چودھری صاحب عجب کشمکش میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف PTI ہے، جس سے روزی روٹی، ویوز اور آئندہ وزارت کی امید وابستہ ہے، مگر اکثریت پشتونوں کی ہے، جن سے موصوف کو بغض ہے۔
دوسری طرف وہ ادارہ ہے جس کے خمیر میں موصوف رچے بسے ہیں، سو اس کے خلاف لب کشائی دشوار۔
اک طرف اُس کا گھر، اک طرف میکدہ
اگرچہ مذاکرات کا سلسہ ٹوٹنے سے مایوسی ہوئ ہے لیکن دونوں اطراف سے بات کرنے کے بعد مجھے یقین ہے کہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہوگا اور ہم انتہای اقدام کی طرف نہیں جائیں گے، دھشت گردی کے معاملے پر خیبر پختونخواہ حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہے صرف اس کی تفصیلات پر اتفاق ہونا ہے، ایسے معاملات میں ٹھہراؤ اور تدبر کے ساتھ ذاتی تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضاء میں کمی آئے، امید ہے کہ جونہی حکومت مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع کرتی ہے تمام نکات پر اتفاق ہو جائیگا اور ہم سیاسی حالات میں بڑھتی کشیدگی کو کم ہوتا دیکھیں گے، یہی پاکستان کا مفاد ہے!!