اہم ترین حصہ۔۔۔
عمران خان کی مقرر کردہ یا نامزد کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر باقاعدہ مقرر کردہ عہدیدار شامل ہیں۔
عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے متعلقہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
قومی اور صوبائی سطح پر پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدہ مشاورت اور سیاسی حکمتِ عملی اور فیصلوں میں ان کی آرا کو مناسب اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی جانب سے واضح طور پر بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس، ان کے اپنے اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق، رہے گا۔
پارلیمانی پارٹیوں، سیاسی کمیٹیوں اور پارٹی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون مضبوط بنانے، پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ پارٹی فورمز پر حل کرنے کا عزم کرتے ہیں۔
مشترکہ پارلیمانی پارٹی اس قرارداد کے تمام مقاصد کے حصول کے لیے بااختیار پارٹی قیادت کی مشاورت سے پارلیمانی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ اور قرارداد
قرارداد
پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی
قومی اسمبلی اور سینیٹ
پاکستان تحریکِ انصاف کی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان پر مشتمل مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ملک کی موجودہ سیاسی، آئینی، امن و امان اور معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد درج ذیل قرارداد منظور کی:
1۔ عمران خان سے وابستگی
پارلیمانی پارٹی عمران خان، ان کی قیادت، فیصلوں اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتی ہے۔ پارلیمانی پارٹی جمہوریت، آئین کی بالادستی، انصاف اور عوام کے حقوق کے لیے عمران خان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے پوری ثابت قدمی سے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔
2۔ عمران خان کی رہائی اور حقوق
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی، عمران خان سے ان کے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی کے مجاز نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات اور ان کے ملاقات اور رابطے کے حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سپریم کورٹ کی اگست 2026 کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں، جن میں عمران خان کا آزادانہ طبی معائنہ، شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج اور ان کے ذاتی معالج کی شمولیت شامل ہے۔ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندیوں اور ان کے علاج معالجے کے طریقۂ کار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت، عزت و وقار اور قانونی حقوق کے مکمل تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
3۔ ایمرجنسی اور گورنر راج
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین کے وفاقی اصولوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کے فوری خاتمے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں منتخب صوبائی حکومت کی بحالی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور تحریکِ انصاف کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
غیر منتخب مشاورتی کونسل اور ایسے تمام انتظامات کو مسترد کرتے ہیں جن کے ذریعے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ایسے اداروں کو دیے جا رہے ہیں جنہیں آئین کے تحت کوئی الگ اختیار حاصل نہیں۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر تحریکِ انصاف کی منتخب قیادت، تنظیموں اور کارکنوں کی گرفتاریوں، چھاپوں اور پابندیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی انتقام یا منتخب صوبائی حکومت کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ایسے اقدامات صوبوں میں احساسِ محرومی بڑھانے اور وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو نقصان پہنچانے والی ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا باعث بن سکتے ہیں، جیسا کہ بلوچستان میں دیکھا گیا ہے۔
4۔ سیاسی قیدی، گرفتاریاں اور چھاپے
تحریکِ انصاف کے رہنماؤں، ارکانِ پارلیمنٹ، کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف گرفتاریوں، اغوا، چھاپوں، ہراسانی اور سیاسی بنیادوں پر مقدمات کی سخت مذمت کرتے ہیں، خصوصاً پارٹی کے لانگ مارچ سے پہلے، دوران اور بعد کی جانے والی کارروائیوں کی۔
امنِ عامہ کے قانون (ایم پی او) کے تحت گرفتار عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور تمام دیگر سیاسی قیدیوں اور گرفتار کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز احمد چوہدری، محمد جمال احسن خان، میاں غوث محمد، ثناء اللہ خان مستی خیل، داور خان کنڈی، ڈاکٹر امجد علی خان، فضل محمد خان، عادل خان بازئی، مولانا سید نسیم علی شاہ، محمد زبیر خان وزیر اور جنید اکبر خان سمیت دیگر ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاریوں، حراست اور بعض کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ناجائز طور پر گرفتار افراد کی فوری رہائی، لاپتہ افراد کے مقام اور خیریت کی معلومات فراہم کرنے، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقات اور پارلیمانی کارروائی میں شرکت کے حق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
عمر ایوب خان، شبلی فراز اور تحریکِ انصاف کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور عہدیداروں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات اور سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں۔ شفاف عدالتی کارروائی، اپیل کے مؤثر حق، تمام متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی، ناجائز نااہلیوں کے خاتمے اور پارلیمانی نشستوں کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سیاسی مخالفین، وکلا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں، جن میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ بھی شامل ہیں، کے خلاف غیر قانونی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور قانون کے غلط استعمال کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
5۔ دہشت گردی اور امن و امان
دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کرتے ہیں، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور پاکستان کے دفاع میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ان دانستہ کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہیں جن کے ذریعے عمران خان، تحریکِ انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تحریکِ انصاف کی جائز جمہوری اور آئینی جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ تقسیم پیدا کرنے والے سیاسی ہتھکنڈے قومی اتحاد کو کمزور کرتے ہیں، ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر کرتے ہیں اور ملک کو درپیش حقیقی سلامتی کے مسائل سے توجہ ہٹاتے ہیں۔
ملک میں امن کی بحالی کے لیے مؤثر اور مربوط اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں جو آئین، قانون کی بالادستی، صوبوں کے حقوق اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے مطابق ہوں۔
6۔ جمہوری اور آئینی حقوق
8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کی بحالی یا پورے ملک میں نئے، آزادانہ اور شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کی واپسی، عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے، پُرامن احتجاج اور قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق کی بحالی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔
اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ملک میں پائیدار سیاسی استحکام اور قومی اتحاد صرف آئین کی حکمرانی، جمہوری حکومت اور تمام صوبوں کے حقوق کے احترام سے ہی ممکن ہے۔
7۔ معاشی صورتحال
مہنگائی، بے روزگاری، روزگار اور کاروبار کے کم ہوتے مواقع اور عام شہریوں پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ مہنگائی پر قابو پانے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
8۔ پارٹی قیادت، مشاورت اور نظم و ضبط
عمران خان کی مقرر کردہ یا نامزد کردہ پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر باقاعدہ مقرر کردہ عہدیدار شامل ہیں۔
عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی، کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے متعلقہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
قومی اور صوبائی سطح پر پارلیمانی پارٹیوں سے باقاعدہ مشاورت اور سیاسی حکمتِ عملی اور فیصلوں میں ان کی آرا کو مناسب اہمیت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی جانب سے واضح طور پر بااختیار بنائی گئی قیادت کے پاس، ان کے اپنے اپنے دائرۂ اختیار کے مطابق، رہے گا۔
پارلیمانی پارٹیوں، سیاسی کمیٹیوں اور پارٹی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون مضبوط بنانے، پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے متعلقہ پارٹی فورمز پر حل کرنے کا عزم کرتے ہیں۔
مشترکہ پارلیمانی پارٹی اس قرارداد کے تمام مقاصد کے حصول کے لیے بااختیار پارٹی قیادت کی مشاورت سے پارلیمانی، سیاسی اور قانونی محاذوں پر مشترکہ اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتی ہے۔