Fond of reading, poetry, history & politics. An ardent supporter of , still illusive, Civilian Supremacy in Pakistan.

UK
2024 کے الیکشن سے پہلے KP میں نگران حکومت اور مرکزی حکومت میں وزارتیں بھی ٹھیک ، مگر گورنر راج غلط، یعنی جب ہڈی ملے تب ٹھیک، نہ ملے تو غلط- ساری قوم کو مدرسے کے لونڈے سمجھتے ہیں مولانا صاحب۔ 2/2
Replying to @MoulanaOfficial
مولانا فضل الرحمان، مذہب کے نام پر سیاست میں بلیک میلنگ کرنے والا سب سے بڑا کردار ہے۔ MMA کی حکومت ٹھیک، مشرف کے دور میں آئینی ترامیم اور ابھی 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت بھی ٹھیک، بلوچستان سے قومی اسمبلی کی سیٹ بھی ٹھیک، کشمیر کمیٹی کی صدارت بھی ٹھیک، 1/2
11
M A K Tanoli retweeted
یہ سال 1995 کی بات ہے جب سخت سردیوں کے دن چل رہے تھے۔ صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں مقامی لوگوں نے ایک سفید کار دیکھی۔۔ کار بہت تیزی میں آئی رکی۔۔اور کچھ پھینک کر تیزی کے ساتھ نکل گئی۔ گاؤں والے تجسس میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کار والے نے کیا پھیکا ہوگا۔۔!! جب موقع پر پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں۔۔۔ سانسیں لیتی ہوئی نیلے رنگ کی فراک میں ملبوس حضرت حوا کی ایک بیٹی۔۔۔ جسکی عمر تقریبا دو سال تک تھی۔۔بھیڑ میں سے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اٹھاکر ہر طرف سے دیکھا خیریت دریافت کی اور گلے سے لگاکر کار کی طرف دیکھ کر پیچھا کرنے کا سوچا لیکن تب تک کار اپنی تیزی سے اٹھنے والی دھول میں گم نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔ سو منہ اور سو باتیں ہورہی تھیں۔۔۔لیکن وہ نیک دل انسان بچی اپنے گھر لایا۔۔اسکی اچھی پرورش کی۔۔اس گھر میں جوان ہوئی اور گھر بس گیا۔۔ پرورش کرنے والے بہت ساری نیکیاں لیکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بنت حوا کا امتحان شروع ہوا۔ پرورش کرنے والے والدین دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔اپنے ماں باپ کون تھے کیسے تھے؟ابھی کہاں کس حال میں ہونگے؟ بہن بھائی کیسے ہونگے؟ یہ سوالات اندر سے کھائے جارہے تھے۔ دوسری طرف بات بات پر گندے خون اور لاوارث جیسے الفاظ کے طعنے بھی ملنا شروع ہوگئے اللہ اس بہن پر رحم فرمائے۔ ہمیں یہ اسٹوری سن کر غالب گمان ہے کہ یہ اغ*واء کا کیس ہوگا۔ کسی نے کہیں سے اٹھاکر راستے میں بچی کو پھینک دیا ہوگا۔ آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے اس پوسٹ کو دنیا بھر میں خوب عام کریں۔ بچی کی جو تصویر دی گئی ہے یہ اس کے ملنے کے کچھ عرصے بعد کی ہے گھر والے دیکھ کر ضرور پہچانیں لیں گے۔ آپکا ایک شئیر ایک لاچار بہن کو اپنوں سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں۔ کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں +923162529829 یہ پوسٹ 16 اکتوبر 2026 کو بوقت صبح حرم مکی میں بیٹھ کر لکھی ہے۔خاندان ملنے کی دعا کے ساتھ ساتھ آپ سب کے لئے بھی بہت ساری دعائیں۔ #waliullahmaroof
35
1,271
1,592
52,691
ان حرام خوروں کے خمیر میں ہی تعصب ہے۔ اگر یہ تعصب سے لتھڑی بات نہ کرے تو نہ اس کی کوئی سیاسی میراث اور نہ کوئی حیثیت۔ اچھی بات یہ ہے کم ازکم خیبر پختون خواہ کے پشتون ان کی منفی سیاست کو عرصہ سے مسترد کرتے آئے ہیں ورنہ پچھلے 13 سال سے PTI ہمارے صوبے میں حکمران نہ ہوتی
افسوس ہوا۔ آپکی یہ باتیں پڑھ کر۔ میں سمجھتا تھا آپ کبھی تعصب کی بات نہیں کرو گے۔ مگر آپ بھی۔ میں لاہور میں ہو۔ کل ایک زنانہ مارکیٹ میں بیگم کے ساتھ گیا۔ majority پشتون دکانداروں کی تھی۔ میں چونکہ خود اس قوم سے تعلق رکھتا ہوں حیران رہ گیا کہ کوئ تعصب والی بات نہیں۔ میرے کوئٹہ کا ایک دوست یہیں رہائش پذیر ھے۔ اس نے کہا کہ آج تک کسی پنجابی سے کوئ تعصب کی بات نہیں سنی۔ یہ صرف آپ لوگ پشتونوں پر اپنی لیڈری جمانے کیلیئے انہیں دوسرے زبان سے نفرت دلاتے ہیں۔ آپکے تو دادا مرحوم نے بھی پاکستان میں دفنانے سے منع کردیا تھا۔
1
8
ایران کے حکمران خمینیوں کی 1980 سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ پاکستان کو خلیج اور مشرق وسطی سے دور رکھا جائے۔ اس کام کیلئے کبھی پاکستانی میڈیا میں اور اب سوشل میڈیا میں شوشے چھوڑے جاتے رہے ہیں، جیسے "پاکستان کو امہ کا سوچنا چاہئے"، اور "مسلموں کی لڑائی میں نہیں کودنا چاہئے"، اور "امریکہ اسرائیل کی جنگ ہے"، اور اگر پاکستان نہیں مانے تو "کرائے کی فوج"، اور سب سے اہم کہ اگر ایرانی نظام کے مفادات کو چیلنج کیا تو ہمارا ایک ہزار کیلومیٹر بارڈر آگ میں بدل سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو دور رکھ کر ایرانی نظام بھارت کیلئے خلیج اور مشرق وسطی میں جگہہ بناتا رہا اور اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا، پورا گوادر انڈین انٹیلیجنس کے حوالے کر دیا۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان کے خلیج، سعودیہ، اور یمن سے کلیدی سیاسی، معاشی، اور جیوسٹریٹیجک مفادات منسلک ہیں، اور ایران کو ان سب پر قابو ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ ایرانی نظام کو پاکستان کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے، جو وہ نہیں رکھ رہا۔ حیران کن ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ رکن محسن زنگنہ اور دوسرے اراكين پارلیمان پاکستان پر بات کر سکتے ہیں، طنز بھی کر سکتے ہیں، لیکن پاکستانی میڈیا کو منع ہے کہ وہ طنز تو دور، محض یہ سٹریٹیجک بات اور تجزیہ پیش نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی کر دے، تو فورا اس پر مذہب او فرقوں کے الزامات لگا دئیے جاتے ہیں۔ ساری دنیا کے ممالک کے بارے میں تجزیہ ہو سکتا ہے لیکن صرف ایک ملک کی پالیسیوں پر پاکستانی میڈیا میں تجزیہ کرنا کبائر اور گستاخیوں میں شمار ہوتا ہے۔ x.com/Pakintlnews/status/210…
🚨پاکستان کی ثالثی پر ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا طنز ’’یہاں تک کہ ان کی ٹویٹ بھی امریکیوں نے لکھی تھی۔‘‘ ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے سربراہ محسن زنگنہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے پاکستان کی ثالثی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی ٹویٹ بھی وٹکوف نے لکھی تھی۔
18
91
259
9,442
M A K Tanoli retweeted
ایک غریب دودھ والے کی بیٹی لائبہ اعجاز کو جس ایجنٹ نے دھوکہ دیا ہے اسے نشان عبرت بنانا سائبر کرائم اور محسن نقوی پر فرض ہے. معصوم لائبہ کو آگے پڑھنے کا شوق تھا لیکن جس لالچی ایجنٹ نے اپنے لالچ کی خاطر اس معصوم کے خواب چکنا چور کئے ہیں اسے کسی بھی صورت معاف نہیں کرنا چاہئے. اس دھوکے باز ایجنٹ کو گرفتار کریں اور اسی درخت پر پھندا لگا کر پھانسی دیں جہاں معصوم لائبہ نے خودکشی کی ہے.... ایسے ایجنٹس ناسور ہیں اور ان ناسوروں کے ساتھ ایسا سلوک ہی ہونا چاہئے.
8
64
129
2,476
افغانیوں کو جب تک منہ توڑ جواب نہیں ملتا تب تک ان کی عقل ٹھکانے نہیں آتی۔ یہ لاتوں کے بھوت، باتوں سے نہیں ماننے والے۔ 1947 سے لیکر 1970s تک پاکستان نے کوئی مجاہدین افغانستان نہیں بھیجے بلکہ غفار خان اور پختونستان کے حامی عناصر کابل میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے
افغانوں کی واحد شکایت یہ بنتی ہے کہ ہم نے چھوٹا تھپڑ مارا تو تم نے بڑا تھپڑ کیوں مارا۔ جس کا ہاتھ بڑا ہوتا ہے اس کا تھپڑ بھی بڑا پڑتا ہے۔
1
2
28
M A K Tanoli retweeted
Over many years, I have admired the Pakistani people: generous, resilient, compassionate & steadfast in the face of immense challenges. I am deeply honoured by Pakistan’s recognition today of the work of @UN. I am grateful & accept this award on behalf of the women & men of the United Nations – serving around the world & here in Pakistan.
748
494
2,284
142,941
M A K Tanoli retweeted
For over two decades in different roles, I have seen Pakistan as a source of solidarity & solutions. But what has always stood out to me is the resilience of the Pakistani people & their determination to build a better future. My message is simple: The @UN stands with the people of Pakistan. And I thank the Pakistani people for standing up for the world.
1,691
1,005
4,379
341,303
If Afghan listen to you then tell them to stop sponsoring terrorist activities inside Pakistan by supporting TTP. Economic benefits can only be reaped once you have peace with your neighbours.
🗓 On October 5, Moscow hosted the 8th Moscow Format Consultations on #Afghanistan. Participants reaffirmed that there is no alternative to equal, mutually beneficial cooperation with Kabul & supporting Afghanistan’s integration into the global economy. t.me/MFARussia/32576
1
16
بالکل صحیح کہا ہے آپ نے۔
ہر دور جو گزر جاتا ہے وہی اچھا لگتا ہے مگر یہ ناشکرگزار ہونے کی علامت ہے۔ الحمدللہ ہم میں سے نوے پچانوے فیصد اپنے باپ دادا سے کہیں زیادہ سہولتوں والی زندگیاں گزار رہے ہیں۔ پانچ پانچ مرلے کے گھروں کے باہر گاڑیاں کھڑی ہیں اور اندر تین تین اے سی لگے ہوئے ہیں۔ پرانے شہروں کے باہر بیس بیس میل تک کوٹھیوں کے جنگل بن چکے ہیں۔ برینڈ ز پر سیل میں ہماری عورتیں لمبی لمبی قطاروں میں کئی کئی ہزاروں کے سوٹ لینے کے لئے لائنوں میں لگی ہوتی ہیں۔ ہماری بھاری اکثریت بچوں کو سرکاری سکول نہیں بھیجتی۔ پانچ دس ہزار سے پچاس پچاس ہزار تک فیس دے دیتے ہیں۔ کپڑوں سے الماریاں بھری پڑی ہیں۔ ہاتھوں میں سمارٹ فون ہیں مگر کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ اللہ کا شکر ہے، ہمیشہ روتے ہیں، اپنے بڑوں کو گالیاں نکالتے ہیں۔ ہمیں ہمارے بڑوں نے وہ پاکستان دیا جو الحمدللہ اس خطے میں نہ ہندوستان ہے نہ ایران ہے نہ افغانستان۔ ہم نے آٹھ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ ہم سے آٹھ گنا بجٹ والا سعودی عرب ہم سے دفاعی معاہدہ کرتا ہے، کیوں؟ کیونکہ ہم نے اپنی طاقت اہلیت صلاحیت ثابت کی۔ یہ جو بیرون ملک بیٹھ کے بولتے ہیں ان کو ہم نے ہی اس قابل بنا کے بھیجا کہ وہاں مقابلہ کر سکیں، کما سکیں مگر یہ ناشکرگزار اولاد کی طرح یہی کہتے ہیں کہ وطن نے کیا دیا؟ الحمدللہ ہم دوسرے درجے کے شہری نہیں ہیں۔ ہمیں یہ ڈر نہیں کہ ہمیں کوئی ڈی پورٹ کر دے گا۔ کچھ ارب پتیوں کو چھوڑیں مگر ان سے ہٹ کے میرے سارے عزیز واقف امریکہ کینیڈا برطانیہ سے سستا اور اچھا علاج کروانے پاکستان آتے ہیں کیونکہ وہاں تو مہینوں ٹائم ہی نہیں ملتا۔ آج انگلینڈ میں ساڑھے سات سو روپے کا لیٹر پٹرول ہے اور یہاں موٹرسائیکل اور چھوٹی گاڑی والوں کے لیے والوں کے لئے 290 روپے لیٹر حالانکہ وہ ہم سے امیر ہیں اور ہم ایک ہی عالمی مارکیٹ سےایک ہی قیمت پر تیل خریدتے ہیں مگر مجال ہے کہ حکومت کو اچھا کہہ دیں کیونکہ ہماری دانش اور بہادری کی انتہا ہی اپنی حکومت کو گالی ہے۔ الحمدللہ اسی سسٹم میں میرے رکشے والوں کے بیٹے اور سبزی والوں کی بیٹیاں بورڈ ٹاپ کرتے ہیں۔ الحمدللہ میرے ستر سے نوے فیصد بیوروکریٹ جج اور جرنیل دیہات کے سکولوں سے اٹھ کے اس ملک کے فیصلہ ساز بنے ہیں۔ میرے ملک میں بہت کچھ اچھا ہے مگر کچھ ناشکرے اور تھڑدلے۔۔۔ وہ عذاب بنے ہوئے ہیں۔ 🙏
1
6
M A K Tanoli retweeted
میں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو بڑی غور سے دیکھا اور سنا ۔ اس پوری پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جہاں اور انتہائی اہم نقطوں پر روشنی ڈالی وہیں خیبر پختونخوا حکومت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لا تعلقی اور دانستہ لا پرواہی کو بھی اچھے طریقے سے اجاگر کیا میرے خیال میں دہشت گردی کے بیانیے کو الجھانے سےانکی کیا مراد تھی؟ پوری قوم جانتی ہے کہ فتنۃ الخوارج اور اس کے حامی، بشمول ٹی ٹی اے ریجیم، ریاست پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف اسکے برعکس کہتی ہے کے افغان ریجیم کو انگیج کرو کیونکہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ان سے مذاکرات و روابط قائم کرو، یہ رویہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو الجھاتا ہے۔ دوسری طرف ریاست نے ٹی ٹی پی کو فتنۃ الخوارج قرار دیا، مگر سہیل آفریدی اور ان کی جماعت نے آج تک انہیں فتنۃ الخوارج نہیں کہا اس سے اور کیا مطلب سمجھا جائے؟ اس کے علاوہ مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات پر دہشت گردوں کے خلاف جب بھی کارروائی ہوتی ہے تو اسے بھی ٹی ٹی اے/فتنۃ الخوارج کے بیانیے کی طرز پر ’’کولیٹرل ڈیمیج‘‘ کا رنگ دے دیا جاتا ہے اِسی طرح دہشت گردی کے خلاف شہید ہونے والے جوانوں کے جنازوں میں شرکت نہ کرنا اور ان کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی نہ کرنا، عوام میں یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ شاید جائز نہیں۔ ریاست کے خلاف ایسا بیانیہ ہر گز ناقابلِ قبول ہے اگر قومی ایکشن پلان اور اداروں کی استعدادِ کار کی بات کیا جائے تو ہمیں پتہ ہے کے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطلب پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط کرنا ہے، کمزور کرنا نہیں کیونکہ خیبر پختونخوا پولیس سکیورٹی فورسز کے ساتھکندھے سے کندھا ملا کر دہشت گردی کے خلاف اگلی صفوں میں لڑ رہی ہے لیکن بجائے پولیس کو مضبوط کرنے کے صوبائی حکومت پولیس ایکٹ 2026 جیسی قانون سازی سے پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کی استعداد کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ ریاستی اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے کمزور یا استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے ڈی جی آئی ایس پی آر کے معنی خیز الفاظ ’’ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے، ریاست ہے تو ہم سب ہیں‘‘ بھی انتہائی اہم ہیں کیونکہ خیبر پختونخوا میں موجودہ سیاسی روش اب محض سیاسی اختلاف یا سرگرمی تک محدود نہیں رہی۔ جب سیاسی طرزِ عمل صوبے کی سلامتی، عوام کے تحفظ اور بالآخر پاکستان کی قومی سلامتی کو متاثر کرنے لگے تو معاملہ صرف سیاست کا نہیں رہتا۔ ریاست کی سلامتی، عوام کا تحفظ اور ملک کا امن کسی سیاسی مقصد یا مصلحت پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتے اور نا ہی اس پر کوئی سیاست کی اجازت دی جا سکتی ہے
منقول "ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کے مختلف ہتھکنڈوں سے آپ دہشت گردی کی سہولت کاری میں ملوث ہو کر سیاست کے پیچھے نہیں چھپ سکتے “ہم دہشت گردی سے لڑ رہے ہیں آپ آگے کیوں نہیں آتے؟ ۔ آپ کیا بزدل ہیں یا دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں؟ دہشت گردی کے بیانیے میں کنفیوژن ڈالتے ہیں، پولیس کی کیپسٹی بلڈنگ کیوں نہیں کرتے، کی آپ ان سے ملے ہوئے ہیں؟” ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی کے پی کے صوبائی حکومت کی تقریباً چارج شیٹ پڑھ کر سنا دی ۔ بالکل واضح پیغام اب ایسا نہیں چلے گا " ہمارے لئے سب سے اہم یہ ہے کے ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے اور ریاست ہے تو میں اور آپ ہیں.
162
334
1,141
61,583
M A K Tanoli retweeted
بلوچستان میں عوام کی سوچ اور عمل میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے 👇 یکم اکتوبر شام 7 بجے ضلع جھل مگسی کے ڈیم روٹ پر 22 سے 25 دہشت گردوں نے جب مگسی قبیلے کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا تو نوابزادہ جعفر خان مگسی اپنے 100 سے زائد غیرت مند قبائلیوں کے ساتھ فوری طور پر کمک لے کر پہنچے ان بہادروں نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دہشت گرد پہاڑوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے الحمدللہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن عوام کی اس زبردست مزاحمت اور جرأت پر پورا پاکستان اپنے ان غیور اور بہادر بھائیوں کو سلام پیش کرتا ہے یہی بہادر بلوچ دہشت گردوں خلاف مزاحمت کریں گے تو بلوچستان کا امن جلد لوٹے گا اور بی ایل اے کا صفایا ہو گا
8
60
180
3,008
M A K Tanoli retweeted
ایک سوال جو رپلائی میں بار بار پوچھا جاتا ہے کہ “ آپ ایران بارے سخت موقف کیوں رکھتے ہیں “ تو اس کا جواب نہایت سادہ ہے کہ جب ایران نے پاکستان پر میزائل حملے کئے تو اس وقت مورخ اپنی مادر وطن کے ساتھ کھڑا تھا اور جب ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس وقت ایران ہندوستان کے ساتھ کھڑا تھا اور جب امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس وقت مورخ ایران کے ساتھ کھڑا تھا اور اس کے بعد ایران نے عرب ممالک پر جارحیت کی اور خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا تو عام عوام کو یہ سمجھ لگ گئی کہ امریکہ ایران لڑائی نورا فتیحی کشتی ہے اور آج ایران اپنی پراکسی حوثی دہشتگردوں ذریعے حرمین شریفین پر حملہ آور ہوا ہے اور پاکستان میں جواد نقوی جیسے لوگ حوثی باغیوں کے حملوں کا دفاع کررہے ہیں تو جب آپ سے پوچھا جائے کہ حرمین شریفین جیسی مقدس ترین دھرتی اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے تو آپکا جواب حرمین شریفین ہوگا اور اگر آپ مجوسی ہیں تو پھر آپکا انتخاب ایران ہوگا
96
806
2,613
31,401
M A K Tanoli retweeted
ایران: خلیجی مسلم ممالک کیلئے اسرائیل سے بڑا خطرہ ایران امریکی مفادات کی تکمیل کر رہا؟ امریکہ ایران کو کبھی ختم نہیں ہونے دے گا؟ اس جنگ میں بیانات نہیں ایکشن اور رزلٹس پر نظر رکھیں
90
334
827
17,772
ترکی نے ایرانی بینک کی تمام شاخیں اپنے ملک میں فوری طور پربند کردی ہیں ۔۔۔ جب تک تمام ملک انکے ساتھ یہ سلوک نہیں کریں گے یہ دہشتگردی سے باز نہیں آئیں گے بس ہمارے والے بھی تھوڑی عقل کو ہاتھ مار لیں روز ایک کھٹمل ادھر بھیج کر چاپلوسی کرتے رہتے ۔سر چڑھاتے
44
356
1,418
8,089
Replying to @drpezeshkian
You’re playing the victim card because you know most of your support in the West comes from the left .. But you’re contradicting yourself, because you’re doing the exact same thing you accuse America of doing. You shut down two of the most important shipping chokepoints on Earth, risking inflation, energy shortages, and even famine in vulnerable countries .. all to preserve your theocratic regime. So where exactly is the humanity you keep talking about?
6
15
264
17,714
M A K Tanoli retweeted
Replying to @drpezeshkian
The Islamic revolution seized control of Iran and use their wealth to fund terrorism around the world. The 47-year empire of sand collapses with the ghost of a hereditary supreme leader.. beyond pathetic
An Empire of Sand Ruhollah Khomeini stepped off a plane at Mehrabad 47 years ago, looked at the crowds weeping at his feet, and promised them a republic for the dispossessed. The dispossessed are still waiting, and the state he built has arrived at the end of its life in worse shape than anyone who cheered him that day could have imagined. The Islamic Republic of September 2026 is a military junta hiding in bunkers and signing its orders on clerical letterhead. It has handed the top job to an unelected son, the way a shah passes on a throne, which is the one thing the revolution of 1979 was supposed to make impossible. And it cannot even confirm that the son is alive. The Assembly of Experts ratified Mojtaba Khamenei 6 months ago in a remote vote taken behind blast doors. Since then the Iranian public has never heard his voice. State television has been reduced to circulating crude AI-generated video to stand in for him. He did not appear at his wife's burial. When millions were bussed to Mashhad to bury his father, his brothers walked behind the casket and he was not among them. In the seminaries of Qom and at the intelligence desks of foreign capitals, people who follow this closely say the same thing... the country is being run in the name of a man who is either lying wounded on a ventilator or already dead, with generals stamping his name onto decrees they wrote themselves. The security establishment that was supposed to guarantee the regime's survival has been killed off in 2 rounds. In June 2025, on a single Friday morning, the men who built the modern security state died over breakfast... Bagheri, Salami, Hajizadeh, Rashid. 8 months later, on the 10th of Ramadan, the bunker busters returned to Pasteur Street and killed their replacements, Mousavi, Pakpour, Shamkhani and Nasirzadeh. Nobody rallied the nation afterward. Parliament Speaker Mohammad Bagher Ghalibaf has privately admitted that the leadership sat on the Supreme Leader's death for 12 hours because they had just learned that their communications were compromised, that their underground shelters were visible to the enemy, and that they no longer controlled their own airspace. The regime then left the corpse of Ayatollah Ali Khamenei in a refrigerated mortuary for more than 4 months. It would not hold a funeral for its own leader, because a funeral would put the surviving leadership in one place in daylight, and everyone in Tehran understood what happens next when that occurs. This is the government of a country sitting on the second-largest natural gas reserves on earth, where ministries now work in the dark because the grid has failed. Motorists wait 5 hours for fuel because the refineries cannot supply it. The Energy Exchange has quietly set premium gasoline at 84,600 Tomans a liter, which for an ordinary commuter is a ruinous number. State propagandists answer this with clips of European pump prices. Economists inside the regime's own parliament are warning of "bloodshed at the pump," and Mojtaba's office has responded by forbidding state media from using the word "shortage." Since the regime cannot reach the aircraft above it, it has spent its violence on the people below it. Its answer to January's currency collapse was to fire machine guns at grocers in Fouladshahr, chase students through provincial alleys, and hang men in their 20s at dawn in Shahroud Prison while air-raid sirens covered the sound of the trapdoors. In Kurdistan the army's best commandos are stuck pursuing armed dissidents through mountain ravines. In Baluchestan its convoys get ambushed in the middle of the day. In the Gulf, the IRGC navy has taken to firing at Qatari gas tankers and Saudi crude haulers, which accomplishes nothing except to announce that the regime has run out of better ideas. The Axis of Resistance, a 40-year project costing many billions of dollars, was meant to ring the region with Iranian proxies. It has been reduced to wreckage from southern Lebanon to the Yemeni ports. What passes for foreign policy now is a fire sale to Beijing. China takes sanctioned Iranian oil at a steep discount, pays in yuan that cannot be converted, and gives Tehran a photograph at the Shanghai Cooperation Organization and a communiqué nobody reads. Police states with deep stocks of tear gas, rifles and working gallows do not fall on schedule. They decay from the inside until the shell cannot carry the weight of the apparatus sitting on it. What is different about Iran right now is that the people inside the shell are describing the decay themselves. Ministers go on live television to deny they have resigned. Generals are afraid to turn on their radios. Local administrators are rationing drinking water drawn from a riverbed that has gone dry. None of them are describing a state that still has something left to lose. The money is gone. The martyrs are gone. The commanders are in their graves. The mandate expired decades ago, and the throne is occupied by a cardboard silhouette. Look past the fresh banners of Mojtaba hanging over the debris of Pasteur Street. Look past the murals of Soleimani fading under the summer smog. What stands in Tehran today is an empire of sand. Every pillar that held it upright has turned to dust. The collapse already has a date. Nobody in the bunker knows it yet. Everybody in the streets is waiting for it.
2
15
189
6,519
No attacks on Israel which attacked Iran first on 28th Feb 2026. While Arabs are only targets of Iranian kissings and dron̈es. Israel dream is being fulfilled by Irani regime, which has become proxy of ISRAEL.
Replying to @lamps_apple
A very well written analytical essay. What most people believe that current onslaught of Iran over Saudis, Qatar and Kuwait by Iran and its Yemeni and Iraqi proxies, testifies the fact that even IRGC has been taken over by Israeli agents. No attacks over Israel which in
61
جن لوگوں کو بہت تکلیف ہے نہ افگانڈوطلبہ کو لے کر اور وہ جو کہہ رہے ہیں یہ لوگ افگانڈوستان میں جا کر پاکستان کے سفیر بنتے ۔ پہلی بات تو یہ لوگ افگانڈوستان واپس جاتے ہی نہیں ہیں۔۔۔اور یہ افگانڈواسلام آباد کے Shifa Hospitalمیں ہوتاہے۔۔ اس افگانڈو کے کمنٹس چیک کرو اور افگانڈو پرچم۔۔۔
49
201
463
29,257