میں وہ قوسِ قزح ہوں جو بارش کے آنسوؤں کے بعد سورج کی روشنی میں چمکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد سے کامل یقین تک کا سفر

دنیاسےپرے
میرےپاس کبھی کوئی اتنی قیمتی نایاب اوراتنی خاص چیزتھی ہی نہیں جس سےتمہیں تشبیح دیتی تم تینوں خود میں اکلوتےہوبہت قیمتی بہت نایاب بہت خاص میری ترجیحات میں اول💙 #ماشااللہ سمجھےنہ کوئی سرسری ساتذکرہ تمہیں بھرپور ماجرا ہوتم حوالہ نہیں ہو #AbbasKhan251_birthday @AbbasKhan251
24
196
119
24,640
ہمیں محبتوں کی چھاوں میں جینا تھا ہمیں نفرتوں کی دھوپ کے حوالے کیا گیا🙂
3
5
38
حمزہ تراب ☕ retweeted
آہستہ چل اے زندگی کئی قرض چکانا باقی ہے
2
2
19
370
حمزہ تراب ☕ retweeted
MaiN khUbsorAt hu AP suB kyA paTa naHi frEe bthAi thE sOchA AP soB kO byTA dO 😄😀 #متاعِ_دل
6
7
8
92
حمزہ تراب ☕ retweeted
بہت عزیز ہیں دل کو یہ زخم زخم رتیں انہی رتوں میں نکھرتی ہے تیرے ہجر کی شام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام بخیر Good evening
25
17
46
923
حمزہ تراب ☕ retweeted
مسئلہ تو سارا سکون کا ہے!!! زندگی تو ہر کوئ ــــــــ گزار رہا ہے 🥀🍂
2
5
9
126
حمزہ تراب ☕ retweeted
محسوس کیجیئے جذبات کو.. آپ کے واہ سے متاثر نہیں ہوں میں
1
18
199
حمزہ تراب ☕ retweeted
خود کلامی میں کتنی وحشت ہے، کوئی دشمن ہو رو برو جیسے ۔۔ (جون ایلیاء) #متاعِ_دل
39
30
93
911
حمزہ تراب ☕ retweeted
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں #متاعِ_دل
🌸 السلام علیکم 🌸 آج کی ایکٹیویٹی آپ سب کے نام اپنی محبت، اپنے الفاظ اور اپنی خوبصورت سوچ کے ساتھ اس پوسٹ پر کمنٹ ضرور کیجئے۔ آئیں، کمنٹس میں اپنی حاضری لگائیں اور محفلِ متاعِ دل کو مزید خوبصورت بنائیں۔ آپ کا ایک کمنٹ، ہماری محفل کی رونق ہے @ChShanawar8 #متاعِ_دل
2
4
4
70
حمزہ تراب ☕ retweeted
تحریر نمبر 4 موضوع: بھیڑیا از قلم: حمزہ تراب @Mashaim15 جنگل کا ایک عالمگیر قانون ہے جسے وہاں کا ہر باشندہ ہر درندہ اور ہر چرند پرند اچھی طرح جانتا اور مانتا ہے جنگل کے اپنے اصول ہوتے ہیں جن میں ناانصافی یا دھوکے کا عنصر نہیں ہوتا جنگل کی ایسی ہی مخلوق میں ایک مخلوق بھیڑیا ہے یہ بڑا ہی اصول پرست جانور ہے بھیڑیا جب رات کی سیاہی اور اندھیرے میں چیختا ہے جب اس کی آواز دور دور تک سنائی دیتی ہے تو اس کی پکار میں اپنے گروہ کے لیے کسی ناگہانی خطرے کی اطلاع ہوتی ہے یا پھر کسی شکار کی تقسیم کا دعوت نامہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے دیگر ساتھیثکے ساتھ مل بانٹ کے کھانے کو ترجیح دے رہا ہوتا ہے وہ کبھی اپنے ساتھی اپنے خونی رشتوں اپنے قبیلے یا اپنے کمزور اور بے بس بچے پر دانت نہیں گاڑتا اگر اسے بھوک تڑپا رہی ہو تب بھی وہ اپنی سرحد سے باہر خطرہ مول لیتا ہے غیروں کے سامنے اپنے جسم کو زخمی کرواتا ہے خون بہاتا ہے تاکہ اپنی بھوک مٹا سکے مگر اپنے قبیلے کے لیے ایک مضبوط اور امان کا سایہ بنا رہتا ہے جنگل کے درندے اصول کے پکے اور اپنے فطری ضابطوں کے پابند ہوتے ہیں ان کی بھوک ان کے اپنے خون اور اپنے رشتوں کی حرمت سے بڑی نہیں ہوتی۔ مگر افسوس اشرف المخلوقات کہلانے والے اس گنجان معاشرے میں تہذیب اور شائستگی کے پردے کے پیچھے ایک عجیب الخلقت نسل جنم لے چکی ہے "" انسانی بھیڑیے"" یہ وہ مخلوق ہے جس کے پاس انسان نما دلکش چہرہ نہایت نرم و شیریں باتیں اور ظاہری ہمدردی کا ایک مضبوط نقاب ہوتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔ اس مسکراتے چہرے اور وجود کے اندر ایک ایسا خونخوار اور بے رحم بھیڑیا پنہاں ہوتا ہے جس کا کوئی دین کوئی مذہب اور کوئی اصول نہیں ہوتا یہ جنگل کے بھیڑیے سے کہیں زیادہ خطرناک اور مہلک ہوتے ہیں جنگل کا بھیڑیا جب حملہ کرتا ہے تو وہ گھراؤ کرتا وہ غراہٹ اور للکار کے ساتھ سامنے سے آتا ہے جسکی بدولت اکثر شکار کو سنبھلنے یا جان بچا کر بھاگنے کا موقع مل جاتا ہے جبکہ انسانی بھیڑیا شفقت کی مسکراہٹ خیر خواہی کی دلاسوں اور محبت کی لوریوں کے ساتھ بڑے چپکے سے پیچھے سے وار کرتا اور بڑی خاموشی سے جڑیں کاٹتا ہے اس کا حملہ اکثر بے خبری میں ہوتا ہے اور یہی بے خبری انسان کو سنبھلنے کا پھر موقع نہیں دیتی یہ انسانی بھیڑیا اپنے شکار کو دور کسی بیابان انجان گلیوں یا پرائے لوگوں میں نہیں ڈھونڈتا کیونکہ وہ اچھی طرح سے اپنی کمزوری کو جانتا جانتا وہ جانتا ہے کہ کسی مضبوط گروہ کا جوابی وار پھر اسکی قوت سے کہیں بڑھ کے ہو گا اس لیے تو وہ اپنی خونخوار نظریں اپنے ہی خاندان اپنے ہی ساتھیوں کے گروہ اپنے ہی گھر اور اپنے ہی سائبان پر جماتا ہے وہ اپنی ناکامی اپنی کمزوری کا بدلہ لینے کی خاطر وہ اس چراغ کو بجھانے کی درپے کوشش کرتا ہے جس کی روشنی سے پورا گھر اور پورا معاشرہ روشن ہو سکتا وہ اپنے شکار کے لیے کسی ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جو بے ساختہ اور خلوص سے محبت کرنے والا ہو جس کا دل شیشے کی طرح شفاف آئینے کی طرح صاف اور اعتماد سے لبریز ہو وہ اس شخص کی معصومیت اس کی سادگی اور اس کے بے ساختہ اعتماد کو اس کی سب سے بڑی کمزوری اور عیب سمجھ کر اس پر کاری وار کرتا ہے نجانے کتنے ایسے روشن خیال، باصلاحیت اور بلند حوصلہ روحوں کے سامنے پوری زندگی کا وسیع کینوس کھلا پڑا ہوتا ان کے پاس رنگین خواب ہوتے ہیں اپنے بل بوتے پر کچھ کر دکھانے کا جنون ہوتا اور اپنے پیاروں کے لیے ایک مضبوط اور توانا سہارا بننے کی تڑپ ہوتی ہے وہ اپنی زندگیوں کے سنہرے اور قیمتی سالوں کو تراش کر ایک ایسا آشیانہ بنانا چاہتی ہیں جہاں سب کو سکون تحفظ اور خوشی مل سکے مگر انھیں کیا معلوم ہوتا کہ جس چھت کے نیچے وہ خود کو سب سے زیادہ محفوظ پرسکون اور بے خوف سمجھ رہی ہیں وہاں ایک خونخوار درندہ گھات لگائے بیٹھا ہے ایک ایسا درندہ جس نے رشتے کا مخلص دوست کا یا کسی خیر خواہ سرپرست کا لباس پہن رکھا ہوتا ہے ایسے انسانی بھیڑیے پہلے اپنے شکار کا مکمل اعتماد حاصل کرتے ہیں وہ اس کے خوابوں کی تعریف کرتے ہے اس کی صلاحیتوں کو سراہتا ہیں اور انھیں یہ باور کراتا ہے کہ وہی انکے کے واحد سچے ہمدرد ہیں لیکن یہ تمام تر ہمدردی صرف اس لیے ہوتی ہے تاکہ شکار اپنے دفاع کے تمام حصار ختم کر دے اپنی تمام ڈھالیں پھینک دے اور خود کو مکمل طور پر ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دے جیسے ہی اعتماد کا یہ جال مکمل ہوتا ہے اُن بھیڑیوں کے اصل دانت باہر نکل آتے ہیں ایسے بھیڑئیے اُن روحوں کا اعتماد نوچ ڈالتے ہیں اُن کے خواب نوچ ڈالتے ہیں اُن کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لیتے ہیں اُن روحوں کی ذہنی صلاحیتوں کو نوچ ڈالتے ہیں اُن کے خوابوں اور اُن کے پاکیزہ جذبات کو نوچ ڈالتے ہیں اور یہ صرف اور صرف اپنی انا اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اُن روحوں کو تھکن اور محرومی سے نوازتے ہیں یہ بھیڑئیے اُن روحوں کو مسلسل احساس دلاتےہیں کہ وہ کمزور ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتیں، اِن کی کوئی حیثیت نہیں اور وہ اِن بھیڑیوں کے بغیر ادھوری ہیں۔ اِن بھیڑیوں کا یہ نفسیاتی تشدد اُن روحوں کے لیے زنجیروں کا کام کرتا یہ بھیڑئیے اُن روحوں کو اس قدر مفلوج کر دیتے ہیں کہ وہ ان کو توڑ کر بھاگنے کی ہمت نہیں جتا پاتیں پھر اِن بھیڑیوں کا یہ حملہ محض جسمانی یا معاشی نہیں ہوتا بلکہ یہ روحوں کا قتلِ عام ہوتا ان بھیڑیوں کا یہ وار ایک زندہ روح کی اندرونی دنیا کو ویران کرنے کا طریقہ واردات ہوتا یہ بھیڑئیے اُن روحوں کے وہ سال جو زندگی کی عظیم عمارت کی مضبوط بنیاد بن سکتے تھے زنگ آلود کر دیتے ہیں وہ وقت جب اُن روحوں نے کھلے آسمان میں اڑان بھرنی ہوتی ہے ان کے پروں کو اتنی بے رحمی اور سفاکی سے کاٹا جاتا کہ آسمان تو دور کی بات، ان کے لیے زمین پر سیدھا کھڑا ہونا اور چلنا بھی دشوار ہو جاتا انسانی بھیڑیے کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ صرف ماضی کو نہیں چھینتا بلکہ وہ انسان سے اس کا مستقبل اس کی امید اور اس کی جینے کی چاہ بھی چھین لیتا ہے ہر وہ شخص جو آپ کے خاندان آپ کے گروہ یا آپ کے قریبی حلقے کا حصہ ہے ضروری نہیں کہ وہ آپ کا خیر خواہ ہو۔ رشتے محض خون نسب یا نام کے نہیں ہوتے رشتے نیت خلوص اور عمل کے ہوتے ہیں جو شخص آپ کی ترقی سے اندر ہی اندر حسد پالے جو آپ کی معصومیت کو آپ کی کمزوری سمجھے جو آپ کو آگے بڑھنے سے روکے وہ انسان کے روپ میں بھیڑیا ہے اسے پہچانیے اور اس سے فاصلہ اختیار کیجیے۔ یاد رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اِن انسانی بھیڑیوں کی خوراک آپ کا اندھا اعتماد ہے کسی پر بھی اتنا اندھا اعتماد نہ کیجیے کہ آپ اپنے خوابوں اپنی صلاحیتوں اپنے معاشی اختیارات اور اپنی زندگی کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں تھما دیں اپنی زندگی میں مضبوط حد بندیاں قائم کیجیے کوئی کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو، اسے اپنی خودداری اور اپنے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت ہرگز نہ دیں انسانی بھیڑیے کی سب سے بڑی فتح یہ ہوتی ہے کہ وہ آپ کو ہمیشہ کے لیے بے بس مظلوم اور اپاہج بنا کر رکھ دے ایسے بھیڑیوں سے سب سے بڑا انتقام یہ ہے کہ آپ دوبارہ کھڑے ہوں اپنے ٹوٹے ہوئے پروں کے ساتھ اڑنا سیکھیں اور اپنی بکھری ہوئی زندگی کو پہلے سے زیادہ مضبوطی سے تراشیں اگر جنگل کا بھیڑیا سب سے خونخوار جانور ہے تو وہ کم از کم ایک جاہل درندہ ہے جو اپنی فطرت کے مطابق جیتا ہے لیکن۔۔۔۔۔۔ جو شخص انسان ہو کر اشرف المخلوقات کا تاج پہن کر اپنے ہی گروہ اپنے ہی گھر اور اپنے ہی پیاروں کو نوچ کھائے وہ اس کائنات کی سب سے بدتر ذلیل اور بھیانک مخلوق ہے ایسے انسانی بھیڑیے شاید عارضی طور پر خود کو فتح یاب سمجھیں شاید وہ یہ سوچیں کہ انہوں نے ایک معصوم روح کو اپنے مفاد کی خاطر نوچ لیا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قدرت کا نظام بے نیاز ہے۔ اس مظلوم اور بے بس روح کو دیے ہوئے زخموں سے اٹھنے والی آہ رات کی تنہائیوں میں بہنے والے آنسو اور بکھری ہوئی سانسیں کبھی ضائع نہیں جاتیں مکافاتِ عمل کا پہیہ آہستہ ضرور چلتا ہے مگر یہ پستا بہت باریک ہے قدرت کا انصاف دیر سے ہی سہی مگر بالکل سچا اور کامل ہوتا ہے ہر انسانی بھیڑیے کو اس کے کیے کا حساب دینا پڑتا ہے اور کائنات کا قاضی ہر درندے کو اس کے منطقی عبرت ناک اور دردناک انجام تک ضرور پہنچاتا ہے یاد رہے !!!!!! زندگی کا اصل مقصد ان بھیڑیوں کے دیے گئے زخموں کے ساتھ مرنا نہیں بلکہ ان زخموں کو نشانِ حیدر بنا کر دوبارہ جی اٹھنا ہے۔
قرطاس تحریری مقابلہ نمبر 8 موضوع: بھیڑیا اے خیال کے شکاریو! "قرطاس" ایک بار پھر قلم کاروں، سوچ کے شناوروں اور نو آموز مسافروں کی تخلیقی توانائی کو مہمیز دینے کے لیے میدان سجا چکا ہے! ہمارا مقصد ہر اس دل کی آواز بننا ہے جو کاغذ پر دھڑکنا جانتا ہو۔ ہم لکیر کے فقیر قواعد یا روایتی لغزشوں سے بڑھ کر آپ کے انوکھے زاویۂ نظر، شدتِ احساس، استعاراتی ندرت اور تخلیقی جرأت کو مانتے ہیں۔ چاہے یہ علامت ہو تنہائی کی، درندگی کی، جبلتِ بقا کی، آزادی کی یا معاشرتی سفاکی کی اپنے قلم کو آزادی دیجیے اور لفظوں کا روپ بخشیے! مقابلے کے بنیادی اصول و ضوابط اکاؤنٹ اور فالو: انتظامیہ کے آفیشل ہینڈل (@QirtasWrites) کو فالو کرنا لازمی ہے تاکہ مقابلے سے متعلق تمام اعلانات اور نتائج آپ تک بروقت پہنچ سکیں۔ اکاؤنٹ کی قسم: امیدوار کی پروفائل "پبلک" ہونی چاہیے؛ پرائیویٹ اکاؤنٹس کی تخلیقات جیوری تک نہیں پہنچ پاتیں۔ تخلیق کی اصلیت: تحریر مکمل طور پر غیر مطبوعہ اور صرف امیدوار کی اپنی فکر کی پیداوار ہو۔ سرقہ و نقل: کسی بھی دوسری تحریر کی چربہ سازی، سرقہ یا نقل ثابت ہونے پر فوری اور غیر مشروط نااہلی (Disqualification) ہوگی۔ موضوع کی گرفت: تحریر دیئے گئے مرکزی موضوع (بھیڑیا) کے گرد گھومتی ہو خواہ انداز علامتی ہو، فکری یا داستانی۔ اخلاقی تقاضے: مذہبی، لسانی، سیاسی تعصب، نفرت انگیزی یا غیر اخلاقی مواد پر مبنی تحاریر قطعی قابلِ قبول نہیں۔ نتائج کا معیار: ججز کا پینل تحریروں کو تخیل کی تازگی، موضوع پر گرفت، اسلوبِ بیان اور احساس کی سچائی کی بنیاد پر پرکھے گا۔ حتمی فیصلہ: جیوری کا فیصلہ حتمی اور ناقابلِ تنسیخ ہوگا جسے کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ آخری تاریخ: تحریر جمع کروانے کی آخری مہلت 20 اکتوبر 2026 (رات 12:00 بجے، بوقت پاکستان) ہے۔ ارسال و ٹیگ: اپنی تحریر پوسٹ کر کے ٹیگ کریں: @QirtasWrites
17
15
19
564
حمزہ تراب ☕ retweeted
میں نے جانوروں کو علاقے یا مادہ کے لئے یدھ کرتے دیکھا ہے . . زیادہ تر جانور ایک۔ آدھ ٹکر میں ہی فیصلہ کرتے ہیں۔ ایک بھاگ جاتا ہے دوسرا rule کرتا ہے . . اب بھاگنے والا بزدل نہیں۔ زندگی اس کے لئے امکانات سے بھری ہوتی ہے . . یہاں میں نے نوٹ کیا کہ جانوروں کی جبلت مضبوط ہے۔ وہ ایک دوسرے کو زیادہ زخمی نہیں کرنا چاہتے . . کیوں کہ جنگل کی زندگی میں زخمی ہونے کا مطلب موت ہے۔ اس لئے وہ زور آزما کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ یہ انسان ہیں جو زیادہ تر خود سر ہیں اور مرنے مارنے پہ تل جاتے ہیں۔
8
15
33
700
حمزہ تراب ☕ retweeted
تم میرا وہ انتظار ہو جسے میں نے خط میں لکھ کر اپنی آنکھوں کے دریا میں بہا دیا ہے میں نہیں چاہتی کہ تمھارے نام کے ساتھ میری تنہائی کے نقش کبھی پائے جائیں اور یہ کہا جائے کہ کسی عورت کی پرچھائی میں تمھارے پاؤں کے نشان کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۰۰ 
51
42
393
حمزہ تراب ☕ retweeted
کبھی کبھی ہمیں کسی شخص کی واپسی نہیں چاہیے ہوتی ہم صرف چاہتے ہیں کہ وہ یہ مان لےاُس نے ہمیں واقعی تکلیف دی تھی ہمیں بس اپنی اذیت کی قیمت چاہیے ہوتی جو ہم نے اس کے بدلے میں چکائی واپسی کا سفر اب ناممکن ہو چکا ہوتا لیکن دل کی تسلی کیلئےصرف ایک جملہ ہاں، میں نےتمہارا دل دکھایا تھا🙂
4
4
55
حمزہ تراب ☕ retweeted
محبت کے دِنوں کی یادیں لیتے آنا ! تیرے ہجر میں جو کاٹی راتیں ، لیتے آنا ! کبھی جو پَلٹو تو مکمل پلٹنا ! خود بھی آنا ، مجھے بھی لیتے آنا ، __! 🔥🖤
6
17
226
حمزہ تراب ☕ retweeted
کسی ایسے شخص کیلئے ناممکن کام بالکل بھی نا کریں جو آپ کیلئے ممکن کام کرنے سے بھی گریزاں ہو۔
1
12
76
1,240
حمزہ تراب ☕ retweeted
تضادِ قول و عمل اور فریب لہجوں میں یہ لوگ دیکھنے میں ہی تھے انتہا کے خراب
4
7
253
حمزہ تراب ☕ retweeted
ویسے وہ شخص میرے حصے میں آ جاتا اگر کون سے دنیا کے کاموں میں خلل پڑنا تھا...!
13
15
85
1,262
حمزہ تراب ☕ retweeted
ان کو ہوتا ہے کسی اور سہارے کا یقین لوگ یونہی تو نہیں ہاتھ چھڑاتے ہوں گے
2
26
143
3,478
حمزہ تراب ☕ retweeted
انسانیت وہ چیز ہے جو دشمن کو بھی سہارا دینے پر مجبور کر دیتا ہے اور احساس وہ چیز ہے جس میں غیروں کا دُکھ بھی آپ کو اپنا لگتا ہے۔*
1
9
46
947
حمزہ تراب ☕ retweeted
بارشیں یوں اچانک ہوئیں💕😍
6
1
14
357