009
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ اور قرارداد قرارداد پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ پاکستان تحریکِ انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد درج ذیل قرارداد منظور کی: 1۔ عمران خان سے وابستگی پارلیمانی پارٹی عمران خان، ان کی قیادت، فیصلوں اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہے۔ پارلیمانی پارٹی جمہوریت، آئین کی بالادستی، انصاف اور عوام کے حقوق کے لیے عمران خان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے پوری ثابت قدمی سے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔ 2۔ عمران خان کی رہائی اور حقوق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی، عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات اور ان کے ملاقات اور رابطے کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، جن میں عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت شامل ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں اور ان کے علاج معالجے کے طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 3۔ ایمرجنسی اور گورنر راج خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی اصولوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے فوری خاتمے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور تحریکِ انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ غیر منتخب مشاورتی کونسل اور ایسے تمام انتظامات کو مسترد کرتے ہیں جن کے ذریعے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ایسے اداروں کو دیے جا رہے ہیں جنہیں آئین کے تحت کوئی الگ اختیار حاصل نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر تحریکِ انصاف کی منتخب قیادت، تنظیموں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، چھاپوں اور پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ایسے اقدامات صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھانے اور وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والی ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا باعث بن سکتے ہیں، جیسا کہ بلوچستان میں دیکھا گیا ہے۔ 4۔ سیاسی قیدی، گرفتاریاں اور چھاپے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ، کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف گرفتاریوں، اغوا، چھاپوں، ہراسانی اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات کی سخت مذمت کرتے ہیں، خصوصاً پارٹی کے لانگ مارچ سے پہلے، دوران اور بعد کی جانے والی کارروائیوں کی۔ امنِ عامہ کے قانون (ایم پی او) کے تحت گرفتار عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور تمام دیگر سیاسی قیدیوں اور گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز احمد چوہدری، محمد جمال احسن خان، میاں غوث محمد، ثناء اللہ خان مستی خیل، داور خان کنڈی، ڈاکٹر امجد علی خان، فضل محمد خان، عادل خان بازئی، مولانا سید نسیم علی شاہ، محمد زبیر خان وزیر اور جنید اکبر خان سمیت دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریوں، حراست اور بعض کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ناجائز طور پر گرفتار افراد کی فوری رہائی، لاپتہ افراد کے مقام اور خیریت کی معلومات فراہم کرنے، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات اور پارلیمانی کارروائی میں شرکت کے حق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عمر ایوب خان، شبلی فراز اور تحریکِ انصاف کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور عہدیداروں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات اور سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں۔ شفاف عدالتی کارروائی، اپیل کے مؤثر حق، تمام متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی، ناجائز نااہلیوں کے خاتمے اور پارلیمانی نشستوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیاسی مخالفین، وکلا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، جن میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ بھی شامل ہیں، کے خلاف غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور قانون کے غلط استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 5۔ دہشت گردی اور امن و امان دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کے دفاع میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ان دانستہ کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جن کے ذریعے عمران خان، تحریکِ انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کی جائز جمہوری اور آئینی جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تقسیم پیدا کرنے والے سیاسی ہتھکنڈے قومی اتحاد کو کمزور کرتے ہیں، ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر کرتے ہیں اور ملک کو درپیش حقیقی سلامتی کے مسائل سے توجہ ہٹاتے ہیں۔ ملک میں امن کی بحالی کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں جو آئین، قانون کی بالادستی، صوبوں کے حقوق اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے مطابق ہوں۔ 6۔ جمہوری اور آئینی حقوق 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کی بحالی یا پورے ملک میں نئے، آزادانہ اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی واپسی، عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے، پُرامن احتجاج اور قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق کی بحالی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک میں پائیدار سیاسی استحکام اور قومی اتحاد صرف آئین کی حکمرانی، جمہوری حکومت اور تمام صوبوں کے حقوق کے احترام سے ہی ممکن ہے۔ 7۔ معاشی صورتحال مہنگائی، بے روزگاری، روزگار اور کاروبار کے کم ہوتے مواقع اور عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 8۔ پارٹی قیادت، مشاورت اور نظم و ضبط عمران خان کی مقرر کردہ یا نامزد کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر باقاعدہ مقرر کردہ عہدیدار شامل ہیں۔ عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے متعلقہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ قومی اور صوبائی سطح پر پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدہ مشاورت اور سیاسی حکمتِ عملی اور فیصلوں میں ان کی آرا کو مناسب اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی جانب سے واضح طور پر بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس، ان کے اپنے اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق، رہے گا۔ پارلیمانی پارٹیوں، سیاسی کمیٹیوں اور پارٹی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون مضبوط بنانے، پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ پارٹی فورمز پر حل کرنے کا عزم کرتے ہیں۔ مشترکہ پارلیمانی پارٹی اس قرارداد کے تمام مقاصد کے حصول کے لیے بااختیار پارٹی قیادت کی مشاورت سے پارلیمانی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔
2
18
119
12,781
پی ٹی آئی کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ آج ہونے والے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں 70 سے زائد ارکان نے شرکت کی، جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور کردار ادا کرے گی، جبکہ مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی ہے۔ یہ لائحہ عمل اپوزیشن لیڈران کے سامنے رکھا جائے گا اور اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، جس کی قیادت اپوزیشن لیڈران کریں گے۔ بیرسٹر علی ظفر کے مطابق گورنر راج، پارٹی رہنماؤں کی نظر بندی، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری اور بانی پی ٹی آئی تک رسائی سے متعلق مکمل حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام فیصلوں سے متعلق تفصیلات کل باضابطہ اعلامیے کے ذریعے عوام تک پہنچائی جائیں گی۔
2
20
107
7,487
تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اہم فیصلہ تحریک انصاف کا حکومت سے مذاکرات کے لیے نئی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ، ذرائع نئی مذاکراتی کمیٹی میں نئے ممبران کو شامل کیا جائے گا، ذرائع مذاکراتی کمیٹی حکومت سے گور راج اور دیگر معاملات پر مذاکرات کرے گی،ذرائع بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سمیت اہم معاملات کےپر بھی مذاکرات کرے گی،ذرائع
3
43
288
7,053
پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تلخ کلامی فصیل آمین، اور خواجہ شیراز اجلاس چھوڑ کر چلے گئے دونوں اراکین غصے سے اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔۔ بیرسٹر گوہر اور دیگر اراکین پیچھے واپس آنے کی آوازیں دیتے رہے چھوڑ یار فیصل آمین دروازے پٹخ کر چلے گئے
32
93
708
42,263
وزیر اعظم نے پٹرولیم لیوی کے معاملہ پر مزید 8 سے 10 دن مانگے ہیں،حافب نعیم الرحمن
3
13
179
3,945
پاکستان کی فوج اپنا حق چھین سکتی ہے۔۔۔گورنر کنڈی
کشمیر کا مسئلہ ہم فوج کے ذریعے بہت جلد حل کرسکتے ہیں کیونکہ یہ ہماری لیے بڑی بات نہیں اور یہ بات بھارت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان کی فوج اپنا حق چھین سکتی ہے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی
3
38
2,892
وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان وزیر اعظم ہاؤس پہنچ گئے،ملاقات شروع ہوگئی حافظ نعیم الرحمان وفد کےہمراہ وزیر اعظم ہاؤس پہنچے جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل سیدفراست شاہ اور امیرجماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا شامل
آج وزیر اعظم اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ملاقات ہوگی،ملاقات پٹرولیم لیوی سے متعلق ہوگی
3
32
3,530
الیکشن کمیشن خیبرپختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق محفوظ فیصلہ کل سنائے گا الیکشن کمیشن نے آج کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا تھا الیکشن کمیشن کل دوپہر دو بجے محفوظ فیصلہ سنائے گا الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کر دی
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے محفوظ کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران مشیر قانون خیبرپختونخوا امیر جاوید نے صوبے میں بدامنی اور ایمرجنسی کے باعث 12 اضلاع میں فی الحال بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی۔ مشیر قانون کے مطابق 11 اکتوبر کو صوبے کے مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، بعض علاقوں میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات ہے، جبکہ گورنر راج کے باعث صوبائی وزراء بھی موجود نہیں، اس لیے معاملات کو درست کرنے اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق مزید مشاورت کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ قانونی ترامیم تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھجوانا ہوں گی اور فوری قانون سازی ممکن نہیں۔ سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ جب 24 میں سے 16 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں تو وہاں انتخابات کیوں نہیں کرائے جا سکتے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 245 یا ایمرجنسی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ہے اور فوج کی سیکیورٹی میں پُرامن انتخابات کیوں ممکن نہیں؟ الیکشن کمیشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے دوران انتخابات کرانے پر قانونی پابندی نہیں، تاہم امن و امان کی صورتحال الگ معاملہ ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ دنیا میں ایمرجنسی اور جنگ کے دوران بھی انتخابات کی مثالیں موجود ہیں۔ اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو متعدد بار قانون سازی مکمل کرنے کے لیے مہلت دی، لیکن تاحال یہ عمل مکمل نہیں کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ حکومت کو مختلف اضلاع میں آبادی کی حد سے متعلق قانون سازی کے لیے بارہا آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے مشیر قانون سے دوبارہ استفسار کیا کہ باقی اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود انتخابات کرانے میں کیا رکاوٹ ہے اور کیا انتخابات نہ کرانے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور بھی معاملہ ہے؟ مشیر قانون نے اٹارنی جنرل اور گورنر سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔ سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سیکریٹری بلدیات خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ یا گزشتہ صوبائی سیٹ اپ کی حمایت کرنے کے لیے نہیں آئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ عوام سمجھتی ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کرانا چاہتا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے سامنے سچ آنا چاہیے اور کمیشن اس معاملے پر حکم جاری کرے گا۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات روکنے کے لیے اسمبلی سے کوئی ترمیم کی جاتی ہے تو کمیشن اسے بھی دیکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے باوجود بلدیاتی انتخابات کرانا صوبائی سیٹ اپ کے لیے اعزاز ہوگا۔ سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
1
6
66
3,828
لانگ مارچ ادھورا چھوڑ کر غائب ہونے والے پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز بڑی تعداد میں پارلیمنٹ ہاوس میں موجود پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جاری۔۔۔
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس آج دوپہر 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز شرکت کریں گے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کو بھی شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاجی تحریک شروع کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اختیارات سے متعلق امور بھی زیر غور آئیں گے
9
101
475
14,427
پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی کا اہم ترین اجلاس قومی اسمبلی میں جاری اجلاس کی صدرات پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان کر رہے ہیں اجلاس میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، سینٹر علی ظفر، چیف وہپ ملک عامر ڈوگر سمیت ارکان قومی اسمبلی اور سینٹ شریک اجلاس میں موجود سیاسی صورتحال پر غور اپوزیشن لیڈرز شریک نہیں
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس آج دوپہر 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز شرکت کریں گے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کو بھی شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاجی تحریک شروع کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اختیارات سے متعلق امور بھی زیر غور آئیں گے
14
59
3,029
Fahim Akhtar Malik retweeted
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے محفوظ کر لیا۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران مشیر قانون خیبرپختونخوا امیر جاوید نے صوبے میں بدامنی اور ایمرجنسی کے باعث 12 اضلاع میں فی الحال بلدیاتی انتخابات کرانے سے معذوری ظاہر کی۔ مشیر قانون کے مطابق 11 اکتوبر کو صوبے کے مختلف اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، بعض علاقوں میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج بھی تعینات ہے، جبکہ گورنر راج کے باعث صوبائی وزراء بھی موجود نہیں، اس لیے معاملات کو درست کرنے اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق مزید مشاورت کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ قانونی ترامیم تیار کرکے وفاقی حکومت کو بھجوانا ہوں گی اور فوری قانون سازی ممکن نہیں۔ سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ جب 24 میں سے 16 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں تو وہاں انتخابات کیوں نہیں کرائے جا سکتے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 245 یا ایمرجنسی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ہے اور فوج کی سیکیورٹی میں پُرامن انتخابات کیوں ممکن نہیں؟ الیکشن کمیشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے دوران انتخابات کرانے پر قانونی پابندی نہیں، تاہم امن و امان کی صورتحال الگ معاملہ ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ دنیا میں ایمرجنسی اور جنگ کے دوران بھی انتخابات کی مثالیں موجود ہیں۔ اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو متعدد بار قانون سازی مکمل کرنے کے لیے مہلت دی، لیکن تاحال یہ عمل مکمل نہیں کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ حکومت کو مختلف اضلاع میں آبادی کی حد سے متعلق قانون سازی کے لیے بارہا آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے مشیر قانون سے دوبارہ استفسار کیا کہ باقی اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود انتخابات کرانے میں کیا رکاوٹ ہے اور کیا انتخابات نہ کرانے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور بھی معاملہ ہے؟ مشیر قانون نے اٹارنی جنرل اور گورنر سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔ سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے سیکریٹری بلدیات خیبرپختونخوا کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ یا گزشتہ صوبائی سیٹ اپ کی حمایت کرنے کے لیے نہیں آئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ عوام سمجھتی ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات نہیں کرانا چاہتا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے سامنے سچ آنا چاہیے اور کمیشن اس معاملے پر حکم جاری کرے گا۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اگر انتخابات روکنے کے لیے اسمبلی سے کوئی ترمیم کی جاتی ہے تو کمیشن اسے بھی دیکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے باوجود بلدیاتی انتخابات کرانا صوبائی سیٹ اپ کے لیے اعزاز ہوگا۔ سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
3
25
6,101
پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس آج دوپہر 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا گیا ہے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز شرکت کریں گے، جبکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کو بھی شرکت کی دعوت دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاجی تحریک شروع کرنے کے حوالے سے اہم مشاورت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی، کور کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی کے اختیارات سے متعلق امور بھی زیر غور آئیں گے
1
28
170
20,591
جب ان کا یعنی حکومت اور کمپنیز کا دل چاہتا ہے نیٹ ورک سلو کردیں نیٹ فارغ کردیں کوئی پوچھنے والا نہیں،ہزاروں کے پیکجز لگا دیں سروس بھی نہ دیں بس سب کھائی پیے جاو۔۔ جاز زونگ ٹیلی نار کا بھی یہی حشر ہے۔۔بدقسمتی سے اب یہ نیو نارمل بن چکا ہے پہلے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور میچز کیوجہ سے تھا اب ان کمپنیوں کے کونسے باپ کا لانگ مارچ ہورہا ہے جو ایمرجنسی میں بھی سروس نہیں دے رہے؟ عدالتیں کم از کم اس پر تو ایکشن لے سکتی ہیں۔۔
کیسا گھٹیا نیٹ ورک ہے یوفون کا ناں انٹرنیٹ چلتا ہے ناں وٹس ایپ پر کال ہوتی ہے ناں ہی ریگولر سروس پراپر چل رہی ہے، وٹس ایپ پر کال آجائے تو 30 سیکنڈز بعد کال ختم پھر دو منٹ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہوتی ہے کیسا ملک ہے جہاں پر ادارہ شعبہ لوگوں کو لوٹنے میں لگا ہے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔۔ Shame on you @Ufone
2
14
86
3,008
Fahim Akhtar Malik retweeted
مرکزی ترجمان انصاف لائرز فورم پاکستان، معصومہ میر ایڈووکیٹ آج پشاور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی خاتون کارکن فاطمہ خان کی جانب سے پیش ہوئیں، جہاں معزز عدالت نے انکی 10 روزہ راہداری ضمانت منظور کر لی۔ @Fatimakhanii @balochi5252 @SdqJaan @MeFaheem @akamran111 @iAmjadKhann @tariqmateen @ShandanaGulzar @SaffinaEllahi1 @soulful7867 @MashwaniAzhar
17
30
146
3,099
کیسا گھٹیا نیٹ ورک ہے یوفون کا ناں انٹرنیٹ چلتا ہے ناں وٹس ایپ پر کال ہوتی ہے ناں ہی ریگولر سروس پراپر چل رہی ہے، وٹس ایپ پر کال آجائے تو 30 سیکنڈز بعد کال ختم پھر دو منٹ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہوتی ہے کیسا ملک ہے جہاں پر ادارہ شعبہ لوگوں کو لوٹنے میں لگا ہے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔۔ Shame on you @Ufone
23
46
273
12,990
آج وزیر اعظم اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے درمیان ملاقات ہوگی،ملاقات پٹرولیم لیوی سے متعلق ہوگی
1
7
93
5,266
انتخابی عمل میں اے آئی کے استعمال کےلئے نہیں اے آئی کے ممکنہ منفی اثرات روکنے کےلئےتجاویز مانگی گئی ہیں۔۔۔
1
6
65
3,160
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں۔27اکتوبر 1947کو بھارت نے سری نگر میں اپنی فوجیں اتار کر کشمیر پر فوجی قبضے کا آغاز کیا تھا، بھارت کے اس اقدام کیخلاف کشمیری ہر سال 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔
1
9
1,371