ہاتھ سے ناپتا ہوں دردکی گہرائی کو
یہ نیا کھیل ملا ہےمری تنہائی کو
تھا جو سینےمیں چراغ دل پر خوں نہ رہا
چاٹیے بیٹھ کےاب صبر و شکیبائی کو
دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں
کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو
خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن
تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو