Pakistan First سب سے پہلے پاکستان

Jacobabad/Multan, Pakistan
دوا
واقعی۔۔۔ یہ 3 غذائی عادات اپنا لیں👇آپ کا موروثی بیماریوں سمیت کئی بیماریوں سے بچنے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔ کاش ہمارے ہاں۔۔اچھی غذائی عادات کی اہمیت کو بھی سمجھا جائے۔آپ اپنے آپ اور اپنی اولاد سے محبت کا سب سے بڑا مظاہرہ یہ کر سکتے ہیں کہ"ان کی غذائی عادات اچھی کر دیں" کیونکہ وہ آپ کا DNA ہے جس نے نسلوں کو آگے لیکر بڑھنا ہے۔ (اسد آر چوہدری)
16
یا اللہ ہماری قوم کو بد عنوانی اور بد عنوانوں کے عذاب سے نجات عطا فرما
اس خاتون کی باتیں سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
1
6
138
Nida Lashari retweeted
پمز ہسپتال میں ہر لیول پر مافیاز ہیں۔ یہ بربادی ایک دن میں نہیں ہوئی۔وہاں کسی قابل بندے کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ پمز ہسپتال میں بہت سارے گروپس بنے ہوئے ہیں جو پاور کے حصول کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔نوجوان ڈاکٹرز نے پمز ہاوس جاب لینا ہو تو وہاں ریٹ دو لاکھ روپے ہے~~لے جائیں مجھے عدالت۔۔ پاکستان کے ٹاپ نیوروسرجن پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان جو پمز ہسپتال میں تیس برس تک سرو کرتے رہے ہیں، کے خوفناک انکشافات پروگرام لنک 👇 youtu.be/dkrKGKo_FCI?si=TFsO… via @YouTube @NeoNewsUR @fawadnb @NasrullahMalik1 @ @CMShehbaz @KamalMQM @A_Qadir_Patel @PalwashaKhan18 @sherryrehman @JunaidAkbarMNA @DrTariqFazal @AyazSadiq122 @KhawajaMAsif @KhSaad_Rafique @sherafzalmarwat @SanaMastiKhel @BarristerGohar @SyedAghaPPP @ShahNafisa @abdul_aleemkhan @MIshaqDar50 @HanifAbbasiN @SyedAliZafar1 @KamranM69045926
43
373
839
41,842
*بیٹوں کو اپنے قریب رکھنے کے آزمودہ طریقے* 🌸👧 1. *سنیں* - بیٹوں کی بات مکمل توجہ سے سنیں 2. *سمجھائیں* - ہر وقت ڈانٹنے کے بجائے پیار سے سمجھائیں 3. *وقت دیں* - روزانہ کچھ وقت صرف اُن کے ساتھ گزاریں 4. *تعریف کریں* - اُن کی چھوٹی کامیابی پر بھی تعریف کریں
1
2
7
136
14. *تحفظ دیں* - بیٹوں کو یہ احساس دلائیں کہ گھر اُن کی محفوظ جگہ ہے 15. *دعا + محبت* - ہر دن اُن کے لیے دعا کریں اور محبت کا اظہار کریں "مار سے نہیں، محبت سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں" ❤️ اللہ سب کے بیٹوں کے بھی نصیب اچھے کرے۔ آمین 🤲
1
1
12
ہم تو مر جائیں گے اے ارضِ وطن تجھےزندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک I love my Pakistan First of all Pakistan
1
1
7
132
سب سے پہلے پاکستان سندھ کے پی کے پنجاب بلوچستان بلتستان کشمیر سب ہماری پہچان
4
56
خوبصورت
ایکس پر اکثر بہت اچھی شاعری پڑھنے سننے کو ملتی ہے، لیکن ان چھوٹے بچوں کے بیت بازی کے اس مقابلے میں انتہائی اعلی کوالٹی کے اشعار سن کر دل عشق عشق کر اٹھا ۔ باذوق دوستوں کے لئیے ایک نادر وڈیو کلپ 👇
6
121
Nida Lashari retweeted
دو تین ہفتے اس آس میں گزر گئے کہ کیوں کہ ہم ایران اور امریکا کی صلح کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اب تمام عربے اور امریکا اور ایران ہمیں اربوں کھربوں ڈالروں سے لاد دیں گے ۔۔۔اب کیوں کہ جنگ پھر شروع ہو گئی ہے تو نئی امید یہ بن رہی ہے کہ امریکہ اور سعودیہ کو ایران سے لڑنے کے لیے ہماری افواج اور زمین کی ضرورت پڑے گی تو ہم کو اربوں کھربوں ڈالروں بطور فیس ملیں گے ۔۔پھر اگر میں ایسی سوچ رکھنے والے بد بختوں کو سالے کہتا ہوں تو کچھ احباب کہتے گالی نہ دیں ۔۔۔ گالی نہ دوں تو کیا جمیاں لوں سالوں کی۔۔۔ہیں۔۔؟؟؟۔
41
38
445
18,817
کرپٹ سسٹم کے منہ پر تماچہ
جس نے بھی یہ کیا ہے کمال کیا ہے😂😂😂 سلیب ریٹ ٹیرف پالیسی بنانے والے کے منہ پر زوردار تھپڑ ہے یہ ، اگر وہ بے غیرت محسوس کرے تو۔
5
89
،
موبائل پر ایک میسج آیا ، چند لمحوں میں شہری کا 1 کروڑ 13 بنک اکائونٹس میں ٹرانسفر.. بنک انکوائری میں چونکا دینے والے انکشافات ۔۔۔۔ کراچی میں یوناٹیڈ بنک لمٹیڈ کے موبائل فون ایپ کے ذریعے آن لائن فراڈ کا ہوشربا واقعہ جو آپ کے رونگھٹے کھڑے دے۔ 👇 youtu.be/sIHHST9JnIk?si=4wCH… via @YouTube @NeoNewsUR @fawadnb @NasrullahMalik1 @SenatorSaleem @StateBank_Pak @Financegovpk @MIshaqDar50 @BilalAKayani @FBRSpokesperson @PalwashaKhan18 @UBLDigital @UBLdigitalworld @Faysalbankltd @IslamicBank
3
89
قدرتی ٹھنڈک
صرف ایک چھوٹا سا پائپ، اور پورا گھر ٹھنڈا ٹھار ارتھ ایئر ٹنل سسٹم سے گرمی میں بھی ٹھنڈی ہوا حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ بجلی کا بل تقریباً صفر کے برابر رہتا ہے۔ 👇
1
56
آپ کو پہلے بھی بتایا تھا کہ UAE ویزوں کے معاملے میں بعض رپورٹس کے مطابق جدید اے آئی بیسڈ Palantir Gotham جیسے انٹیلی جنس اینالیٹکس پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں یہ پروگرام بہت متنازعہ بھی ہیں ۔ اس کا بانی Alex Krap ہے یہ عام سافٹ ویئر نہیں بلکہ دفاع، انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے لیے بنایا گیا نظام ہے جو مختلف ذرائع سے ڈیٹا اکٹھا کر کے اس کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ کسی فرد کے سفری ریکارڈ، ویزا ہسٹری، امیگریشن ڈیٹا، مالی لین دین، سوشل میڈیا، اوپن سورس معلومات اور دیگر ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کو آپس میں جوڑ کر رسک اسیسمنٹ تیار کرتا ہے۔ پھر انسانی افسر اسی تجزیے کو دیگر معلومات کے ساتھ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ امریکہ کے امیگریشن اداروں سمیت کئی سکیورٹی ادارے بھی Palantir کی مختلف ٹیکنالوجیز کو ڈیٹا اینالیٹکس اور کیس مینجمنٹ کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ویزا ریجیکشن اچانک نہی ہوتی اس کے پیچھے آپ کی مکمل ڈیجٹل جاسوسی ہوتی ہے
85
پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے کچھ سال قبل نیب نے کاروائی کرتے ہوئے کشمور کے فوڈ انسپیکٹر ڈی ايف سی ملک عرف محمد یوسف ملک کو گرفتار کیا بعد میں کشمور کے ایم پی اے روف کھوسو نے ان کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ نیب سکھر میں جمع کروایا کہ یہ بندہ مر گیا ابھی اس کو ایم پی اے پیپلز پارٹی کشمور روف کھوسو نے بحال کروا کر کشمور میں دوبارہ فوڈ انچارج کشمور تعینات کروایا اب دیکھیں پاکستان میں مرا ہوا بندہ زندہ ہو کر دوبارہ سے فوڈ انچارج بن گیا۔۔ جیئے بھٹو
2
88
🚨سبق۔🚨1 💥میں نے اپنے پندرہ سالہ بیٹے کو ہوٹل میں برتن دھونے کے کام پہ لگایا تو۔۔ سب نے کہا: ڈآکٹر صاحب بہت سخت باپ ہیں۔۔۔ لیکن 😓😓 میرا نام حارث ہے, ڈاکٹر حارث۔۔ عمر بیالیس سال۔ راولپنڈی میں ایک چھوٹا سا کلینک چلاتا ہوں۔ لوگ مجھے ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں۔ بعض عزت سے، بعض عادت سے، اور بعض اس لیے کہ میرے نام کے ساتھ ڈگری لگی ہوئی ہے۔ مگر میرے ہاتھوں کی لکیروں میں صرف نسخے نہیں لکھے۔ ان میں گرم پانی کی جلن بھی ہے۔ باسی سالن کی بو بھی ہے۔ اور وہ شرمندگی بھی، جو پہلی کمائی کے ساتھ آدمی کے اندر کہیں خاموشی سے پگھلتی ہے۔ میرا ایک بیٹا ہے۔ عمر۔ پندرہ سال کا۔ دبلا پتلا، لمبا، اچھے اسکول میں پڑھنے والا۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر دنیا کے بڑے بڑے مسئلوں پر ویڈیوز دیکھتا ہے، مگر گھر کا پنکھا بند کرنا بھول جاتا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے پلیٹ میں روٹی کا ٹکڑا چھوڑ دیتا ہے، جیسے روٹی بھی کوئی عام چیز ہو۔ جوتے کبھی کبھی آج بھی اس کی ماں صاف کر دیتی ہے، اور وہ شکریہ کہنے کے بجائے موبائل دیکھتے ہوئے صرف “ہاں امی” کہہ دیتا ہے۔ میری بیوی ثنا بہت خیال رکھنے والی عورت ہے۔ ماں کا دل شاید اسی مٹی سے بنا ہوتا ہے جس میں دعا زیادہ اور ڈر کم نہیں ہوتا۔ وہ عمر کو دیکھتی ہے تو اسے اب بھی وہی بچہ دکھائی دیتا ہے جو بخار میں اس کی انگلی پکڑ کر سوتا تھا۔ میں عمر کو دیکھتا ہوں تو مجھے اس کے اندر ایک ایسا لڑکا دکھائی دیتا ہے جو چند سال بعد دنیا کے سامنے اکیلا کھڑا ہو گا، اور دنیا ماں کی طرح اس کے ماتھے پر ہاتھ نہیں رکھے گی۔ گزشتہ شام میں کلینک سے واپس آیا تو ثنا کچن میں کھڑی روٹی اتار رہی تھی۔ عمر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا موبائل میں گم تھا۔ پلیٹ میں آدھی روٹی پڑی تھی، سالن کا چمچ کنارے پر سوکھ رہا تھا۔ میں نے ہاتھ دھوتے ہوئے کہا: “ثنا، نوید کا فون آیا تھا۔ اس کے ریستوران میں گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے ایک لڑکا چاہیے۔ دن کے تین چار گھنٹے۔ برتن ترتیب دینا، میزوں سے پلیٹیں اٹھانا، کچن میں ہلکی مدد۔ میں سوچ رہا تھا عمر کو بھیج دوں۔” ثنا کا ہاتھ رک گیا۔ توا گرم تھا، روٹی پھول رہی تھی، مگر اس کی آنکھیں میری طرف اٹھ گئیں۔ “عمر کو؟” “ہاں، صرف چند گھنٹے۔ نوید اپنا آدمی ہے۔ دستانے ہوں گے، ایپرن ہو گا، کوئی خطرناک کام نہیں۔” ثنا نے روٹی پلیٹ میں رکھی، آنچ دھیمی کی اور آہستہ سے بولی: “حارث، ریستوران کا کام آسان نہیں ہوتا۔ کچن میں گرمی ہوتی ہے، بدبو ہوتی ہے، کام کا دباؤ ہوتا ہے۔ برتن دھونا بہت سخت کام ہے۔ عموماً وہی لڑکا سب سے آخر میں نکلتا ہے۔ عمر ابھی بچہ ہے۔” میں نے عمر کی طرف دیکھا۔ وہ شاید سن رہا تھا، مگر موبائل کی اسکرین پر انگلی پھر بھی چل رہی تھی۔ ثنا کا جملہ میرے اندر اتر گیا۔ “سب سے آخر میں نکلتا ہے۔” جیسے کسی نے پرانی الماری کھول دی ہو، جس میں برسوں سے بند کپڑوں کے ساتھ کچھ بھولی ہوئی بوئیں بھی رکھی رہ گئی ہوں۔ میں ثنا پر غصہ کر سکتا تھا، مگر غصہ آیا نہیں۔ صرف ایک عجیب سی اداسی آئی۔ ثنا کا خوف غلط نہیں تھا۔ ماں بچے کے ہاتھ دیکھتی ہے کہ کہیں کٹ نہ جائیں۔ باپ کبھی کبھی ان ہاتھوں کے اندر چھپا ہوا آدمی دیکھتا ہے کہ کہیں وہ بننے سے پہلے نرم ہی نہ رہ جائے۔ ثنا چاہتی تھی عمر کے ہاتھ محفوظ رہیں۔ میں چاہتا تھا ان ہاتھوں کو کسی دوسرے کے پسینے کی قیمت معلوم ہو۔ رات کو کھانے کے بعد عمر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ثنا برتن سمیٹنے لگی۔ میں نے دیکھا، عمر اپنی پلیٹ وہیں چھوڑ گیا تھا۔ ثنا نے بغیر کچھ کہے وہ پلیٹ اٹھائی۔ اس پلیٹ میں روٹی کا آدھا ٹکڑا پڑا تھا۔ مجھے اچانک صدر کا وہ چھوٹا سا ریستوران یاد آ گیا۔ میں شاید بارہ تیرہ سال کا تھا۔ ابو کی نوکری چھوٹ گئی تھی۔ گھر میں پیسوں کی تنگی اتنی خاموش تھی کہ امی آٹا گوندتے ہوئے بھی حساب لگاتی رہتیں۔ میں نے چھٹیوں میں کام ڈھونڈنا شروع کیا۔ پہلے محلے میں اخبار ڈالے۔ فجر سے پہلے سائیکل نکالتا۔ سردیوں میں ہاتھ جم جاتے۔ گرمیوں میں پسینہ قمیض کے اندر نمک بن جاتا۔ پھر ایک دن ایک جاننے والے نے مجھے صدر کے ایک ریستوران میں لگا دیا۔ سامنے ہال میں روشنی تھی۔ پیچھے کچن میں بھاپ تھی۔ سامنے لوگ پلیٹیں سجا کر کھاتے تھے۔ پیچھے ہم ان پلیٹوں سے بچا ہوا سالن، مچھلی کی بو، چاول کے دانے اور چکنی ہڈیاں الگ کرتے تھے۔ برتن دھونا کوئی کام نہیں تھا۔ ایک چھوٹی سی جنگ تھی۔ گرم پانی، صابن، چکنائی، شور، جلدی، ڈانٹ، اور آخر میں وہ بدبو جو کپڑوں میں نہیں، آدمی کے غرور میں بس جاتی ہے۔ ایک شام گھر آیا تو امی نے دروازے پر ہی کہا: “حارث، پہلے نہا لو، بہت بو آ رہی ہے۔” میں نے جھنجھلا کر کہا: “امی، یہ کام انسانوں والا نہیں ہے۔” ابو چارپائی پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے اخبار نیچے کیا۔ میری طرف دیکھا۔ آواز بہت دھیمی تھی۔ جاری
2
72
ہم نے معاشرے کو بے رحمی سے تقسیم کیا ہے۔ غریبوں کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کیا ہے۔ اب ہم ایک دوسرے کا دکھ سکھ سمجھنے اور اکٹھے خوشیاں منانے کے قابل نہیں رہے۔
4
74