یہ جرنیل فرعون کی اولاد ہیں ان کا حکم مانوں نیں تو ملک کو وہ اگ میں جھونک دیتے ہیں ان کو اس ملک سے کوئی سروکار نیں ان کو بادشایہت چاہیے بس
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب میں گورنر کی جانب سے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا کر اجلاس منعقد کرنے کو غیر آئینی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت، اسمبلی اور کابینہ مکمل طور پر فعال ہیں اور وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی راستہ صرف عدم اعتماد ہے۔ حکومت اس معاملے پر ایڈووکیٹ جنرل سے قانونی رائے لے گی اور کسی غیر آئینی اقدام یا جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے وفاقی حکومت کی سکیورٹی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 22 سال میں ہزاروں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز، 22 بڑے فوجی آپریشنز اور 80 ہزار جانوں کی قربانیوں کے باوجود امن قائم نہیں ہوسکا، اس لیے موجودہ پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو صوبائی حکومت 100 دن میں امن قائم کرکے دکھا سکتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مضبوط بنا رہی ہے، جبکہ وفاق کی پالیسیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے قبائلی عوام کے مالی حقوق اور معاوضے اب بھی مکمل ادا نہیں ہوئے۔ انہوں نے قبائلی اضلاع کے مالی انضمام، این ایف سی شیئر اور صوبے کے واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بے گھر افراد کے لیے اب تک 21 ارب روپے فراہم کر چکی ہے۔
انہوں نے صوبائی وزیر اور کارکنوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں کو حکومت کو اشتعال دلانے کی کوشش قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ ہماری حکومت پرامن رہے گی اور صرف آئین و قانون کے دائرے میں کام کرے گی۔ انہوں نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کرنے کی ہدایت کی اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا